این اے 120 ضمنی انتخاب، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر اعتراض اٹھا دیا، نواز شریف اور مریم پر کوئی قدغن نہیں ، ہمیں روکا جا رہا ہے: شاہ محمود قریشی

این اے 120 ضمنی انتخاب، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر اعتراض اٹھا ...
این اے 120 ضمنی انتخاب، پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر اعتراض اٹھا دیا، نواز شریف اور مریم پر کوئی قدغن نہیں ، ہمیں روکا جا رہا ہے: شاہ محمود قریشی

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 کی انتخابی مہم کیلئے جاری کیے گئے الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر باقاعدہ اعتراض اٹھادیا۔وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز پر کوئی قدغن نہیں لیکن عمران خان، جہانگیر ترین اور انہیں انتخابی مہم سے روکا جا رہا ہے۔

پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن کے پیرا نمبر 5 اور 6 پر ہمیں اعتراض ہے، رکن حزب اختلاف کے طور پر میرے پاس وسائل ہیں نہ ہی اختیار و اسباب، میں عوام سے کسی قسم کاوعدہ کرنے یا ترغیب دینے کی طاقت نہیں رکھتا، میرا تو اپنے حلقہ انتخاب کی ترقی کیلئے وسائل پر بھی کوئی اختیار نہیں ہے جبکہ حکومت اور اس کے اداروں پر بھی میرا کسی قسم کا اثرنہیں ہے۔

این اے 120ضمنی انتخاب کیلئے ضابطہ اخلاق جاری ، وزیر اعلیٰ مہم میں حصہ نہیں لے سکیں گے

شاہ محمود قریشی نے اپنے خط میں مزید کہا ہے کہ حکومتی نشستوں پربیٹھے اراکین تمام وسائل و اسباب تک رسائی رکھتے ہیں حکومتی وسائل بالواسطہ یا بلاواسطہ ن لیگی امیدوار کے زیر اثر ہوں گے۔ الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن پر ہمارا اعتراض معقول اور جائز ہے لہٰذا الیکشن کمیشن نوٹیفکیشن سے’اراکین قومی اسمبلی/صوبائی اسمبلی‘جیسے الفاظ حذف کرے۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پنجاب میں پٹواری بھی ہماری نہیں سنتا، میرے حلقے میں ابھی تک فنڈز کا ایک ٹکہ بھی نہیں دیا گیا، یاسمین راشد چاہتی تھیں کہ میں لاہور کی انتخابی مہم میں شرکت کروں لیکن پی ٹی آئی چیئرمین، وائس چیئرمین اور ایم این ایز انتخابی مہم میں حصہ نہیں لے سکتے جبکہ نواز شریف اور مریم نواز پر انتخابی مہم چلانے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں