صوبائی محتسب کی جانب سے پی ڈی اے پلاٹس ریسٹوریشن چارجز واپسی کے احکامات

صوبائی محتسب کی جانب سے پی ڈی اے پلاٹس ریسٹوریشن چارجز واپسی کے احکامات

پشاور(نیوز رپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے جسٹس لعل جان خٹک اور جسٹس غضنفر پرمشتمل دورکنی بنچ نے صوبائی محتسب کی جانب سے پی ڈی اے کے پلاٹس ریسٹوریشن چارجزکی واپسی کے احکامات معطل کرتے ہوئے صوبائی حکومت اورصوبائی محتسب کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیاہے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے یہ عبوری احکامات گذشتہ روز ڈی جی پی ڈی اے سلیم وٹوکی جانب سے طارق آفریدی ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائررٹ پرجاری کئے اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ صوبائی محتسب نے 26 اگست 2016 کو ایک آرڈر جاری کیاہے کہ پی ڈی اے پلاٹس ریسٹوریشن چارجزکی وصولی غیرقانونی طورپرکررہی ہے جبکہ 1985ء رولزکے تحت اگرکوئی پلاٹ کی نوعیت بدلناچاہے توایک مختص فیس جمع کرکے اس کی نوعیت بدلی جاسکتی ہے جبکہ صوبائی محتسب نے اس اقدام کو غیرقانونی قرار دیاہے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی محتسب کاموقف ہے کہ2002ء کے قانون کے مطابق جب تک ایک چیزکی اشاعت نہ ہوئی ہوتو وہ نافذ نہیں ہوسکتی انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جوپلاٹ انسٹی ٹیوٹ آف یورالوجی کے لئے مختص کیاگیاتھاوہ پلاٹ نارتھ ویسٹ ہسپتال کے لئے الاٹ کر دیاگیاجس پرپی ڈی اے نے مذکورہ پلاٹ کینسل کیا اور 72لاکھ روپے مزید ریسٹوریشن چارجزلے کراسے بحال کردیاگیاجس پرڈاکٹربلال نے ڈی جی کو چارجزکم کرنے کی درخواست دی تاہم درخواست مسترد کردی گئی بعدازاں گورنرکو بھی اپیل کی گئی ڈی جی کی جانب سے عدالت کو بتایاگیاکہ اب صوبائی محتسب مذکورہ چارجزواپس کرنے کے لئے پی ڈی اے کو کہہ رہا ہے تاہم اگراس طرح کیاجائے تو1985رولزختم ہوجائیں گے اورہربندہ آکراپنی مرضی سے بلڈنگ بنائیں گئے اورپی ڈی اے کاعملی وجود ختم ہوجائے عدالت عالیہ کے فاضل بنچ نے صوبائی محتسب کے 26 اگست 2016 کے رقم واپسی کا جاری کردہ حکمنامے کو معطل کردیا اورصوبائی حکومت ٗ صوبائی محتسب کونوٹس جاری کرکے جواب مانگ لیا۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر