سوچنا ہو گا کہ ہم کب تک ایک دوسرے کی لاشیں کراتے رہیں گے : مصطفی کمال

سوچنا ہو گا کہ ہم کب تک ایک دوسرے کی لاشیں کراتے رہیں گے : مصطفی کمال

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ جابر اور ظالم تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں ۔جس شہر میں سچ بولنے کی سزا موت تھی وہاں آج ہم سب کو ایک کرنے کی جدوجہد کررہے ہیں ۔ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم کب تک ایک دوسرے کی لاشیں گراتے رہیں گے ۔حکمرانوں نے کراچی کا برا حال کردیا ہے ۔شہر یوں کو پانی ،بجلی سمیت بنیادی سہولتوں سے محروم کردیا گیا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو کراچی یونیورسٹی میں جشن آزادی کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔چیئرمین پی ایس پی کا جامعہ کراچی پہنچنے پر طلباء نے پرتپاک استقبال کیا اور پھولوں کی پتیاں نچھاورکیں ۔سید مصطفی کملا نے جشن آزادی کے سلسلے میں پرچم کشائی کی اور کیک کاٹا ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے دلوں سے نفرت کو نکالنا ہوگا ۔دلوں کو صاف نہیں تو ہمارے گھر ،گلی محلے بھی کچرے سے پاک نہیں ہوسکتے ہیں ۔ہم سیاسی جھنڈوں اور مسالک میں بٹ گئے ہیں۔میں نے پارٹی تنظیم کے جھنڈے لگانے اور ہٹانے پر درجنوں نوجوانوں کو مرتے دیکھا ہے۔لوگ جس کو ووٹ ڈالنا چاہتے ہیں ان کو ان کو اپنا حق استعمال کرنے دو۔ہم سیاست کے نام پر کب تک ایک دوسرے کی لاشیں گراتے رہیں گے۔ ہمیں ایک دوسرے سے ملنا ہے ایک ساتھ کاروبار کرنا ہے۔ میں آخری وقت تک اپنے کارکنان کے ہاتھ میں پاکستان کا جھنڈا دوں گا۔ حکمران جماعت سمیت آج پاکستان کی تمام بڑی جماعتیں احتجاج پر ہیں۔۔ کسی کو اس بات کی فکر نہیں ملک کا کیا ہوگا۔سید مصطفی کمال نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک سال میں بھرپور کامیابی دی ہے ۔آج ہماری جماعت کے دفاتر پورے پاکستان میں موجود ہیں ۔ہم لوگوں کو ایک کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں نے ہمارا بیڑا غرق کر رکھا ہے۔ کراچی میں لاکھوں مکانات ایسے ہیں جہاں تین ماہ بعد ایک گھنٹے کے لیے پانی آتا ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں گھنٹوں بجلی غائب رہتی ہے۔ کچرے نے شہر کا برا حال کر رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ کچھ سال پہلے کٹی پہاڑی میں جانا ناممکن تھا لیکن آج جب ہم وہاں جاتے ہیں تو لوگ ہمیں خوش آمدید کہتے ہیں ۔جس شہر میں سچ بولنے کی سزا موت تھی وہاں ہم نے سب کو پاکستان کے جھنڈے تلے متحد کردیا ہے اور جو جابر تھے ظلم کرنے والے لوگ تھے وہ تاریخ کا حصہ بن گئے ہیں۔

مزید : کراچی صفحہ اول