آج کی سب سے بڑی خبر، نواز شریف دراصل حسن نواز کی کمپنی سے تنخواہ لیتے رہے، دستاویزات سامنے آگئیں، تہلکہ برپا ہو گیا

آج کی سب سے بڑی خبر، نواز شریف دراصل حسن نواز کی کمپنی سے تنخواہ لیتے رہے، ...
آج کی سب سے بڑی خبر، نواز شریف دراصل حسن نواز کی کمپنی سے تنخواہ لیتے رہے، دستاویزات سامنے آگئیں، تہلکہ برپا ہو گیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے نا اہلی کے بعد سے مسلسل ایک ہی بات کہی جا رہی ہے کہ انہیں سپریم کورٹ نے اس بات پر نا اہل کردیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی لیکن اب کچھ ایسی دستاویزات منظر عام پر آگئی ہیں جو ان کے اس دعویٰ کی نفی کرتی ہیں اور ثابت کرتی ہیں کہ موصوف ” اوور دی کاﺅنٹر (او ٹی سی)“ طریقے سے فروری سے جولائی 2013 تک (6 ماہ)باقاعدگی سے تنخواہیں وصول کرتے رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ” اوور دی کاﺅنٹر“کاروبار کا وہ طریقہ ہوتا ہے جو دو پارٹیز کے درمیان براہ راست لین دین سے متعلق ہوتا ہے اور اس میں کسی ادارے یا ایکسچینج کی نگرانی نہیں ہوتی۔

ایک بیٹے نے باہر سے پیسے بھجوائے،دوسرے سے تنخواہ نہیں لی،اس پراعتراض سمجھ سے بالاترہے،نواز شریف

مقامی انگریزی روزنامے ’ پاکستان ٹوڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق نواز شریف نے اپنے بیٹے حسن نواز کی کمپنی کیپٹل ایف زیڈ ای کے چیئرمین کے طور پر فروری 2013 کی تنخواہ او ٹی سی سے 6 مارچ 2013 کو وصول کی جبکہ مارچ کی تنخواہ 10 اپریل کو ، اپریل کی تنخواہ 7 مئی کو ، مئی کی تنخواہ 11 جون کو ، جون کی تنخواہ یکم جولائی کو اور جولائی 2013 کی تنخواہ 11 اگست 2013 کو وصول کی۔

نواز شریف کے تنخواہ وصول نہ کرنے کے دعووں کے ساتھ ساتھ ان کے وکیل خواجہ حارث نے بھی سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران تحریری جواب میں کہا تھا کہ نواز شریف نے اپنے بیٹے کی کمپنی کے چیئرمین کے طور پر کسی قسم کی تنخواہ وصول نہیں کی۔

نئی دستاویزات کے مطابق نواز شریف کی جانب سے اگست تا نومبر 2013 کی تنخواہیں وصول نہیں کی گئیں تاہم یہ نئی دستاویزات اس بات کو بھی ثابت کرتی ہیں کہ وہ عوام میں غلط بیانی سے کام لے رہے ہیں جبکہ انہوں نے سپریم کورٹ میں بھی حقائق چھپائے اور انہوں نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی اپنے ٹیکس ریٹرنز میں ان تنخواہوں کا ذکر نہیں کیا۔

واضح رہے کہ پاکستان ٹوڈے کی طرف سے یہ دعویٰ تو کیا گیا ہے کہ ان کے پاس نواز شریف کی تنخواہ وصولی کی نئی دستاویزات موجود ہیں تاہم اخبار کی طرف سے اپنی ویب سائٹ پر خبر میں دستاویزات فراہم نہیں کی گئیں۔

مزید : قومی /اہم خبریں