بھارتی حکومت ریاست میں مسلم تشخص کو مٹانا چاہتی ہے، ‘ سید علی گیلانی

بھارتی حکومت ریاست میں مسلم تشخص کو مٹانا چاہتی ہے، ‘ سید علی گیلانی

سری نگر(کے پی آئی) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے کشمیری عوام سے کہا ہے کہ اپنی قومی شناخت کو بچانے کے لیے نیز جموں کشمیر کا متنازعہ حیثیت کو اقوامِ عالم تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے اور ہر ایک سازش کا پردہ فاش کرنے میں اپنا رول ادا کیا جائے اور کشمیری عوام کواس سورتحال سے بہرحال آگاہ رکھا جائے جو ہماری منصوبی ذمہ داری ہے۔ سید علی گیلانی نے موجودہ صورتحال پر اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ بھارتی حکومت ریاست میں مسلم تشخص کو مٹانا چاہتی ہے، جس کے خلاف حریت چیرمین نے عوام کو ذہنی طور تیار رہنے کی تلقین کی اور کہا کہ اپنی شناخت کو برقرار رکھنے کے لیے کشمیری عوام اپنا خون دینے سے گریز نہیں کریں گے۔ حریت چیرمین نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ بی جے پی حکومت رائے شماری کے عمل کو متاثر کرنے کے لیے روزِ اول سے ہی ایک منصوبہ بند سازش تیار کرکے اور اپنے حق میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے پیش بندی کررہے ہیں۔ حریت چیرمین نے تمام ہندنواز سیاست دانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں چاہئیے کہ اس دیرینہ مسئلے کو حل کرانے میں تحریک کے صفوں میں شامل ہوجائیں اور حقِ خودارادیت کی اس تحریک کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں اپنا رول ادا کریں۔

حریت چیرمین نے ریاستی آئین 35A(اسٹیٹ سبجیکٹ ایکٹ(سے متعلق تحفظات میں ترامیم کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جموں کشمیر میں ہماری مسلم اکثریتی شناخت ختم کرنے میں لگی ہوئی ہے اور دوسری طرف یہاں نسل کُشی کی مہم بڑی تیزی کے ساتھ چلائی جارہی ہے اور بھارتی حکومت کشمیر کو فلسطین جیسی صورتحال میں دکھیلنا چاہتی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ جو لوگ آج اُتاولے پن کا مظاہرہ کررہے ہیں دفعہ 370کے تابوت میں آخری کیل دینے والے بھی یہی لوگ ہیں۔ آر ایس ایس کے حکومت کے حصہ داروں کو ہدف تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا اب یہ لوگ (35A)کو ختم کرنے پر اپنا تعلق بی جے پی کے ساتھ چھوڑ دینا چاہتے ہیں تاہم اس کا خاکہ پہلے سے ہی طے ہوچکا تھا۔ چیرمین حریت نے اس بات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ (اسٹیٹ سبجیکٹ) قانون کو ختم کرنے سے ہی یہاں کی ڈیموگرافی تبدیل ہوگی اور کشمیر کے پشتنی باشندیوں کو اپنی ہی جائیداد سے بے دخل کیا جائے گا اور دوسری ریاستوں سے لوگوں کو لاکر یہاں پر بسانے کے لیے ہماری زمین فراہم کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا اس کی کسی کو بھی اجازت نہیں دی جائے گی اور ان سازشوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ بیان میں کالم نگاروں اور باقی سماج سے جڑے تمام طبقہ ہائے فکرکے لوگوں سے اپیل کی گئی کہ اپنی قومی شناخت کو بچانے کے لیے نیز جموں کشمیر کا متنازعہ حیثیت کو اقوامِ عالم تک پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے اور ہر ایک سازش کا پردہ فاش کرنے میں اپنا رول ادا کیا جائے اور کشمیری عوام کواس سورتحال سے بہرحال آگاہ رکھا جائے جو ہماری منصوبی ذمہ داری ہے۔

مزید : عالمی منظر