دسمبر کے آخر تک وافر بجلی دستیاب، پیداوار 21ہزار میگا واٹ تک پہنچ جائیگی، قومی اسمبلی وقفہ سوالات

دسمبر کے آخر تک وافر بجلی دستیاب، پیداوار 21ہزار میگا واٹ تک پہنچ جائیگی، ...

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ رواں سال دسمبر کے آخری عشرہ میں ملک میں بجلی کی پیداوار 20 ہزار 988 میگاواٹ تک پہنچ جائیگی ۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران وزارت آبی وسائل کی جانب سے بتایا گیا کہ ملک میں توانائی کے قلیل المدتی کئی منصوبے دسمبر میں مکمل ہو جائیں گے جس کے بعد بجلی کی یومیہ پیداوار 20 ہزار 988 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی جبکہ طلب 16650 میگاواٹ رہے گی یوں 4200 میگاواٹ تک سرپلس بجلی دستیاب ہوگی۔ پارلیمانی سیکرٹری جارج خلیل نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے عمرہ کے معاملات اپنے دائرہ اختیار میں لانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں حج و عمرہ انتظام خدمت بل 2017ء کا مسودہ جائزہ کے لئے وزارت قانون کو ارسال کیا جاچکا ہے اس پر عملدرآمد اس قانون کے بعد کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر ہارڈ شپ کوٹہ میں گنجائش ہوئی تو اراکین کو بھی کوٹہ دیا جائے گا۔ پارلیمانی سیکرٹری مکانات و تعمیرات نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ سرکاری ملازمین کو ہاؤسنگ سیلنگ دینے کا آغاز 1995ء میں پیپلز پارٹی کے دور میں ہوا تھا اور نئی الاٹمنٹ پر پابندی عائد کردی گئی تھی جسے اب اٹھا لیا گیا ہے ٗسپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جنرل ویٹنگ لسٹ بنا کر قومی اسمبلی کو پیش کردی گئی ہے۔ اسی کے مطابق خالی ہونے والی رہائش گاہیں ملازمین کو الاٹ کی جارہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارہ کہو فیز فور اسلام آباد (گرین انکلیو ون ) معاہدے کے مطابق ترقیاتی کام کے آغاز کے دو سال کے اندر مکمل کیا جائے گا۔ جی 13 اسلام آباد میں لائف سٹائل ریزیڈنسی اپارٹمنٹس کی تعمیر کا منصوبہ آغاز کے بعد 48 ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ سیکٹر ایف 14 اور ایف 15 ہاؤسنگ سکیم فیز 7 آغاز کے دو سال کے اندر مکمل ہوگا جبکہ اسی طرح ٹھلیاں انٹرچینج نزد موٹروے پر ہاؤسنگ سکیم بھی معاہدے کی تکمیل کی مدت دو سال ہوگی۔وفاقی وزیر قومی صحت سائرہ افضل تارڑ نے بتایا کہ پاکستان بھر میں 200 سے لے کر 500 بستر کے ہسپتالوں کے منصوبوں کی تعمیر پر کام جاری ہے جس میں اس کے ہیلتھ انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ و مینجمنٹ کمپنی کے ذریعے صوبہ خیبر پختونخوا کو شامل کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق سردار سکندر حیات بوسن نے بتایا کہ ملک میں زرعی اراضی پر کالونیاں بننا اچھی روایت نہیں ہے تاہم یہ صوبائی معاملہ ہے۔ وفاق میں اس حوالے سے لینڈ ریونیو کا محکمہ موجود ہے جو ہماری وزارت کے ماتحت نہیں آتا۔ صوبوں کو چاہیے کہ وہ اس بارے میں قانون سازی کریں اور اس کے بارے میں مکمل پالیسی وضع کی جانی چاہیے۔ بعد ازاں قومی اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر 17 اگست کی سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔ اجلاس میں وقفہ سوالات جاری تھا کہ تحریک انصاف کے رکن امجد خان نے کورم کی نشاندہی کردی جس پر گنتی کروائی گئی اورکورم پورا ہونے پر ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے قومی اسمبلی کا اجلاس 17 اگست کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیا۔

مزید : صفحہ آخر