برطانیہ میں نوجوان لڑکیوں کے ریپ کی پارٹیاں،12مجرموں کو قید کی سزائیں

برطانیہ میں نوجوان لڑکیوں کے ریپ کی پارٹیاں،12مجرموں کو قید کی سزائیں

لندن(این این آئی)برطانیہ کے شہر نیوکاسل میں منعقدہ پارٹیوں میں نوجوان عورتوں اور لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے اور انہیں ریپ کا نشانہ بنانے والے 12افرادکو قید کی سزائیں سنادی گئیں،غیرملکی خبررسا ں ادارے کے مطابق برطانوی وکلائے استغاثہ نے بتایاکہ انہیں نیو کاسل شہر میں ایسی پارٹیوں کا علم ہوا، جن میں نوجوان عورتوں اور لڑکیوں کا جنسی استحصال کرنے کے علاوہ انہیں ریپ کیا جاتا تھا۔ ایک درجن جنسی مجرموں کو سزائیں بھی سنا دی گئیں۔

ادھراسی سلسلے میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم کئی کارکنوں نے ان خبروں پر شدید غم و غصے کا اظہار بھی کیا کہ ایسے مجرموں تک پہنچنے سے قبل ان سے متعلق معلومات کے حصول کے لیے مقامی پولیس نے جنسی زیادتی کے جرم میں سزا یافتہ ایک مجرم کو باقاعدہ پیسے بھی دیے تا کہ وہ پولیس کواندر کی معلومات مہیا کر سکے۔ اس سزا یافتہ مجرم کو پولیس نے مالی ادائیگی اس لیے کی کہ وہ ان پارٹیوں کے بارے میں تفتیشی اہلکاروں کو آگاہ کرے، جن میں نوجوان عورتوں اور لڑکیوں سے جنسی زیادتیاں کی جاتی تھیں۔جن 12 سے زائد مردوں کو سزائیں سنائی گئی ہیں، ان کی عمریں 30 اور 49 برس کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ ان افراد کے خلاف نیو کاسل کی کراؤن کورٹ میں مقدمات کے ایک پورے سلسلے کے دوران یہ الزامات ثابت ہو گئے تھے کہ وہ جنسی زیادتیوں، جنسی حملوں اور منشیات کے استعمال سے متعلق کئی جرائم کے مرتکب ہوئے تھے۔یہ بھی بتایا گیا کہ جنسی جرائم کی شکار ایسی نوجوان عورتوں اور لڑکیوں کی عمریں زیادہ تر 15 سے لے کر 22 اور 23 برس تک کے درمیان تھیں۔ برٹش پراسیکیوٹرز کے مطابق منظم انداز میں اہتمام کردہ ان جرائم کی کوئی بھی تفصیلات اب سے پہلے اس لیے منظر عام پر نہیں آ سکی تھیں کہ اس پوری قانونی کارروائی اور مقدمات کی سماعت تک کی رپورٹنگ پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ جس قدر پریشان کن یہ جرائم ہیں اور ان کے مرتکب افراد کو سزائیں سنائی جانا جتنی بڑی خبر ہے، ان پر ممکنہ طور پر یہ انکشاف غالب آتا دکھائی دیتا ہے کہ ان جرائم کی تحقیقات میں مدد کے لیے نیو کاسل میں نورتھمبریا کی پولیس نے ایک ریپسٹ کی طرف سے تعاون پر اسے باقاعدہ مالی ادائیگی کی۔

مزید : عالمی منظر