گنبدِ خضرا۔۔۔ آرام گاہ نبویؐ

گنبدِ خضرا۔۔۔ آرام گاہ نبویؐ

رسولؐ اللہ نے ہجرت کے بعد 8ربیع الاول 13نبوت بمطابق23ستمبر622 ھ قبا میں نزولِ اجلال فرمایا اور چند روز یہاں قیام فرما کر بروز جمعہ یثرب میں جلوہ افروز ہوئے۔ حضورؐ کی تشریف آوری پر مسجد نبوی کی تعمیر کے ساتھ دو حجرے بھی تعمیر کئے گئے جن میں ایک حجرہ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کا گھر بنا، معروف مورخ المسعودی کے مطابق اس حجرہ مقدسہ کا طول مشرق تا مغرب 8میٹر اور عرض5،5میٹر ہے اور یہ کچی اینٹوں، کھجور کے تنے اور چھال سے تعمیر کیا گیا اور پردہ کے لئے دروازہ پر اونی ٹاٹ لٹکایا گیا۔

آغاز مرض کے بعد آخری ہفتہ رحمۃ للعالمین ؐ نے اِس حجرہ مقدمہ میں پورا فرمایا اور اسی حجرہ عالیہ میں12ربیع الاول11ھ آپؐ کے جسمِ اطہر سے روحِ انور پرواز کرگئی، اس حجرہ مبارکہ میں آپ ؐ کو غسل و کفن دیا گیا اور اِسی حجرہ میں پہلے خانوادہ (بنو ہاشم) نے پھر مہاجرین نے پھر انصار کے مردوں نے اور عورتوں نے پھر بچوں نے بغیر کسی امام کے انفرادی جنازہ ادا کیا،درود پڑھا۔ جگہ کی تنگی کے باعث لوگ چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں اندر جاتے اور یہ سلسلہ لگا تار شب و روز جاری رہا اِس لئے انتقال کے32گھنٹے بعد اس حجرہ مقدمہ میں آپؐ کے جسمِ اطہر کو لحدِ انور میں لٹایا گیا، یہ حجرۂ مبارک ’’عند اللہ خیر البقاع‘‘ یعنی زمین کا بہترین ٹکڑا ہے، جہاں شب و روز ملائکہ رحمت کا نزول جاری ہے۔

اس تدفین کے بعد بھی سیدہ عائشہ صدیقہؓ بدستور اِسی حجر�ۂمبارکہ میں قیام پذیر رہیں اور آپ میں اور مرقدِ مقدسہ کے درمیان کوئی پردہ نہ تھا، 13ھ میں خلیفۃ الرسول سیدنا ابکر صدیقؓ کا انتقال ہوا اور آپ کو وصیت کے مطابق رسولؐ اللہ کے پہلو میں دفن کیا گیا،23ھ میں خلیفہ دوم سیدنا عمر فاروقؓ پر حملہ ہوا اور وہ شدید زخمی ہوئے آپ نے اپنے فرزند عبداللہ بن عمرؓ کو بُلا کر کہا کہ آپ اُم المومنین عائشہؓ کے پاس جاؤ اور عرض کرو کہ عمرؓ آپ سے اجازت کی درخواست کرتا ہے کہ رسولؐ اللہ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ عبداللہؓ سیدہ عائشہؓ کے پاس پہنچے تو وہ رُو رہی تھیں، حضرت عمرؓ کا سلام کہا اور پیغام پہنچایا۔ سیدہؓ نے کہا کہ اس جگہ کو مَیں اپنے لئے محفوظ رکھنا چاہتی تھی، لیکن آج میں عمرؓ کو اپنے آپ پر ترجیح دوں گی،چنانچہ سیدنا عمر فاروقؓ کو بھی حضورؐ کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

حجرۂ مبارکہ میں قبورِ مقدسہ کی ترتیب کے بارے میں بہت روایات ملتی ہیں، لیکن سیدنا قاسم بن محمد بن ابو بکر صدیقؓ کی روایت پر جمہور کو اتفاق ہے، ان کا بیان ہے کہ مَیں سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اماں جان مجھے رسولؐ اللہ اور آپ کے جانثاروں کی قبور دکھایئے۔ چنانچہ مجھے آپ نے تین مقدس قبور دکھائیں ان قبول پر چھوٹی چھوٹی سرخ کنکریاں پڑی ہوئی تھیں، پہلی قبر مبارک حضورؐ کی ہے اور دوسری قبر سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی اسی طرح کہ اُن کا سر مبارک حضور انورؐ کے شانہ مبارک کے برابر میں ہے اور حضرت عمر فاروقؓ کا سر مبارک حضورؐ کے پاؤں مبارک کے برابر ہے۔ سیدنا عمر فاروقؓ کے قدم حجرہ کی دیوار شرقی تک پہنچ گئے تھے اور لمبائی میں جگہ کی تنگی کے باعث پاؤں کی جگہ دیوار کی بنیاد کھود کر بنائی گئی تھی۔

حضرت عائشہ صدیقہؓ کا بیان ہے کہ حضرت عمرؓ کی تدفین سے پیشتر مَیں یہاں بے تکلفانہ رہا کرتی تھی، سرڈھانپنے یا کھلا رہ جانے کا خیال نہیں رکھتی تھی، مَیں سمجھتی تھی کہ یہاں میرے شوہر ہیں یا میرے باپ ہیں،لیکن تدفین عمرؓ کے بعد کامل پردہ اور پورے لباس کے بغیر کبھی قبور پر نہیں آیا کرتی تھی۔ سیدنا عمر فاروقؓ کی تدفین سے پہلے حجرۂ مبارکہ میں کوئی تبدیلی واقع نہ ہوئی تھی، لیکن اب اُم المومنین نے اپنی رہائش گاہ اور قبور مقدسہ کے درمیان ایک دیوار اٹھوا دی، جس میں ایک دروازہ رکھا، سیدہ عائشہؓ کی حیاتِ طیبہ میں حجرۂ مبارک کھلا رہتا، صحابہ کرامؓ حجرہ کے مشرقی دروازہ پر حاضر ہوتے اور درود و سلام پیش کرتے۔ جب کسی صحابیؓ نے حجرہ مبارکہ کے اندر حاضری دینا ہوتی تو وہ اُم المومنین کی اجازت سے ہی اندر حاضر ہوکر سلام پیش کرتے۔ 17رمضان 57ھ کو سیدہ عائشہ صدیقہؓ کے انتقال کے بعد حجرۂ مبارک کا دروازہ بند کردیا گیا۔ سیدنا عبداللہ بن محمد بن عقیل بیان فرماتے ہیں کہ مَیں ایک رات جبکہ بارش ہو رہی تھی، حسبِ معمول سحری کے وقت اپنے گھر سے نکلا، جب مَیں مغیرہ بن شعبہؓ کے مکان کے قریب پہنچا تو مجھے ایک عجیب و غریب خوشبو محسوس ہوئی،اس جیسی نفیس خوشبو پہلے کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ خوشبو سے فضا معطر و مشک بار ہوگئی تھی میں خوشبو کے منبع کی جانب گیا تو حجرہ انور کے سامنے پہنچ گیا اور دیکھا کہ حجرۂ مقدمہ کی مشرقی دیوار مہندم ہوگئی ہے۔

بطیب رسول اللہ طاب نسیمھا

فما المسک ما الکافور ماصندل الرطب

(رسولؐ اللہ کی خوشبو کے ساتھ باد سحری اور تمام فضا معطر ہو گئی جس کے سامنے مشک،کافور اور عنبر بھی بے حیثیت ہیں)

مَیں وہاں ٹھہرا رہا۔کچھ ہی وقفہ بعد عمر بن عبدالعزیزؒ گورنر مدینہ بھی وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے چادر سے پردہ کروایا۔بعد از نمازِ فجر عمر بن عبدالعزیزؒ نے مدینہ منورہ کے ایک مشہور اور سعادت مند معمار وردان کو بلوایا اور اسے دیوار کی مرمت کے لئے حجرۂ مبارک کے اندر جانے کا حکم دیا۔اندر جا کر اُس نے امداد کے لئے ایک اور آدمی طلب کیا۔ جناب عمر بن عبدالعزیزؒ اندر جا کر وردان کا ہاتھ بٹانے کے لئے خود تیار ہوئے،لیکن پاس کھڑے قریش نے بھی شمولیت پر اصرار کیا تو انہوں نے کہا کہ مَیں کبھی ایک ہجوم کو اندر بھجوا کر حضورؐ کو ایذا نہ پہنچنے دوں گا اور پھر مزاحم نامی ایک غلام کو اندر بھجوایا جس نے اندر گری ہوئی مٹی اٹھائی اور قبر مبارک پر دیوار گرنے سے جو شگاف پڑ گیا تھا اسے اپنے ہاتھ سے پُر کیا۔

دیوار کو دوبارہ تعمیر کرنے کے لئے بنیاد کی کھدوائی اولادِ صحابہؓ کی موجودگی میں ہوئی۔اس دوران سیدنا عمر فاروقؓ کے قدم برہنہ ہو گئے تھے اور دیکھا گیا کہ کفن بھی میلا نہ ہوا تھا۔بہرحال دیوار کو پہلے کی طرح دوبارہ تعمیر کر دیا گیا۔

88ھ میں خلیفہ الولید بن عبدالمالک نے عمر بن عبدالعزیزؒ گورنر مدینہ کو حجرۂ مبارکہ کو اصل حالت میں محفوظ رکھنے کی خاطر حجرہ شریف کے گردا گرد کچھ فاصلہ رکھ کر ایک دیوار بنوانے کا حکم دیا تو انہوں نے حجرۂ مبارک کے گرد6.75میٹر اونچی عمارت انتہائی قیمتی پتھروں سے تعمیر کروائی، جس میں کوئی دروازہ نہ رکھا گیا۔یہ عمارت مربع کی بجائے پانچ پہلو رکھی گئی تاکہ لوگ اسے مثیلِ کعبہ جان کر کہیں اس کے بھی طواف میں نہ لگ جائیں۔اس عمارت کو ’’حظار مزور‘‘ یعنی حرمت والا احاطہ کہا جاتا ہے اور آج بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہے۔ 170ھ میں جب خلیفہ ہارون الرشیدؒ کی والدہ خیزران خاتون حج کی ادائیگی کے بعد روضۂ رسولؐ کی زیارت کو آئیں تو انہوں نے پوری مسجد میں عطر لگوایا اور حظار مزور کی عمارت پر ریشمی پردے چڑھائے۔بعد میں شاہانِ مصر و بغداد کو غلاف چڑھانے کی سعادت ہوتی رہی تاآنکہ760ھ میں سلطان صالح اسماعیل بن ناصر محمود نے ایک بڑی جاگیر وقف کر دی جس کی آمدنی سے کسوت کعبہ ہر سال اور کسوت حظار مزور ہر پانچ سال بعد تبدیل ہوتے رہے۔547ھ میں حجرہ مقدسہ کے اندر سے اچانک ایک آواز سُنی گئی، جس کی اطلاع امیر قاسم بن مہنی الحسینی کو دی گئی۔امیر قاسم نے علمائے کرام اور صلحائے عظام سے مشورہ کر کے فیصلہ کیا کہ کسی نیک بزرگ شخصیت کا حجرۂ مبارک کے اندر اتارا جائے اور وہ صورتِ حال کا پتہ لگائیں، چنانچہ ایک انتہائی زاہد و عابد بزرگ شیخ عمر السنائی الموصلیؒ کا انتخاب ہوا۔شیخ صاحب نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور ریاضت میں لگ گئے، آخر ایک دن حضور پاکؓ سے حجرہ شریف میں داخلے کی اجازت چاہی۔ جناب شیخ کو رسیوں کے ساتھ حظار میں اُتارا گیا اور اُن کے ساتھ ایک روشن شمع بھی اتاری گئی۔آپؒ نے دیکھا کہ چھت سے کچھ قبور پر گرا ہے۔آپؒ نے اسے ہٹا دیا اور قبور مبارکہ پر پڑی مٹی کو اپنی ریش مبارک سے صاف کر دیا۔557ھ میں سلطان نور الدین زنگی ؒ نے رسولؐ اللہ کی ایک رات میں تین بار زیارت کی۔ہر بار حضورؐ نے دو آدمیوں کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ جلد آؤ اور ان دو اشخاص کے شر سے مجھے بچاؤ۔اِسی رات کے آخری پہر میں مصر سے تیز رفتار اونٹوں پر اپنے بیس خاص خدام اور زرِ کثیر کے ساتھ روانہ ہو گیا۔اس نے یہ سفر رات دن جاری رکھا اور سولہویں دن شام کے وقت مدینہ منورہ پہنچ گیا۔بعداز غسل عجز و احترام کے ساتھ مسجد نبویؐ میں داخل ہو کر ریاض الجنتہ میں نوافل ادا کر کے متفکر بیٹھ گیا،تمام اہلِ مدینہ کو حاضر ہونے کا حکم دیا گیا۔سب آئے، مگر وہی دو شخص نہ تھے۔دریافت کرنے پر پتہ چلا کہ دو اہلِ مغرب انتہائی متقی افراد رہ گئے ہیں، جو دُنیا سے یکسو اور گوشہ نشین ہیں۔ ان کو بلوایا گیا تو سلطان نے اُن کو پہچان لیا۔سلطان نے ان سے پوچھ گچھ کی اور پھر ان کے مکان پر گیا جو مسجد کے قریب میں ہی تھا۔ جستجو سے پتہ لگ گیا کہ ایک نقب اِس مکان سے حجرہ مبارک کی جانب کھود جا رہی ہے۔مزید تفتیش پر انہوں نے قبول کر لیا کہ وہ عیسائی ہیں،اُنہیں بادشاہ نے حضورؐ کے جسد اطہر کو یہاں سے نکال لے جانے کے لئے بھیجا ہے۔سلطان سخت غضبناک ہوا اور صبح ان کو قتل کر کے شام کو ان کی منحوس لاشوں کو جلا دیا گیا۔اب سلطان نور الدین زنگیؒ نے ’’حضار مزور‘‘ سے8فٹ کے فاصلے پر گہری خندق کھدوائی کہ زمین سے پانی نکل آیا اور اس نے خندق کو سطح زمین تک سیسہ پگلوا کر بھروا دیا اور اس کے اوپر جنگلہ بنوا دیا۔667ھ میں سلطان رکن الدین ظاہر بیرس نے اِس جنگلے کی جگہ تین میٹر اونچا لکڑی کا جالی دار جنگلہ نصب کروا دیا۔اس جنگلے میں تین دروازے رکھے گئے۔694ھ میں الملک زین الدین نے اس جنگلہ کو چھت تک بلند کروا دیا۔ یہ ایک برآمدہ نما عمارت بن گئی۔جسے مقصورہ شریف کہا جاتا ہے۔732ھ میں الملک الناصر محمد بن قلدون حج سے فارغ ہو کر مدینہ منورہ حاضر ہوا تو مقصورہ شریف میں عورتوں اور بچوں کا رش دیکھا جو اِس جگہ کے تقدس اور عظمت کے خلاف تھا، چنانچہ مقصورہ شریف کو ایام حج میں بند کر دیا گیا۔

828ھ میں قاضی النجم ابن الحجی نے زائرین کے ہجوم کے پیش نظر مقصورہ شریف کے دروازوں کو بند کروا دیا تاکہ آداب پامال نہ ہوں اور اب آج تک یہ دروازہ بند چلا آ رہا ہے اور زائرین جالیوں کے باہر کھڑے ہو کر درود و سلام پیش کرتے ہیں۔وقتاً فوقتاً جالیوں کی تبدیلی کا کام جاری ہے۔678ھ میں سلطان المنصور قلدون صالحی نے پہلی بار لکڑی کا گنبد بنوا کر اس کے اوپر سیسہ کی پلیٹیں چڑھوائیں اور گنبد کو حظار کی عمارت کے اوپر نصب کروایا۔اس قبہ کو سلطان الناصر حسین ابن محمد قلدون نے مرمت کروایا۔

765ھ میں الملک اشرف شعبان بن حسین نے اور پھر881ھ میں سلطان قاتیبائی نے مرمت کروایا۔یہ گنبد سفید رنگ کا تھا اور اسے گنبد بیضا کے نام سے پکارا جاتا تھا۔888ھ میں آتشزدگی سے گنبد اور لکڑی کی جالی کو نقصان پہنچا تو گنبد شریف کی حرمت کے ساتھ پیتل اور سٹیل کی جالیاں لگا دی گئیں۔ یہ کام بھی سلطان قاتیبائی کے عہد میں ہوا۔980ھ میں سلطان سلیم ثانی نے گنبد کی ضروری مرمت کروائی۔1233ھ میں سلطان عبدالحمید نے گنبد کو نئے سرے سے تعمیر کروایا اور پھر 1255ھ میں اس پر سبز رنگ کرایا ، تب سے گنبدِ بیضاء، گنبد خضرا کے نام سے پکارا جانے لگا ہے۔ حجرہ مقدس کی تاریخ جان کر ایک بات تو عیاں ہو گئی ہے کہ 88ء میں حظار مزور کی عمارت بننے کے بعد کسی کو حجرہ شریف میں داخل ہو کر مرقد نبویؐ پر حاضری نصیب نہیں ہوئی سوائے اُن اوقات کے جب حجرہ منورہ کی مرمت کی گئی اور جن چند بزرگوں کو یہ سعادت نصیب ہوئی ان کا ذکر کتب تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہے آخری مرمت کو بھی اب پونے چھ صدیاں گزر چکی ہیں اور اس طویل عرصے میں کوئی ذی روح مرقدِ مقدسہ کے اصل مقام پر حاضری نہیں دے سکا۔یہ اس مقدس خطۂ ز مین کے احوال و آثار کا روح پرور تذکرہ ہے جہاں سرور عالمؐ اور شیخیںؓ آسودۂ خواب ہیں اِس احوال کو مرتب کرنے میں ہر ممکن احتیاط برتی گئی ہے پھر بھی اگر کوئی سہو سرزد ہوا ہو تو رب ذوالجلال سے معافی اور بخشش کا طالب ہوں۔

مزید : ایڈیشن 1