نوشہرہ ،آلودگی پھیلانے پرعوام کاچراٹ سیمنٹ فیکٹری کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

نوشہرہ ،آلودگی پھیلانے پرعوام کاچراٹ سیمنٹ فیکٹری کے سامنے احتجاجی مظاہرہ

نوشہرہ(بیورورپورٹ)نوشہرہ کے علاقہ خیسری اور لکڑئی کے عوام کا چراٹ سیمنٹ فیکٹری میں ای پی اے (ماحولیاتی تحفظ ایجنسی) کے منظوری کے بغیر فیکٹری میں لائن iiاورلائنiii کیلئے بلڈنگ کی تعمیر اور پیداواری عمل کے خلاف چراٹ سیمنٹ فیکٹری کے مین گیٹ کے سامنے زبردست احتجاجی مظاہرہ مظاہرین کی قیادت الحاج پرویز خان خٹک ون کررہے تھے مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ اٹھارکھے تھے جس پر علاقے کے غریب عوام کے حق میں نعرے درج تھے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے الحاج پرویز خان خٹک نے کہا کہ چراٹ سیمنٹ فیکٹری انتظامیہ تقسیم کروں اور حکومت کروں والی پالیسی پرعمل پیرا ہے اور علاقے کے عوام کو تقسیم درتقسیم کررہے ہیں انتہائی افسوس کی بات ہے کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں وزارت اور محکمہ ماحولیات تحفظ کے ہوتے ہوئے بھی چراٹ سیمنٹ فیکٹری انتظامیہ نے ماحولیاتی تحفظ کے قوانین کو پاؤں تلے روند ڈالا اور فیکٹری میں لائن iiاور لائن iii کیلئے بلڈنگ کی تعمیر کیلئے محکمہ تحفظ ماحولیات سے منظوری تک نہیں لی بلڈنگ تو الگ بات لائن ٹو اور لائن تھری میں پیدواری عمل میں شروع ہوچکا ہے انہوں نے کہا کہ چراٹ سیمنٹ فیکٹری کے قیام سے لیکراب تک خیسری اور لکڑئی سمیت دیگر علاقوں میں گردوغبار کی وجہ سے مختلف بیماریاں پھیل رہی ہے اورلوڈڈ گاڑیوں کی آمدورفت سے یہاں کی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہوکر کھنڈرات کے منظر پیش کررہے ہیں مشینری کے شور نے یہاں کے مکینوں کو ذہنی مریض بنادیاپینے کاصاف پانی نہ ہونے کے برابر اور ان کی فیکٹری بورز کی وجہ سے پانی کی سطح کافی حد تک نیچے چلاگیا ہے جس کی وجہ سے پینے کی پانی کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے اور یہاں کے مکین گرمی کے موسم میں پانی کی بوند بوند کوترس رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت وقت ادارہ تحفظ ماحولیات اور دیگر انسانی حقوق کی تنظیمیں چراٹ سیمنٹ فیکٹری انتظامیہ کو اس کا پابند بنائیں کہ فیکٹری میں خالی اسامیوں کے پچاس فیصد کوٹہ مقامی افراد کو دے علاقے میں بہترین ہسپتال کی تعمیر کیلئے اقدامات اٹھائیں علاقے میں پینے کی صاف پانی کی فراہمی کیلئے ٹیوب ویل بنائیں ماحولیاتی الودگی کے خاتمے کیلئے فیکٹری کے اندر اور پورے علاقے میں درخت اگائیں انہوں نے مزید کہا کہ علاقہ خیسری اور لکڑئی پہاڑی علاقے ہیں اور ان پہاڑوں کو چراٹ سیمنٹ فیکٹری انتظامیہ اپنی مفادات کیلئے استعمال کررہی ہے اور پہاڑوں کی کٹائی بارود کے ذریعے کی جارہی ہے اور ان 35 سالوں میں اتنا بارود استعمال ہوا جتنا ہیروشیما پر بھی استعمال نہیں ہوا ہے اور اسی بارود کے استعمال سے فیکٹری کے گردوغبار کی وجہ سے علاقے کے اکثریت جلد کے مختلف خطرناک امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر