ہندو کی متعصبانہ ذہنیت کے باعث پاکستان کا قیام ناگزیر ہوا،چودھری ظفر اللہ

ہندو کی متعصبانہ ذہنیت کے باعث پاکستان کا قیام ناگزیر ہوا،چودھری ظفر اللہ

لاہور (جنرل رپورٹر) تحریک پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ کارکن چودھری ظفر اللہ نے کہا ہے کہ ہندو کی متعصبانہ ذہنیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کا قیام ناگزیر تھا۔قائداعظمؒ نے اپنی مدبرانہ قیادت سے ہندوؤں اور انگریزوں کی سازشوں کو ناکام بنا دیا ان خیالات کااظہارانہوں نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان ،شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں 70ویں یومِ آزادی کی تقریبات کے سلسلے میں ’’میں نے پاکستان بنتے دیکھا‘‘ کے عنوان سے منعقدہ لیکچر کے دوران طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس لیکچر کا اہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرزٹرسٹ کے اشتراک سے کیاتھا۔چودھری ظفر اللہ نے کہا کہ ہم نے ہندو ذہنیت کو بہت قریب سے دیکھا ہوا ہے۔ ہندواور مسلمان ہر لحاظ سے الگ قوم ہیں اور یہی دوقومی نظریہ ہے جس کی بنیاد پر پاکستان معرض وجود میں آیا۔ ہندو نومولود بچوں کو تبرک کے طور پر گائے کا پیشاب پلاتے ہیں جبکہ مسلمان اس کے کان میں اذان دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریڈ کلف ایوارڈ میں بد نیتی کے تحت بعض مسلم اکثریتی علاقے بھارت میں شامل کر دیے گئے۔ تحریک پاکستان میں بنگالیوں نے بھی بھرپور حصہ لیا،قرارداد پاکستان بھی شیر بنگال مولوی اے کے فضل الحق نے پیش کی تھی۔تحریک پاکستان میں حصہ لینے والے کارکنوں کو آزاد ملک کی قدر تھی اور انہوں نے پاکستان کی تعمیروترقی کیلئے دن رات کام کیا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ملکی تعمیر واستحکام کیلئے متحد ہو جائیں۔ چودھری ظفر اللہ نے پروگرام کے دوران تحریک پاکستان‘1945-46ء کے انتخابات اور قائداعظمؒ کو دیکھنے کے حوالے سے چشم دید واقعات بھی طالبات کو سنائے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1