”ہم اپنے کھلاڑیوں کو ورلڈ الیون کیساتھ پاکستان نہیں بھیجیں گے“ بڑے ملک کے کرکٹ بورڈ نے پاکستانیوں کیلئے انتہائی افسوسناک اعلان کر دیا، یہ کون سی ٹیم کے کھلاڑی ہیں؟ جان کر آپ غصے سے آگ بگولہ ہو جائیں گے

”ہم اپنے کھلاڑیوں کو ورلڈ الیون کیساتھ پاکستان نہیں بھیجیں گے“ بڑے ملک کے ...
”ہم اپنے کھلاڑیوں کو ورلڈ الیون کیساتھ پاکستان نہیں بھیجیں گے“ بڑے ملک کے کرکٹ بورڈ نے پاکستانیوں کیلئے انتہائی افسوسناک اعلان کر دیا، یہ کون سی ٹیم کے کھلاڑی ہیں؟ جان کر آپ غصے سے آگ بگولہ ہو جائیں گے

  

ویلنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیوزی لینڈ کے کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ وہ سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑیوں کو ورلڈ الیون ٹیم میں شمولیت کی اجازت نہیں دیں گے جسے 3 ٹی 20 میچ کھیلنے کیلئے ستمبر میں پاکستان کا دورہ کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی پہلے سرکاری دورے پر سری لنکا روانہ ہو گئے

نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ وائٹ نے کہا ہے کہ اگرچہ نیوزی لینڈ کی ٹیم نے ستمبر میں کوئی بھی انٹرنیشنل سیریز نہیں کھیلنی، اس کے باوجود سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل 21 کھلاڑی اس ٹیم میں شامل نہیں ہوں گے جس کا انتخاب انگلینڈ کے سابق کوچ اینڈی فلاور کر رہے ہیں۔

غیر ملکی ویب خبر رساں ادارے کے مطابق ڈیوڈ وائٹ نے کہا وہ جانتے ہیں کہ ورلڈ الیون میں شمولیت کیلئے نیوزی لینڈ کے چند کھلاڑیوں پر نظر ہے اور پی سی بی نے بھی ورلڈ الیون میں شامل کھلاڑیوں کو بڑی رقم دینے کی پیشکش کی ہے لیکن سینٹرل کنٹریکٹ حامل کھلاڑی اس میں شامل نہیں ہوں گے۔

تاہم لوک رونچی اور برینڈن میکالم جیسے کھلاڑی اگر فیڈریشن آف انٹرنیشنل کرکٹرز ایسوسی ایشن کی جانب سے سیکیورٹی رسک قرار دئیے جانے کے باوجود بھی پاکستان جانے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو ان کی راہ میں رکاوٹ حائل نہیں کی جائے گی۔

ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ ”سینٹرل کنٹریکٹ میں شامل کھلاڑی انٹرنیشنل مصروفیات کے باعث ورلڈ الیون کیلئے دستیاب نہیں ہوں گے اور اس وقت میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔“

یاد رہے کہ نیوزی لینڈ اے ٹیم نے بھارت کا دورہ کرنا ہے جس دوران 3 ون ڈے انٹرنیشنل اور 3 ٹی20 انٹرنیشنل کھیلے جانے ہیں مگر یہ دورہ اکتوبر میں ہونے کا امکان ہے اور اس کی تاریخوں کا اعلان بھی ابھی کیا جانا ہے۔

ڈیوڈ وائٹ نے مزید کہا کہ ”نان کنٹریکٹرز کھلاڑیوں کیلئے آئی سی سی نے سیکیورٹی ایڈوائس دے رکھی ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ پلیئرز ایسوسی ایشن نے بھی سیکیورٹی ایڈوائس دی ہے۔ اور اگر کوئی کھلاڑی سیکیورٹی ایڈوائس کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں جا کر کھیلنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے موقع دیا جائے گا۔“

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ برینڈن میکالم، لوک رونچی اور گرانٹ ایلیٹ جیسے نان کنٹریکٹرز کھلاڑیوں کو بھی ورلڈالیون میں شامل ہو کرپاکستان میں 3 ٹی 20 میچ کھیلنے کیلئے نیوزی لینڈ کرکٹ سے این او سی لینے کی ضرورت ہو گی۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔ سیٹھی کا پہلا آرڈر، قومی ٹیم کے فٹنس ٹرینر شان ہیز کی چھٹی، رویہ ٹھیک نہ رکھنے کی شکایات تھیں:بورڈ ذرائع

ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ ”اگر کسی بھی نان کنٹریکٹر کھلاڑی نے پاکستان جا کر کھیلنے کی دعوت قبول کی، جہاں سری لنکن ٹیم پر حملے کے بعد اب تک صرف زمبابوے کی ٹیم نے ہی دورہ کیا ہے، تو نیوزی لینڈ کرکٹ اس پر عمل کرے گی۔“

واضح رہے کہ نیوزی لینڈ نے آخری مرتبہ 2003ءمیں پاکستان کا دورہ کیا تھا جب کرس کینز کی قیادت میں کیوی ٹیم نے پاکستان میں پانچ ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلے تھے۔

مزید : کھیل