ہجرت کرنیوالے مسلمانوں کو چن چن کر مارا گیا‘ چودھری یٰسین

ہجرت کرنیوالے مسلمانوں کو چن چن کر مارا گیا‘ چودھری یٰسین

سیت پور (نمائندہ پاکستان ) 14اگست کے بعد ہندوؤں نے مسلمانوں کو چن چن کر مارا ،ایک بھری بس کو نذر آتش کیا جس میں 70مسلمان زندہ جل کر شہید ہو گئے ،ان خیالات کا اظہار 85سالہ بزرگ چوہدری محمد یٰسین نے گفتگو کرتے ہوئے کیا ،انہوں نے بتایا کہ 14اگست کے بعد 3ستمبر 1974ء کو گوہانہ سے ایک بس بھجوائی گئی جس میں مردوں ،عورتوں اور بچوں کو ٹھونس دیا اس بس کو ہندوؤں نے خالی میدان میں کھڑا کر کے اس پر جھونپڑا ڈال دیا گیا اور جھونپڑے کو پٹرول ڈال کر آگ لگا د ی ،منٹوں میں ہی بس کو آگ کے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ،ظالم حملہ آور ہندو بس میں جلنے (بقیہ نمبر53صفحہ12پر )

والوں کی آہ بکا سنتے رہے کسی کو بس سے نیچے نہ اترنے دیا ،کئی عورتوں نے چھوٹی بچیوں کو بس سے باہر پھینک دیا اس بس میں تقریباََ 70مسلمان جل کر راکھ ہو گئے اس جلنے والی بس میں عورتیں ،بچے ،بوڑھے ،زخمی ،معذور ،مجبور اور بے بس انسان تھے اس واقعہ سے چند منٹ پہلے ضلع کا ڈی سی ،ایس پی اور انڈین آرمی کے علاوہ پولیس بھی مجبور کھڑی تھی اس بد قسمت بس میں 70خاندانوں کے چشم و چراغ جل کر شہید ہوئے ،بھری بس میں سے صرف واحد ایک عاشق علی نامی شخص تھا جو اس جلتی بس سے بچ کر نکل آیا اور حادثہ کی اطلاع دی یہ بھی گوہانہ سے اسی بس میں واپس آیا تھا ،یہ اطلاع سن کر سب ہی دل پکڑ کر بیٹھ گئے۔

چودھری یٰسین

مزید : ملتان صفحہ آخر