بھارت کا مخاصمانہ رویہ علاقائی و عالمی امن کیلئے خطرہ ہے :پاکستان

بھارت کا مخاصمانہ رویہ علاقائی و عالمی امن کیلئے خطرہ ہے :پاکستان

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) دفترخارجہ کے ترجمان نفیس زکریانے ہمسایوں سے متعلق بھارت کے مخاصمانہ رویے کو علا قا ئی اورعالمی امن کیلئے خطرہ قراردیتے ہوئے کہاہے ہمسایہ ملک پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے جس کیلئے افغان سرزمین ا ستعما ل کی جارہی ہے، افغانستان کیساتھ یہ معاملہ متعدد مرتبہ اٹھایا ہے جبکہ امریکہ کے سامنے بھی افغان سرزمین کے پاکستان کیخلاف استعمال ہونے کا معاملہ رکھا گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج کے مظالم کا سلسلہ جاری ہے، رواں ہفتے 15 نہتے کشمیری شہید کردیئے گئے، عالمی برادری کشمیریوں کا قتل عام رکوانے میں ناکام ہے، افغان مسئلے کاپائیدارحل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے،پناہ گزینوں کی باوقارواپسی چاہتے ہیں،انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا پہلا مرحلہ 2018میں مکمل ہونے کا عندیہ دیا۔جمعر ات کوہفتہ وارپریس بریفنگ میں ترجمان نے کہا نئے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے وزارت خارجہ کا چارج سنبھال لیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں قابض فوج نے گزشتہ سات ماہ کے دوران 216کشمیریوں کو شہید کیا اور یہ تعدادگزشتہ سال16ء کے مقابلے میں دگنی ہے ، بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، کنٹرو ل لائن پربلااشتعال فائرنگ اور کشمیر کی مسلم اکثریتی شنا خت ختم کرنے کی مزموم کوششیں بھی علاقائی اورعالمی امن کیلئے نقصان دہ ہیں بھارت ممکنہ رائے شماری کے نتائج پر اثر انداز ہونا چاہتا ہے عا لمی برادری بھارتی ہتھکنڈوں کا نوٹس لے، کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو 70سال کا عرصہ گزر چکاہے مگرتاحال ان پر عملد رآمدنہ ہوسکا،بھارت مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرے ۔بھارتی افواج امسال اب تک ایل او سی پر سیز فائر معائدہ کی 500سے زائد مرتبہ خلاف ورزی کرچکی ہیں ، یہ بھارت کی ایک چال ہے کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی سے دنیا کی نظر ہٹائی جا سکے، بھارت چاہتا کہ ایل او سی پر فائرنگ کر کے ثابت کر سکے کہ سرحد پار سے دراندازی ہو رہی ہے تاہم حقیقت میں بھارت کشمیریوں کو مار رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیرمیں2006 میں اجتماعی قبریں ملی تھیں جن میں سینکڑوں کشمیری دفن تھے، ڈی ین اے ٹیسٹ سے پتہ چلا کہ یہ تمام لو کل کشمیری ہیں ۔ نفیس ذکریا نے کہا پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور ہم دہشت گردوں کیخلاف بلاتفریق کارروائی کر ر ہے ہیں ۔ پاکستان چار دہائیوں سے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کررہا ہے، کسی افغان مہاجر کو زبردستی افغانستان واپس نہیں بھجوایا، ہم افغان مہاجرین کی ان کی مرضی سے باعزت وطن واپسی چاہتے ہیں۔ پاکستان نے حزب اسلامی کیساتھ افغان حکومت کے مذاکرات کا خیرمقدم کیا، طالبان سمیت تمام متحارب گروہوں کیساتھ مذاکرات ہونے چاہئیں کیونکہ افغان مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے۔ ترجمان نے کہا امریکہ افغانستان کے بارے میں اپنی پالیسی ا ازسر نو جائزہ لے رہا ہے جبکہ تجویز دی ہے کہ افغان مسئلے کا واحد حل مذاکرات میں ہے۔

پاکستان

مزید : صفحہ اول