کھادڈیلرز کا سبسڈی کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کی اپیل

کھادڈیلرز کا سبسڈی کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کی اپیل

کراچی( اسٹاف رپورٹر)کھاد کی صنعت سے وابستہ ڈیلرز نے حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے حالیہ نوٹیفیکیشن کا خیرمقدم کیا ہے تاہم ایک شق کے خلاف ابھی تک بعض اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں جس میں حکومت نے ہر کھاد ڈیلر کے لئے نیشنل ٹیکس نمبر کو ضروری قرار دیاہے۔ بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ شق یقینی طور پر قابل عمل نہیں ہے کیونکہ یہ صرف ان ڈیلرز کے لئے ہی سبسڈی کی ادائیگی کو محدود کرتی ہے جو ٹیکس حکام کے پاس رجسٹرڈ ہیں۔ حکومت کو اس حقیقت پر غور کرنا چاہئے کہ چھوٹے ڈیلرز کی ایک بڑی اکثریت (90 فیصد سے زائد) غیر رجسٹرڈ ہے اور اس کے پاس کوئی نیشنل ٹیکس نمبر نہیں ہے اس لئے وہ کسانوں کو سبسڈی کے فوائد منتقل نہیں کر سکتے۔یہ بات پیش نظر رہے کہ اس سبسڈی کا ابتدائی اعلان صرف انتہائی سادہ تصدیق کے عمل کی بنیاد پر تھا لیکن بعد ازاں وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نے اس عمل کو غیر ضروری طور پر تبدیل کر دیا اور اس میں کئی پیچیدگیاں بھی شامل کر دی گئیں جو ادائیگیوں میں طویل تاخیر کا سبب بن رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں مجموعی طور پر 16 ارب 70 کروڑ روپے کی رقم واجب الادا ہے اور کھاد کی صنعت سبسڈی بحران کی وجہ سے بڑے مالیاتی چیلنج کا سامنا کر رہی ہے۔ باہمی مشاورت کے بعد یہ معاملہ حل کرنے کی بجائے حکام نے یہ پابندی والی شق برقرار رکھی ہے جس کی وجہ سے اس سکیم کے ضابطے کی پیچیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سبسڈی کے موثر ہونے کی شرح انتہائی کم ہے اور غیر رجسٹرڈ تاجروں کی بڑی اکثریت سبسڈی کے اس عمل میں حصہ نہیں لے سکے گی اور کسانوں کو اس کے فوائد منتقل نہیں کر سکتی۔ اس سکیم کا بنیادی مقصد کھاد کی قیمتوں میں کمی تھا لیکن موجودہ حالات اور پیچیدگیوں کی وجہ سے اس سکیم کے مقاصد حاصل نہیں ہو سکتے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے مطالبہ کیا ہے کہ یوریا بنانے والے کم قیمت پر فروخت ہونے والی کھاد کی انوائس کے ساتھ تفصیلات فراہم کریں۔ انہیں خریداروں کے نام، این ٹی این نمبر، فراہمی کی تفصیلات، فروخت ہونے والے تھیلوں کی تعداد اور دیگر متعلقہ معلومات بھی دینا ہوں گی جیسا کہ صوبائی سطح پر وہ معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس کے بعد حکومت نے 80 فیصد رقم فوری طور پر نیشنل بینک آف پاکستان کے ذریعے فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ کلیمز کی 20 فیصد رقم غیر جانبدار فریق سے کلیمز کی تصدیق کے بعد ادا کی جائے گی۔ ادا ہونے والی رقم کو انڈمنٹی (ضمانتی) بانڈ کے ذریعے تحفظ دیا جائے گا جو کہ تیسرے فریق کی طرف سے تصدیق کے بعد جاری ہوگی باقی کلیمز کی 20 فیصد رقم تیسرے فریق کی تصدیق کے بعد 90 دن میں ادا کر دی جائے گی۔ حکومت اور انڈسٹری کے درمیان اس طرح کے قومی اہمیت کے معاملات میں باہمی تعاون اور اتفاق رائے ہونا چاہئے اور اس سبسڈی کے پروگرام کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جانا چاہئے۔ کھاد کی صنعت کے لئے امدادی طریقہ کار اور مضبوط زرعی پالیسیاں کسانوں کو اقتصادی لحاظ سے مستحکم بنانے اور ان کی خوشحالی میں مددگار ثابت ہوں گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر