سرمایہ کاروں کو ہر قسم کی معاونت اور سہولتیں دینے کیلئے تیار ہیں : پرویز خٹک

سرمایہ کاروں کو ہر قسم کی معاونت اور سہولتیں دینے کیلئے تیار ہیں : پرویز خٹک

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک نے کنٹری ڈائریکٹر برٹش کونسل Rosemari Hilhorst کی خیبرپختونخو امیں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی اور دو طرفہ تعلقات میں مضبوطی کے عزم کا خیر مقدم کرتے ہوئے یقین دلایا ہے کہ صوبائی حکومت ہر قسم کی معاونت اور سہولیات کی فراہمی کیلئے تیار ہے ۔خیبرپختونخوا سرمایہ کاری کیلئے موزوں ترین صوبہ بن چکا ہے۔شفاف نظام اور بااختیار اداروں کا قیام اُن کی حکومت کی ترجیح رہی ہے ۔صوبائی صنعتی پالیسی کے تحت سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات دی جارہی ہیں۔ہم نے صوبے کو بیرونی اور مقامی سرمایہ کاروں کیلئے اوپن کر دیا ہے۔سی پیک کے تناظر میں خیبرپختونخوا صنعت و تجارت کا حب بننے جارہا ہے ۔چین سمیت دیگر بیرونی ممالک کے سرمایہ کار خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کے بیجنگ میں حالیہ اکنامک روڈ شو میں 23 ارب ڈالر کے منصوبوں پر ایم او یوز کئے گئے جن کے تحت متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کا عمل جاری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے وزیراعلیٰ ہاؤس پشاو رمیں کنٹری ڈائریکٹر Rosemari Hilhorst کی سربراہی میں برٹش کونسل پاکستان کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔سٹرٹٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزادہ سعید اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ملاقات میں باہمی دلچسپی کے اُمور اوردوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کنٹری ڈائریکٹر برٹش کونسل کی طرف سے خیبرپختونخوا کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی اور صوبائی حکومت پر اُن کے اعتماد کا شکریہ ادا کیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ اُن کی حکومت چین سمیت دیگر دوست ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعلقات اور باہمی تجارت کی خواہاں ہے اور اس مقصد کیلئے نظر آنے والے اقدامات کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ خیبرپختونخواماضی میں صنعتوں اور سرمایہ کاری کیلئے موزوں نہیں تھا جس کے پیچھے نظام کی کمزوری سمیت کئی دیگر وجوہات تھیں ۔ موجودہ صوبائی حکومت کی اصلاحات اور سرمایہ کار دوست صنعتی پالیسی کی وجہ سے نئی صنعتوں کا احیاء ہونے لگا ہے۔ سی پیک کی وجہ سے بیرونی ممالک کے سرمایہ کار بھی یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔ صوبائی حکومت صوبے میں سرمایہ کاروں کو ون ونڈ و آپریشن کی سہولت سمیت پرکشش مراعات دے رہی ہے۔ سی پیک کے تناظر میں بیجنگ روڈ شو میں کئے گئے معاہدوں پر عمل درآمد جاری ہے۔ آئندہ چھ سات سال میں 10 ارب ڈالر سے زائد آمدنی کی توقع ہے۔صوبے بھر میں 17 صنعتی زونز قائم کئے جارہے ہیں۔ صوبے میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کے پیش نظر ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے جو پاکستان ایئر فورس ، چین کی کمپنیوں ، فرنٹیرورکس آرگنائزیشن اور دیگر سرمایہ کار کمپنیوں کے ذریعے قائم کئے جارہے ہیں۔ صنعتکاروں اور متعلقہ کمپنیوں کی ڈیمانڈ پر تربیت یافتہ مطلوبہ افرادی قوت فراہم کی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ تربیتی مراکزکے قیام کو متعلقہ اکنامک زونز میں ہی ترجیح دی جارہی ہے ۔وزیراعلیٰ نے کنٹری ڈائریکٹر کی خصوصی دلچسپی پر تعلیم اور صحت کے شعبے میں حکومتی اصلاحات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ سکولوں کی سٹینڈرڈائزیشن کا زیادہ تر کام مکمل ہو چکا ہے ۔صوبہ بھر کے سکولوں میں سٹاف اور دیگر سہولیات فراہم کی گئی ہیں ۔ پرائمری کی سطح پر انگلش میڈیم شروع کیا ہے تاکہ سب کو معیاری تعلیم کے یکساں مواقع میسر آئیں ۔صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اساتذہ کو حاضری کا پابند اور جوابدہ بنایا گیا ہے۔بہترین کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کو ایوارڈ دیا جا تا ہے ۔اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی ترسیل ، فیکلٹی کے تبادلے اور تحقیق کے شعبے میں بین الاقوامی یونیورسٹیوں کے ساتھ معاہدے کئے جارہے ہیں۔ خیبرپختونخوا میں ریسرچ سنٹرز اور لیبارٹریز کے قیام کیلئے سنگوا یونیورسٹی بیجنگ کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے صحت کے حوالے سے کہاکہ شعبہ صحت میں دیگر انقلابی اصلاحات کے ساتھ ساتھ صحت انصاف کارڈ صوبائی حکومت کا ایک اہم پالیسی اقدام ہے جس کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر پذیرائی حاصل ہے ۔اس منصوبے کے تحت24 لاکھ مستحق خاندانوں کو علاج کی مفت سہولت فراہم کی جارہی ہے۔کنٹر ی ڈائریکٹر برٹش کونسل نے صوبائی حکومت کی اصلاحات اور پرویز خٹک کی قیادت پر بھر پور اعتما د کا اظہا رکرتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کی مضبوطی کی خواہش کا اظہار کیا انہوں نے خیبرپختونخو اکے مختلف شعبوں خصوصاً تعلیم اور جدید ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری میں دلچسپی ظاہر کی ۔

