ایوان بالا میں سینیٹ 2012ء کے قاعدہ 166میں مجوزہ ترامیم منظور

ایوان بالا میں سینیٹ 2012ء کے قاعدہ 166میں مجوزہ ترامیم منظور

اسلام آباد (این این آئی،آن لائن) سینٹ نے سینیٹ 2012ء کے قاعدہ 166 میں مجوزہ ترامیم اور نیا قاعدہ 268 (الف) شامل کرنے کی تحریک کی منظوری دے دی اس سلسلے میں جمعرات کو ایوان بالا کے اجلاس میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق اور قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے تحریک پیش کی جسے اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔اجلاس کے دور ان سینیٹ میں موٹر گاڑیوں کے لئے ایمنسٹی سکیم سے متعلق قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، ریونیو، اقتصادی امور، شماریات و نجکاری کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔ اجلاس میں کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں سینیٹ میں مالیاتی اداروں (مالیات کی وصولی) آرڈیننس 2001ء میں مزید ترمیم کا بل مالیاتی اداروں (مالیات کی وصولی) (ترمیمی) بل 2017ء پر کمیٹی کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔ اجلاس میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے رپورٹ ایوان میں پیش کی۔سینیٹ میں بلوچستان میں مقامی انجینئروں کے حوالے سے قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کی رپورٹ پیش کر دی گئی۔ سینٹ میں قائمہ کمیٹی کے رکن سینیٹر سیف اﷲ مگسی نے رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلاس میں سینیٹ میں پارلیمانی کمیٹی برائے اصلاحات کی رپورٹ پیش کر دی گئی ٗوفاقی وزیر خزانہ و چیئرمین پارلیمانی کمیٹی نے رپورٹ ایوان میں پیش کی۔اجلاس کے دور ان فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے اور اس حوالے سے عمل درآمد کے لئے طریقہ کار تجویز کرنے سے متعلق خصوصی کمیٹی قائم کرنے کی منظوری دے دی گئی اس سلسلے میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے تحریک پیش کی جس میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان چیئرمین سینیٹ کو اختیار دے کہ قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی قائم کی جائے جس میں سینیٹر جاوید عباسی، مشاہد حسین سید، طاہر حسین مشہدی، مظفر حسین شاہ، ہدایت اﷲ، تاج حیدر اور سلیم مانڈوی والا شامل ہوں تاکہ ایوان کے فیصلوں پر عمل درآمد کے مسائل جن میں متعلقہ وزارتیں عدم عمل درآمد کی وجوہات پیش کرنے میں ناکام ہو جاتی ہیں، کا جائزہ لیں اور عدم عمل درآمد کے کیسوں سے نمٹنے کے لئے طریقہ کار تجویز کرے۔ ایوان نے تحریک کی منظوری دے دی۔دریں اثناء جمعرات کے روز سینیٹ اجلاس میں ریمارکس دیتے ہوئیچیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ اداروں کو تصادم سے بچانے کے لئے سینٹ اداروں کے درمیان مذاکراتی عمل شروع کرا رہا ہے۔ عدلیہ انتظامیہ اور متفقہ حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیئے۔ مفاہمت کے عمل سے جمہوری نظام مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کو مذاکراتی عمل میں شرکت کے لئے دعوت دے دی ہے۔ قبل ازیں اعتزاز احسن نے کہا کہ حکمران ہمیں کہتے ہیں الزامات سے گریز کریں مگر خود وہ اپوزیشن پر الزام لگا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عہد عباسیہ کا دور شروع ہو چکا ہے۔ 18وزراء اعظم میں سے6 کو سازش کے تحت انہی لوگوں نے ہٹایا ہے۔ محمد خان جونیجو معصوم وزیراعظم تھے۔ سپریم کورٹ نے اصغر خان کیس میں دھاندلی الیکشن قرار دیا۔ وزرائے اعظم کو برطرف کرنے میں تمام سازشوں میں موجودہ حکمران جماعت ملوث رہی ہے۔ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی ریلی سے سخت مایوس ہوں۔ ریلی میں عوام نے شرکت نہیں کی۔ یہ حکمرانوں کی ناکامی کے آثار ہیں۔ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو عوام نے تسلیم کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ میں جعلی کاغذات پیش کئے ہیں۔ موجودہ حکمرانوں کا وطیرہ ہی سازش ہے۔ جس میں اپنے اور غیر سب شامل ہیں۔ حکومت کے ساتھ مل کر آئین میں ترمیم کو تیار ہیں۔ ہمیں مثبت تجاویز پر اعتراض نہیں ہے۔ سینٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق نے کہا کہ ہماری عادتیں خراب ہو چکی ہیں۔ ایک دوسرے کے کپڑے پھاڑنے کردار کشی اور تنقید کے سوا ہمیں کچھ آتا ہی نہیں ہے۔ ہمارا مزاج کردار کشی ہے۔ بات صرف الزام لگانے کے لئے کی جاتی ہے۔ ہم غیروں کے آگے سر جھکا لیتے ہیں مگر اپنوں کے ساتھ ہم جھک کربات نہیں کر سکتے ہیں۔ سینیٹر شبلی فراز کے ساتھ ہونے والے معاملہ پر حکام تک معاملہ اٹھایا ہے۔ پارلیمنٹیرینز کردار کشی کا سلسلہ کو بند کر دینا چاہئیے۔ دوسروں کی کردار کشی اور کوتاہیوں کو ہم مزے لیکر بیان کرتے ہیں ملکی حالات درست نہیں ہیں۔ عوام کی خواہشات کے مطابق نواز شریف کو پنجاب ہاؤس میں رات بسر کرنا پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان بالا کی اصلاح میں چیئر مین سینٹ رضا ربانی کا کردار تاریخی ہے۔ آپ کی ہدایت کے باوجود ایوان میں چسکے لے لے کر منفی گفتگو کی جاتی ہے۔ ہم گہرے کنویں میں گرنے سے گریز کریں۔ خود پرہیز گار بن جاتے ہیں دوسروں کو مجرم سمجھتے ہیں۔ ہمیں آگے بڑھنا ہو گا۔ بہت جلد اصلاح نہیں ہو گی۔ ایوان کا تقدس بلند کریں۔ تاریخ ہمیں کبھی فراموش نہیں کرے گی۔ مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرنا ہو گا۔ ماضی سے ہمیں سبق حاصل کرنا ہو گا۔ ہمیں مثبت کاموں سے گندگی تلاش کرنے سے گریز کرنا ہو گا۔ چیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ ہمیں پانی کوتاہیوں پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔ حکومت اور اپوزیشن مشترکہ طور پر تجاویز تیار کریں ۔ اداروں میں اپنی حدود میں تجاوز کا مسئلہ ہے۔ تصادم سے گریز کرنا ہو گا۔

مزید : صفحہ آخر