روجھان، مسی دانی بندٹوٹ گیا، قریبی بستیاں زیر آب، نقل مکانی شروع

روجھان، مسی دانی بندٹوٹ گیا، قریبی بستیاں زیر آب، نقل مکانی شروع

روجھان ‘ کوٹ ادو(نمائندہ پاکستان ‘ تحصیل رپورٹر) دریائے سندھ میں ساڑھے 4 لاکھ کیوسک کا پہلا بڑا سیلابی ریلا تونسہ بیراج سے ہوتا ہوا گدو بیراج پہنچ گیا ۔روجھان سے نمائندہ پاکستان کے مطابق دریائے سندھ میں طغیانی کچہ چوہان کا مسی دانی بند ٹوٹ گیا قریبی بستیاں زیرآب (بقیہ نمبر60صفحہ12پر )

لوگوں کی نقل مکانی شروع تفصیل کے مطابق دریائے سندھ کی سطح بلند ہوگئی اور طغیانی کے باعث روجھان کی یونین کونسل کچہ چوہان کا مسی دانی بند ٹوٹ گیا جس کے باعث قریبی بستیاں زیرآب آگئی ہیں سیلابی علاقوں سے لوگوں کی اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے جبکہ دریائے سندھ کی سیلابی ریلے سے مونگی سمیت دیگر سینکڑوں ایکڑ فصلات زیرآب آگئے ہیں اس کے علاوہ سیلابی ریلہ سے بستی سیلاتانی سمیت واہ ماچکہ کے علاقے زیرآب آگئے ہیں ۔ کوٹ ادو سے تحصیل رپورٹر کے مطابق ملک کے سب سے بڑے دریائے سندھ میں چشمہ بیراج سے آنے والاساڑھے 4لاکھ کیوسک کا بڑا سیلابی ریلا میانوالی،لیہ،کوٹ ادو ،تونسہ بیراج،ڈی جی خان اور راجن پور کی حدود سے گزرتا ہوا گڈو بیراج پر پہنچ گیا ہے،اور سکھر بیراج کی حدود میں داخل ہونا شروع ہوگیا ہے،گڈو بیراج اور سکھر بیراج کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے،گڈو بیراج پر اپ سٹریم کی طرف4لاکھ59ہزار8کیوسک اور ڈاؤن سٹرے کی جانب4لاکھ 28ہزار640کیوسک پانی کا بہاؤ ہے،سکھر بیراج پر اب سٹریم کی جانب3لاکھ50ہزار312اور ڈاؤن سٹریم کی طرف 3لاکھ22ہزار557کیوسک پانی بہہ رہا ہے ادھر کالا باغ ،چشمہ اور تونسہ بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں ہونے والی بارشوں اور گرمی کے باعث شمالی علاقوں میں برف پگھلنے کے عوامل کے سبب ڈیموں میں پانی کی زیادہ آمد کا سلسلہ جاری ہے جبکہ دریاؤں کی صورت حال کے مطابق ڈیموں سے پانی کا اخراج آمد کے مقابلے میں کم کیا جا رہا ہے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر