وزیراعظم ، چیف جسٹس اور فوجی قیادت میں ڈائیلاگ ہونا چاہیے سینٹ میں بلائیں گے

وزیراعظم ، چیف جسٹس اور فوجی قیادت میں ڈائیلاگ ہونا چاہیے سینٹ میں بلائیں گے
وزیراعظم ، چیف جسٹس اور فوجی قیادت میں ڈائیلاگ ہونا چاہیے سینٹ میں بلائیں گے

  

اسلام آباد ( آئی این پی) چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے بین الادارہ جاتی مکالمہ شروع کرنے کی اجازت دیدی۔ چیئرمین سینٹ نے کہا ہے کہ اداروں کے درمیان ٹکراﺅ مناسب نہیں۔ عدلیہ، فوج اور حکومت کے درمیان ڈائیلاگ کرایا جائے گا۔ ڈائیلاگ کیلئے وزیراعظم، ملٹری بیوروکریسی اور چیف جسٹس کو دعوت دی جائے گی۔ پارلیمنٹ کو اختیارات دینے کیلئے کمیٹی آف ہول کی تحریک تیار ہونی چاہئے۔ ٹھوس تجاویز آنے تک سینٹ کی ہول کمیٹی کے اجلاس ہوں گے۔

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے آئینی اداروں میں پارلیمنٹ کو سب سے کمزور ترین ادارہ قرار دیتے ہوئے اس کی 9وجوہات کا اعلان کر دیا، حل پیش کئے بغیر سینٹ سے نہیں اٹھ جانا چاہیے، چیئرمین سینٹ نے ایک بار پھر اس بیان کا اعادہ کیا ہے کہ داخلی کمزوریوں کی وجہ سے عدلیہ، انتظامیہ، آمریتیں سب پارلیمنٹ پر حملہ آور ہوتی ہیں، داخلی کمزوریوں پر قابو پاتے ہوئے پارلیمنٹ کو پالیسیوں اور فیصلوں کا محور و مرکز بنانا ہو گا۔ اجلاس میں چیئرمین سینٹ نے کہا کہ طاقت کے مراکز عدلیہ انتظامیہ پارلیمنٹ ہیں مگر پارلیمنٹ داخلی کمزوریوں کے باعث کمزور ترین ادارہ بن کر رہ گیا ہے، انتظامیہ کابینہ پارلیمنٹ پر یلغار کرتی ہے، کبھی عدلیہ اور کبھی آمریتوں کی طرف سے پارلیمنٹ پر حملہ آور ہوتی ہیں، اس کی 9 وجوہات ہیں، ان میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے پارلیمنٹ کو سنجیدگی سے نہ لینے، اہم فیصلوں کا اعلان پارلیمنٹ سے باہر ہونا، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کی بجائے کل جماعتی کانفرنسوں جیسے فورمز کو اہمیت دینے، سیاسی معاملات کو سپریم کورٹ میں لے جانا، اہم امور پر پارلیمانی عمل کو نظرانداز کرنا بالخصوص خارجہ داخلی سلامتی عالمی معاہدوں کو پارلیمنٹ میں پیش نہ کرنا، قرضوں کی معافی، مالیاتی معاہدوں سے پارلیمنٹ کو آگاہ نہ کرنا، پارلیمانی نگرانی کی اہمیت کو تسلیم نہ کرنا، ہاﺅس میں وزیراعظم اور وزراءکی عدم موجودگی پارلیمنٹ کے سوالات کا بروقت جواب نہ آنا، وزیراعظم کی طرف سے اہم بیانات کیلئے پارلیمنٹ کی بجائے پریس کانفرنس، قوم سے خطاب اور عوامی اجتماعات کو اہمیت دینا، ہاﺅس میں دی جانے والی رولنگ پر عملدرآمد نہ ہونا، عوام اور پارلیمنٹ میں عدم رابطہ، پارلیمانی کمیٹیوں کو نظرانداز کرنا جیسے معاملات شامل ہیں، ان داخلی کمزوریوں کی وجہ سے پارلیمنٹ کو اہمیت نہیں دی جا رہی ہے، داخلی کمزوریوں سے قابو پانا ہو گا، قوم سینٹ اجلاس کو دیکھ رہی ہے، بحران پر قابو پانا ہو گا، اجلاس نشستاً گفتاً خالصتاً مصداق نہیں ہونا چاہیے ایسے نہیں اٹھ جانا چاہئے۔

سابق وزیر اعظم سفارش پر لائے اور میرٹ پر نکالے گئے ’ ’ روک سکو تو روک لو‘‘ نوازشریف 130کلومیٹر کی سپیڈ سے راولپنڈی سے رخصت ہوگیا: نیئر حسین بخاری

علاوہ ازیں میاں رضا ربانی نے جمہوریت کے گمنام ہیروز کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے صدر مملکت اور وزیر اعظم پاکستان کو پارلیمنٹ ہاﺅس میں تعمیر کی گئی یادگارجمہوریت پرپھول چڑھانے کی دعوت دی ہے۔ یادگار جمہوریت پر یہ تقریب پارلیمنٹ ہاﺅس میں 14 اگست 2017ءکو پرچم کشائی سے پہلے منعقد کی جائے گی۔ چیئرمین سینٹ نے وزیراعظم پاکستان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے جنہوں نے صدر مملکت کے ہمراہ یادگار جمہوریت پر خراج تحسین پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔قبل ازیں وزیر اعظم نے چیئرمین سینٹ کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے یوم آزادی کی تقریب پرچم کشائی کو 17برس کے طویل وقفے کے بعد پارلیمنٹ ہاﺅس میں منعقد کرنے کی منظوری دی ہے۔

مزید : اسلام آباد