محکمہ تعلیم کے سکولوں میں بنیادی سہولتوں کیلئے دوررس اقدامات

محکمہ تعلیم کے سکولوں میں بنیادی سہولتوں کیلئے دوررس اقدامات

پشاور( کرائمز رپورٹر)خیبرپختونخوا میں محکمہ تعلیم نے سکولوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور معیار تدریس کے لئے متعدد اقدامات کئے ہیں جن میں سکولوں میں غیر موجود سہولتوں کی فراہمی، وظائف اور ووچرز پروگرام، بہتر گورننس IMU، آن لائن ایکشن مینجمنٹ سسٹم، برٹش کونسل کے تعاون سے 83000 ٹیچرز کی ٹریننگ، 1 سے 5 کلاس تک نصاب پر نظرثانی مکمل اور 6۔8 کلاس تک نصاب پرنظرثانی جاری جیسے اقدامات شامل ہیں۔ گزشتہ 4 سالوں میں حکومت نے 2133 نئے سکول کھولے جن میں مکمل سہولیات اور درس و تدریس معیار کے مطابق ہے۔ 2013 میں حکومت نے 1980 سے قائم سکولوں کو دوبارہ سے کھولا جو گزشتہ دور کی غفلت کی وجہ سے بند پڑے تھے۔ گزشتہ چار سالوں میں حکومت خیبرپختونخوا نے 633 پرائمری سکول، 507 مڈل، 465 ہائی سکول، 276 ہائر ایجوکیشن کے سکول، 132 مدرسوں کو پرائمری سکول میں تبدیل کرکے انہیں دوبارہ تعلیم کے قابل بنایا۔ اس طرح 2013 سے اب تک 2133 سکولوں کو دوبارہ سے تعلیم کے قابل بنایا۔اس کے علاوہ 10,000 اضافی کلاس رومز، 14400 حفاظتی دیواریں، 17350 گروپ لیٹرینز، 10,550 سے زائد سکولوں کو بجلی کی فراہمی، 13600 سے زائد سکولوں میں صاف پینے کے پانی کی فراہمی اور غیر موجود سہولتوں کی فراہمی کیلئے 21 بلین روپے اور 2017-18 میں مزید 8 بلین روپے سے ان منصوبوں میں سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ ان اقدامات سے طلباء، والدین اور اساتذہ کے اعتماد اور حوصلہ میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ جس کے نتیجے میں گزشتہ دو سالوں میں پرائیویٹ سکولوں سے 151000 بچے سرکاری سکولوں میں آگئے ہیں۔ سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر