9 اگست کے شہدا اور میاں نواز شریف کا پاور شو؟

9 اگست کے شہدا اور میاں نواز شریف کا پاور شو؟
 9 اگست کے شہدا اور میاں نواز شریف کا پاور شو؟

  

9اگست 2017ء پاکستان کی تاریخ میں ایک ناخوشگوار واقعہ رونما ہوا اور پاک فوج کے چار شیر دِل سپوت دہشت گردوں کے ہاتھوں شہادت کی منزل پاگئے۔ دوسری طرف9اگست کو سابق وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے اقتدار سے رخصتی کے بعد اپنے گھر روانگی کا سفر شروع کیا اور 6کلومیٹر کا فاصلہ 12گھنٹے میں طے نہ کیا جاسکا۔

9اگست سے میاں محمد نواز شریف سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد عوامی مینڈیٹ کے سائے تلے اپنے گھر کی طرف رواں دواں ہیں ان کے سفر کو تاریخ ساز ،متنازعہ بنانے کے لئے میڈیا ہاؤسز مقبولیت کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لئے جھوٹ،سچ کا ملاپ مختلف زاویوں سے کررہے ہیں۔میڈیا ہاؤسز کی باہمی لڑائی الفاظ سے نکل کر اخبارات کی سرخیوں اور کالموں کا احاطہ کرتے ہوئے صحافتی کارکنان کی زندگیوں سے کھیلنے تک جا پہنچی ہے،8اگست سے الیکٹرانک میڈیا کی رپورٹنگ نے نئے صحافتی کلچر کو متعارف کراوایا ہے۔ میاں نواز شریف کی اپنے گھر واپسی کا دوسرا مرحلہ کامیابی سے ہمکنار ہو گیا ہے،پہلے مرحلے میں کیوں کچھ نہیں ہوا،آؤٹ فال دھماکہ کس کی طرف سے پیغام تھا، موٹروے سے نہ آ کر میاں صاحب نے کس کس کو دُکھ پہنچایا ہے،47رکنی کابینہ کیوں؟آپ کو وزیر کیوں نہیں بنایا گیا،ایم این اے سے ملاقاتیں کرنے والے انہیں ورغلانے والے چاہتے کیا ہیں۔مَیں نے گزشتہ کالم میں تحریر کیا تھا سب ٹھیک نہیں ہے،حالات نارمل نہیں ہیں جو نظر آ رہا ہے حقیقت میں ایسا نہیں ہے، دال میں کچھ کالا ضرور ہے کھچڑی پک ری ہے، میری باتوں کو بڑا منہ چھوٹی بات سمجھو لیا جائے۔علامہ طاہر القادری کی انٹری،چودھری برادران کی خفیہ سرگرمیاں، جنرل پرویز مشرف کی اچانک بھڑکیں،پارلیمانی نظام کے خلاف بیانات، صدارتی نظام کی اہمیت پر لیکچر اور کالم، اگست کا مہینہ میاں برادران کے لئے بھاری قرار۔ چودھری نثار کی کمر میں دوبارہ تکلیف کا شروع ہونا، سوشل میڈیا پر دھڑے بندی،سینئر ترین صحافیوں کو ماں بہن کی گالیاں، کی طرف سے کون کر رہا ہے کیوں کر رہا ہے، کیا یہ صحافت ہے؟ کیا یہ اخلاقی اقدار ہیں ؟ہر گز نہیں یہ جال ہے جو ملک دشمن قوتوں کی طرف سے ہمارے اپنوں کے ساتھ مل کر بُنا جا رہا ہے،آزادی کا مہینہ دشمن ہمیں خوش نہیں ہونے دینا چاہتا۔یہی وجہ ہے وطن عزیز کا جو سب سے مبارک مہینہ قیام پاکستان کا بابرکت مہینہ، اگست کا مہینہ دشمنان دین بھاری قرار دے رہے ہیں اسی مہینے کو خوف کی علامت بنانے کا سلسلہ جاری ہے ۔اَپر دیر میں جاری ردالفساد کے دوران دہشت گردوں کی طرف سے اپنے آپ کو بم سے اڑانے کے واقعات نے کم از کم مجھے تو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ پاک فوج کے جوانوں اور پولیس کے جانثاروں کو سلام۔۔۔ پتہ نہیں دشمنان اسلام اور پاکستان نے ہمارے کتنے نوجوانوں کو منزل سے بھٹکا کر دہشت گردی کے نیٹ میں پرو رکھا ہے۔ کوئٹہ، گوادر،کراچی،پشاور، ڈی جی خان اور اب دیر کتنے دہشت گرد ہیں سینکڑوں ہلاک ہو چکے ہیں، سینکڑں پکڑے جا چکے ہیں، ہر روز نیا انکشاف، ہر روز نئی گرفتاریاں، ہر روز نئی کہانیاں، ہر روز نئے نیٹ ورک آخر میں اتنے سلسلے کیوں ہیں۔

اپر دیر میں شہید ہونے والے میجر علی سلمان، حوالدار غلام نذیر، حوالدار اختر،سپاہی عبدالکریم کے جسدِ خاکی اور ان کی نمازِ جنازہ کے بعد والدین کے وطنِ عزیز کے لئے جذبات ہی دراصل ہمارا فخر ہیں ان شہدا کے والدین ہی ہماری نشان منزل ہیں،شہید ہونے والے اپنے لخت جگر کے ٹکڑوں کو اپنے ہاتھوں سے لحد میں اتار کر اظہارِ تشکر کر رہے ہیں۔حقیقت بتاؤں دِل کی آواز پر کالم کو دو حصوں میں تقسیم کرنے پر مجبور ہوا ہوں۔ایک طرف ہماری منافقت پرمبنی سیاست اور تقسیم ہوتی صحافت کا رونا تھا تو دوسری طرف وطن عزیز پر قربان ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی میں 9اگست اَپر دیر میں شہید ہونے والے میجر علی سلمان، حوالدار غلام نذیر، حوالدار اختر، سپاہی عبدالکریم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں ان کے والدین اور پیاروں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ پاک فوج کے جانثاروں کی قربانیاں دراصل ہماری زندگیاں ہیں شہید کی جو موت ہے قوم کی حیات ہے۔ سیاسی پنڈتوں، صحافتی پنڈتوں سے آج صرف اتنی درخواست کرنی ہے سارے مزے ساری موجیں وطنِ عزیز کی سلامتی اور امن میں ہیں۔ آج 11اگست جمعتہ المبارک کو کم از کم ایک دوسرے کو معاف کر کے وطنِ عزیز پر کٹ مرنے والوں کے صدقے سیاست کو پاک صاف رکھنے کا عزم ضرور کریں تاکہ آئندہ نسلیں اچھے الفاظ میں یاد رکھیں۔ میاں نواز شریف ایک نہیں تو دو دن بعد اپنے گھر پہنچ جائیں گے۔ عوام اگر ان پر عقیدتوں کے پھول نچھاور کر رہے ہیں تو صبر اور تحمل سے برداشت کر لیجئے، جہازوں سے موٹروے اور جی ٹی روڈ پر لانے کا معرکہ مارنے والے بھی2018ء کے الیکشن کی تیاری کریں، کیونکہ وقت کم ہے۔ حالات 2013ء سے مختلف نظر نہیں آ رہے۔

مزید : کالم