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخٹک نے خیبر پختونخوا ریونیواتھارٹی کی کارکردگی کو سراہا ہے اور اتھارٹی کی استعداد کار میں مزید اضافہ کیلئے کارکردگی کی بنیاد پرمراعات کیلئے ریوارڈ ریگولیشن 2017 کی اُصولی منظوری دی ہے اور اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل کو بین الاقوامی ڈویلپمنٹ پارٹنرز کی فنی معاونت کے حصول کا باضابطہ اختیار دیا ہے۔وزیراعلیٰ نے اتھارٹی کی ریونیو جنریشن پراگرس پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہاکہ اتھارٹی کو ہر سال ریونیو جنریشن کا ہدف پچھلے سال کی نسبت زیادہ دیا جاتا ہے۔اُس کے باوجود یہ متعین ہدف سے زیادہ ریونیوجنریٹ کرتی ہے جس کا ماضی کی حکومتوں سے موازنہ کیا جائے تو فرق نظر آتا ہے جو محکمے کی اعلیٰ کارکردگی کا عکا س ہے ۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاو رمیں خیبرپختونخوا ریونیو اتھارٹی کی پالیسی کونسل کے پانچویں اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔صوبائی وزیر قانون امتیاز شاہدقریشی ، صوبائی وزیر برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن میاں جمشید الدین کاکا خیل، ایم پی اے خلیق الرحمن ، چیف سیکرٹری عابد سعید ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس میں کونسل کے چوتھے اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی اورسابقہ اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد کے حوالے سے بریف کیا گیا ۔اجلاس کو بتا یا گیا کہ پالیسی کے سابقہ فیصلے کی روشنی میں ایک جامع ریکروٹمنٹ پلان وضع کیا گیا جس کے تحت بھرتیوں کا عمل جاری ہے ۔ کیپر ایکٹ کا مسودہ تیا رہے جس کی اتھارٹی سے جلد منظوری لی جائے گی ۔ اس کے علاوہ کیپر ا کی نئی ویب سائٹ بھی 10 ستمبر تک تیار ہو گی جس پر تمام تفصیلات موجود ہوا کریں گی ۔ وزیراعلیٰ نے ٹیلی کام کی سپیشل آڈٹ کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اس سلسلے میں ایف بی آر کے ساتھ اجلاس کے انعقاد کی ہدایت کی ۔ انہوں نے ٹیکس چوری کی گنجائش ختم کرنے کیلئے ٹیکس وصولی کا موجودہ طریقہ کار تبدیل کرکے ٹیکس فکس کرنے کی تجویز سے اتفاق کیا اور کہاکہ ٹیکس فکس کرنے کی وجہ سے چوری سے بچ جائیں گے کیونکہ اکثر اوقات سروسز کم ظاہر کی جاتی ہیں تاکہ ٹیکس کم دینا پڑے ۔اجلاس کو اتھارٹی کے کام میں درپیش مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے ڈبل ٹیکس ادائیگی کا معاملہ بھی اُٹھا یا گیا ۔ اس پر وزیراعلیٰ نے کہاکہ محکمہ صنعت اور ایکسائز اس مسئلے کے حل کیلئے قابل عمل تجویز دیں ۔اجلا س کو اتھارٹی کے عدالت میں مختلف کیسز کے سلسلے میں قانونی معاون کی ضرورت سے آگاہ کیا گیا جس پر وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ اس مسئلے کے حل کیلئے متعلقہ حکام کی مشاور ت سے قانونی آپشن اختیار کیا جائے اور قابل عمل طریقہ کار نکالا جائے تاکہ ریونیو جنریشن میں رکاوٹ نہ آئے ۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ریونیوجنریشن کے سلسلے میں اگر چہ اتھارٹی کی کارکردگی بہت اچھی ہے تاہم ہم نے اسے مزید بہتر بنانا ہے۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ ہر حکومت ہر بجٹ میں ریونیو جنریشن کا ٹارگٹ بڑھاتی ہے جب ہم اتھارٹی کو ٹارگٹ زیاد ہ دیتے ہیں مقر ر شدہ اُس ٹارگٹ کے حصول پر اُس کی کارکردگی کا اعتراف بھی ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ بعض حلقوں میں کم ریونیو جنریشن کی باتیں گردش کرتی ہیں اور اکثر اوقات میڈیا میں بھی یہی تاثر دیکھنے کو ملتا ہے جو اصل صورتحال کے بالکل برعکس ہے ۔انہوں نے محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ میڈیا میں ریونیو جنریشن کی اصل صورتحال پیش کریں کیونکہ اس وقت یکطرفہ تصویر دکھائی جارہی ہے اور کارکردگی کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے ۔منفی تصویر کشی حقائق کے برعکس ہے ۔ انہوں نے ریسورس جنریشن میں اپنی حکومت اور سابقہ حکومتوں کے درمیان موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت کا ریونیو جنریشن سابقہ صوبائی حکومتوں سے بہتر ہے اور اس وقت دیگر صوبوں سے کسی صورت کم نہیں ۔ ہمیں اصل حقائق کو منظر عام پر لانا چاہیئے تاکہ لوگ ریونیو جنریشن کی حقیقی صورتحال سے آگاہ ہو سکیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول