میثاق جمہوریت پر عمل کیا جاتا تو نواز شریف کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا: یوسف رضا گیلانی

میثاق جمہوریت پر عمل کیا جاتا تو نواز شریف کو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا: یوسف رضا ...

ملتان(نیوز رپورٹر) سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ نواز شریف میثاق جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنتے تو آج انہیں یہ دن دیکھنا نہ پڑتا ‘ پیپلزپارٹی نے اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد1973 کے آئین کو اس کی روح کے مطابق بحال کر دیا تھا اور چارٹر آف ڈیموکریسی پر 85 فیصد عملدرآمد ہوا لیکن بقیہ 15 فیصد نواز شریف جماعت کی مزاحمت کے باعث عمل نہ ہوسکا اگر میثاق جمہوریت پر مکمل عمل ہو جاتا تو آج یہ صورتحال نہ ہوتی ‘ پارلیمنٹ مضبوط ہوتی ‘ آج میاں نواز شریف کو میثاق جمہوریت کی افادیت اور پارلیمنٹ کی کمزوری کااحساس ہو رہا ہے تو اس کیوجہ بھی وہ خود ہیں لیکن اب وقت ان باتوں کیلئے مناسب نہیں ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پریس کلب ملتان میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ آج افتخار محمد چوہدری اور نواز شریف میر تحسین کر رہے ہیں ‘ آئین کے آرٹیکل 63,62 پر تنقید کی جا رہی ہے اس حوالے سے یہ مناسب وقت نہیں ہے اس کیلئے ملک کی تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جس لیڈرشپ نے عوام کو ڈلیور کرنا تھا وہ سپریم کورٹ کیخلاف سڑکوں پر ہے نواز شریف سے اپیل کرتا ہوں کہ خدا کیلئے ملک پر رحم کریں اور ملک کی اکائیوں کو آپس میں دست و گریباں کرنے سے گریز کریں ۔ میاں نواز شریف صوبوں کو سپریم کورٹ کیخلاف سڑکوں پر نکال لائے ہیں آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت کوریلی میں شامل کرنا انتہائی خطرناک ہے ‘ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ نواز شریف پچھلے چند دنوں سے تکرار کر رہے ہیں کہ ان کیخلاف سازش کی گئی ہے حکومت میں بھی وہ خود ہیں اور اب اپوزیشن بھی خود ہیں‘ قوم سننا چاہتی ہے کہ وہ سازش کیا ہے اور ان کیخلاف کون سازش کر رہا ہے ‘ ہمت کرکے قوم کو آگاہ کردیں ‘ انہوں نے کہا پیپلز پارٹی آئین کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور ایک نظریاتی جماعت ہے ڈکٹیٹر کے آتے نئی نئی جماعتیں سامنے آئی ہیں لیکن ڈکٹیٹر کے جاتے ہی وہ جماعتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہیں ‘ پیپلزپارٹی ہمیشہ عوام کی سپورٹ سے اقتدار میں آتی ہے کبھی چور دروازے سے اقتدار میں آنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔ میثاق جمہوریت ایک دوسرے کو فوائد پہنچانا ہرگز نہ تھا بلکہ پارلیمنٹ کو مضبوط کرنا مقصود تھا لیکن بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں نے اس طرف توجہ نہیں دی جب تک پارلیمنٹ مضبوط نہیں ہوگی ۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا پیپلز پارٹی نے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے ہمیشہ تسلیم کیے ہیں مجھ سمیت ذوالفقار علی بھٹو ‘ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری عدالتوں میں پیش ہوتے رہے ہیں ‘ سپیکر نے مجھے اہل جبکہ افتخار چوہدری کی عدالت نمبر 3 نے مجھے نااہل قرار دیدیا ‘ میری نااہلی کرپشن کیس میں نہیں ہوئی تھی میرا اورنواز شریف کا کیس مختلف ہے ۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ خط لکھ دو میں اگر خط لکھ دیتا تو آئین کا آرٹیکل 6 مجھ پر لاگو ہو جات ‘ پیپلزپارٹی عدالتوں کے فیصلے ہمیشہ تسلیم کرتی رہی ہے مخدوم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ ملک کی 20 کروڑ عوام کا نمائندہ ادارہ پارلیمنٹ ہے اور ہم نے آج تک اس کی اہمیت پر توجہ نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر پارٹی کو ری آرگنائز کے حوالے سے صوبائی ‘ ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ سطح پر تنظیم سازی آخری مراحل میں ہے ۔ پیپلزپارٹی نے اپنے دور اقتدار میں تمام شعبہ زندگی سمیت اقلیتی برادریوں سمیت کسان ‘ مزدور ‘ خواتین کے حقوق کیلئے نمایاں خدمات انجام دی ہیں ‘ پیپلز پارٹی ایک نظریہ ہے بھٹو نے جو نظریہ دیا تھا آج بھی اس پر کاربند ہیں ‘ آئین و قانون کی حکمرانی اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں ‘ قبل ازیں پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب ‘ ڈویژن اور اضلاع کے اہم تنظیمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے تمام ڈویژنز اور اضلاع کی تنظیم سازی مکمل کرنے کے بعد اب ہمارا ٹارگٹ تحصیلوں کی تنظیم سازی اور پھر یونین کونسلز کی سطح پر تنظیمیں مکمل کی جائیں گی جبکہ تنظیم سازی کا عمل مکمل ہونے کے بعد جنوبی پنجاب میں ورکرز کنونشن منعقد کئے جائیں گے اور پہلا کنونشن عبدالقیوم جتوئی کی طرف مظفرگڑھ ، دوسرا کنونشن ڈی جی خان ، لیہ اور بھرپور جنوبی پنجاب میں ورکرز کنونشن منعقد ہوں گے۔اجلاس کی صدارت پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے صدر و سابق گورنر مخدوم سید احمد محمود نے کی جبکہ اجلاس میں سینئر نائب صدر جنوبی پنجاب خواجہ رضوان عالم ، جنرل سیکرٹری جنوبی پنجاب میڈم نتاشہ دولتانہ ، سابق وفاقی وزراء سردار عبدالقیو جتوئی ، علامہ حامد سعید کاظمی ، ممبر فیڈرل کونسل عبدالقادر شاہین نے بھی خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی ایک نظریاتی جماعت ہے جس کی جڑیں عوام میں موجود ہیں جبکہ دوسری لیگی جماعتوں کا کوئی نظریہ نہیں ہوتا ان کا نظریہ محض اقتدار تک محدود ہے کیونکہ ایک ڈکٹیٹر کی بنائی ہوئی جماعت اس کے جانے سے دفن ہو جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نواز شریف کے خلاف کسی نے سازش نہیں کی بلکہ ان کی کرپشن نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل کیا جبکہ نواز شریف مگرمچھ کے آنسو بہا کر عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے ڈویژنز ، اضلاع کی تنظیم سازی آئندہ علیحدہ صوبے کی قیام کی بنیاد ثابت ہوگی۔ اجلاس میں پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے صدر و سابق گورنر مخدوم سید احمد محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف عوامی لیڈر نہیں بلکہ ایک سسٹم کے لیڈر ہیں کیونکہ وہ سسٹم کو ہائی جیک کرتے ہیں اور آج پہلی دفعہ دیکھا کہ کسی سسٹم نے نواز شریف کو نااہل کیا جبکہ نواز شریف کی نکالی گئی ریلی حقیقت میں نواز شریف کی ریلی نہیں بلکہ حکومت پنجاب ، آزاد کشمیر حکومت ، بلوچستان حکومت ، حکومت گلگت بلتستان اور وفاقی حکومت کی ریلی ہے اگر چاروں ، پانچوں حکومتوں کو ہٹا کر نواز شریف ریلی نکالے تو پتہ چلے۔ مخدوم سید احمد محمود نے مزید کہا کہ سیاست چلتی رہے گی مگر ہمیں اپنا کام مکمل کرنا ہے اور جنوبی پنجاب کے تمام ڈویژن ، اضلاع کی تنظیمیں مکمل ہوچکی اور اب تحصیلوں کی تنظیم سازی ہمارا اگلا دو ہفتوں کا ٹارگٹ ہے جس کے بعد یونین کونسلز کی سطح پر تنظیم سازی مکمل کی جائے گی جبکہ جنوبی پنجاب بھر کی تنظیم سازی پوری ہونے پر ہر یونین کونسلز میں ممبر سازی کی جائے گی اور ہر یوسی میں کم از کم 500 کارکنوں کی ممبر سازی مکمل ہونے سے پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کی سب سے بڑی اور بھرپور عوامی جماعت بن کر ابھرے گی۔