پاکستانی حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی کرے ورنہ سزا دینگے ،سینیٹر جان مکین کا انتباہ

پاکستانی حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی کرے ورنہ سزا دینگے ،سینیٹر جان مکین ...

واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ) افغانستان اور پاکستان سمیت پورے خطے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ نے وسط جولائی تک جس نئی حکمت عملی کا اعلان کرنا تھا وہ بدستور غیر معمولی تعطل کا شکار ہے جس کا سبب وائٹ ہاؤس کے اندر پائی جانے والی کنفیوژن اور متضاد آرا ہیں جو کسی نتیجیپر پہنچنے میں رکاوٹ پیدا کر رہی ہیں۔ اس وقت کانگریس 31 جولائی سے 4 ستمبر تک رخصت پر ہے اور صدر ٹرمپ بھی اگست میں دو تین ہفتے کی چھٹیاں منانے جا رہے ہیں تو لگتا ہے یہ غیر یقینی صورتحال ابھی مزید کچھ عرصے کیلئے جاری رہے گی۔ امریکی کانگریس کے وہ ارکان جو ٹرمپ انتظامیہ کو ایک ٹھوس افغان پالیسی اختیار کرنے پر زور دیتے رہے ہیں ان میں سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین اور اری زونا ریاست سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن سینیٹر جان مکین ہمیشہ پیش رہے ہیں۔ انہوں نے وائٹ ہاؤس کی سست روی سے تنگ آکر آج جمعرات کے روز اپنی طرف سے پالیسی پیش کرنے کا اعلان کیا ہے جسے وہ ستمبر میں آئندہ مالی سال کے بجٹ پر بحث کے دوران دفاعی رول میں ایک ترمیم کی صورت میں تجویز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور کمیٹی چیئرمین کی حیثیت سے اس پر رائے شماری کرکے کامیابی بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ سینیٹر مکین نے اپنے پالیسی بیان میں واضح کیا ہے کہ ان کی تجویز کے مطابق افغان حکومت کے وسط ایک طویل مدت کا نیا سمجھوتہ طے کیا جائے گا جس کے تحت ایک خاص مدت تک افغانستان میں امریکی فوج برقرار رہے گی اور اس میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔ اس پالیسی کے تحت پاکستان کو شورش پسندوں اور دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے کی سزا دینے کا آغاز کیا جائے گا جس میں مختلف طرح کی پابندیاں اور امداد میں کمی یا خاتمہ شامل ہوگا، پاکستان کو مجبور کیا جائے کہ وہ حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز آ جائے ورنہ اسے سزا دینے کے سوا کوئی صورت باقی نہیں رہے گی۔ سینیٹر مکین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ انہیں اوباماہ اور ٹرمپ دونوں کی افغان پالیسی سے مایوسی ہوئی ہے۔ صدر ٹرمپ کے سات ماہ اقتدار کے عرصے میں کوئی پالیسی سامنے نہیں آئی جس کے نتیجے میں افغان جنگ شکست سے دوچار ہو رہی ہے اور صورتحال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔ وہ ہزاروں امریکی فوجی جو افغانستان میں اپنی جان کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں اپنے کمانڈر انچیف (صدر ٹرمپ) سے بہتر سلوک کی توقع لگائے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں ایک بہتر پالیسی اختیار کرکے مخالف قوتوں کے خلاف برتری حاصل کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ اس وقت مبصرین کے مطابق اس وقت افغانستان میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کے علاوہ امریکی امداد کے باوجود حکومت کے مالی معاملات بگڑے ہوئے ہیں اور اپنے وسائل صرف چالیس فیصد اخراجات پورے کرسکتے ہیں۔ 60 فیصد خسارے کیلئے اسے بیرون ملک امداد کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ اس خسارے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ انتظامیہ کرپشن کا شکار ہے اور یہ امداد خوردبرد ہو رہی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق انتظامیہ کے تمام سکیورٹی حکام اور مشیر اس بات پر متفق ہیں کہ کسی نہ کسی طرح امریکہ سولہ سال سے جاری جنگ سے باہر نکل آئے لیکن اس کا طریق کار کیا ہو اس پر الجھن پائی جاتہ ہے۔ ایک گروپ تمام امریکی فوج نکال کر سارا معاملہ افغان فوج کے سپرد کرکے اور افغان سکیورٹی فورسز کی مدد کیلئے چند ہزار کنٹریکٹرز بھرتی کرکے مکمل فارغ ہونے کے حق میں ہے۔ دوسرا گروہ یہ کہتا ہے کہ اس ہاری ہوئی جنگ کا پانسہ پلٹنے کیلئے پانچ ہزار تک مزید فوج اور چند ہزار کنٹریکٹر کا اضافہ کرکے انتہائی سخت گیر جارحانہ رویہ اختیار کیا جائے۔ اس جنگ کو فتح میں بدلنے کے بعد تمام معاملات افغان حکومت کے سپرد کرکے اس خطے سے باہر نکلنے کی ٹھوس حکمت عملی میں کچھ حساس معاملات راہ میں آتے ہیں جو پاکستان سے متعلق ہیں اور ان پر عمل کی صورت میں پاکستان سے تعلقات بگڑنے کا اندیشہ ہے۔ اس وقت وائٹ ہاؤس کے اندر غالب سوچ یہ ہے کہ پاکستان پاکستانی طالبان اور دیگر ایسے دہشت گرد گروہوں کے خلاف تو موثر آپریشن کرنے میں مصروف ہے جو اس کی سلامتی کیلئے خطرے کا باعث ہیں لیکن وہ حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان یا دیگر ایسے جنگجوؤں کو چھیڑنے کیلئے تیار نہیں ہے جو پاکستان کو تو نقصان نہیں پہنچاتے لیکن اس کی سرزمین سے افغانستان پر حملے کرتے ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے ماہرین کا یہ خیال ہے کہ جس طرح ماضی میں پاکستان نے افغانستان پر حملہ کرنے والے گروہوں کو اپنی سرزمین پر محفوظ پناہ گاہیں قائم کرنے دی ہیں اور ان کی فاٹا کے علاوہ پشاور اور کوئٹہ میں موجودگی کو نظرانداز کیا ہے اسی طرح امریکہ اسے آئندہ بھی اس پالیسی کو بدلنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ لیکن اگر افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے طالبان سے کوئی مفاہمت کرنی پڑی تو اس کیلئے پاکستان کی ضرورت پڑے گی۔ اس لئے ان ماہرین کے مطابق پاکستان پر دباؤ جاری رکھا جائے اور کچھ پابندیاں بھی لگائی جائیں لیکن اس کے ساتھ براہ راست تصادم سے گریز کیا جائے۔

مکین وارننگ

مزید : علاقائی