اجلاس میں سابق وفاقی وزراء سردار عبدالقیوم جتوئی اور سید حامد سعید کاظمی نے بھی خطاب کیا جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض جنرل سیکرٹری جنوبی پنجاب میڈم نتاشہ دولتانہ نے ادا کئے اور سابق وفاقی وزیر سردار عبدالقیوم جتوئی نے کہا کہ مسلم لیگ ن کیلئے سرکاری مشینری استعمال ہو رہی ہے اور جمہوریت کو بدنام کیا جا رہا ہے جبکہ ہماری اسٹیبلشمنٹ 70 سال سے مقدس گائے ہے۔ اسے ٹھیک کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں پنجاب کو فوکس کرنا ہوگا اور وفاق کے ساتھ آئندہ پنجاب حکومت بھی بنانا ہوگی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر سید حامد سعید کاظمی نے کہا کہ پیپلزپارٹی اینٹی ا سلام کا لیبل لگانے والوں سے پوچھنا چاہتاہوں کہ قادیانیوں کو غیراسلامی قرار دینا ، جمعہ کی چھٹی ، شراب کی کھلے عام فروخت پر پابندی کس کے کارنامے ہیں؟ انہوں نے مزید کہا کہ حقیقتاً پی ٹی آئی کو نادیدہ قوتیں سپورٹ کر رہی ہیں جبکہ ملتان میں جتنی ترقی ہوئی اس کا کریڈٹ سید یوسف رضا گیلانی کو جاتا ہے لیکن ہم کیش نہ کراسکے اور اتنا کام ہونے کے باوجود رزلٹ نہ ملنا پراپیگنڈے کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے تمام کارناموں پر مٹی ڈالی گئی۔ اجلاس میں پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے سینئر نائب صدر خواجہ رضوان عالم کی والدہ کی وفات اور پارٹی جیالے حفیظ جاوید کے انتقال ، پارٹی رہنما حاجی اکرم انصاری کے بیٹے کی وفات اور پارٹی جیالے رئیس قریشی کے والدکے انتقال پر ان کی روح کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ اجلاس میں بابو نفیس انصاری ، مہر ارشاد سیال ، محمد سلیم بھٹی ، احسان الحق نولاٹیحہ ، چوہدری سرور عباس ، شگفتہ چوہدری ، چوہدری یٰسین ، ملتان ڈویژن کے خالد حنیف لودھی ، ڈاکٹر جاوید صدیقی ، بہاولپور ڈویژن کے ایس ڈی شاد ، جاوید اکبر ڈھلوں ، ڈی جی خان ڈویژن کے نوابزادہ افتخار احمد خان ، غلام فرید مہرانی ، ضلع ملتان کے میاں کامران عبداللہ مڑل ، راؤ ساجد علی ، ملتان سٹی کے ملک نسیم لابر ، اے ڈی خان بلوچ ، ضلع بہاولپور کے شاہ رخ ملک ، ارشاد احمد سروہا ، ضلع ڈیرہ غازی خان کے عرفان اللہ کھوسہ اور ہمایوں خان ، قاسم رضا تھہیم ، خانیوال سے ضلع مظفرگڑھ سے انجینئر بلال کھر ، مظہر پہوڑ ، ضلع لیہ کے ملک رمضان بھلر ، ڈاکٹر جاوید اقبال کنجال ، ضلع راجن پور کے وقاص خان گورچانی ، غضنفر امین اکوکا ، ملک محمد سلیم ، امداد اللہ عبا سی ، حسن رضا رضوی ، سید اعجاز شاہ ، رئیس الدین قریشی ، خواجہ عمران ، عمران سمرا ، وحید بھٹہ ، ملک ندیم اختر شریک تھے۔ دریں اثناء پریس کلب ملتان میں صحافیوں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے مخدوم سید احمد محمود نے کہا کہ میاں نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد قومی اداروں کیخلاف ریلی نکال کر پوری قوم کو غلط پیغام دیا ہے کاش یہ ریلی حکومتی سرپرستی کی بجائے صرف نواز شریف کی ہوتی کتنے افسوس کی بات ہے کہ سپریم کورٹ کے نااہل کرنے پر ریلی نکال رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں کو اداروں کے سامنے کھڑا کرنا کون سی دانش مندی ہے نواز حکومت پچھلے چار سالوں سے عوام کو ڈلیور کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوئی ہے اور قومی اداروں کو بھی کمزور کرنے کے درپے ہے جو کہ ملک و قوم کیلئے انتہائی نقصان دہ ہے ۔

مزید : ملتان صفحہ اول