قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 38

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 38
قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 38

  

انہوں نے مجھے ایک لفافہ دیا اور کہا کہ یہ لے لو اور بچوں کو مٹھائی کھلا دینا ۔ میں تو اس غرض سے گیا نہیں تھا لیکن اکار نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ پریذیڈنٹ تھے۔ پھر انہوں نے مجھے کہا کہ روزگار کا ذریعہ کیا ہے۔ میں نے صاف صاف بتادیا کہ گزر بسر ہو جاتی ہے اور کچھ پیسے فلم سے آجاتے اور کچھ مشاعروں سے ۔ اس کے بعد جب میں باہرکے لئے نکلا تو اعلان ہوا کہ قتیل شفائی صاحب کا ڈرائیور گاڑی لائے ،لہذاوہ مانگی ہوئی گاڑی آگئی۔میں نے لفافہ کھول کر دیکھا تو اس میں ایک ہزارروپیہ تھا۔

اس کے بعد جب میں لاہور آیا تو ایک روز مجھے گورنر ہاؤس سے اطلاع آئی کہ آپ کیلئے پرمٹ ہیں۔ آپ آکر یہ روٹ پر مٹ لے لیں۔ میں نے سوچا کہ صدر ایوب جو پوچھ رہے تھے اس کی روشنی میں یہ کیا ہے ۔ ہر انسان کے دل میں کچھ لالچ بھی ہوتا ہے میں للچایا بھی لیکن ساتھ یہ بھی چاہا کہ یہ نہ ہو کیونکہ یہ ٹھیک نہیں ہے اور یہ باتیں انسان کو رسوا کرتی ہیں۔ لیکن صدر صاحب نے یکطرفہ کارروائی کر کے ایک طرف تو ایک ہزار روپیہ لفافے میں ڈال کر پکڑا دیا اور دوسرا یہ پرمٹ بھجوا دیئے۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 37  پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ جس دن مجھے گورنر ہاوس سے یہ اطلاع ملی تھی اس سے اگلے ہی دن اخبارات میں یہ اعلان ہو گیا کہ اب تک جتنے روٹ پر مٹ جاری کیے گئے ہیں وہ سب منسوخ ہو گئے ہیں۔ میں نے اپنے دل میں اللہ کا شکر ادا کیا کہ یہ روٹ پرمٹ منسوخ ہو گئے ہیں ورنہ ہوسکتا ہے کہ میں لالچ میں آکر فالتو آمدنی کی غرض سے یہ پرمٹ لے لیتا اور اس کے بعد یہ لالچ نجانے مجھ سے کیا کچھ کرواتا۔

یہ واقعہ اگر ہو گیا ہوتا تو مجھ پر یہ ایک سچا الزام ہوتا۔ جبکہ اس کے بعد جب صدر ایوب مستعفی ہو کر چلے گئے اور جنرل یحییٰ کا زمانہ آیا اور ان کے بعد بھٹو صاحب کا زمانہ آیا تو الطاف گوہر صاحب پر ایک کیس بنا اور اس میں میرا ذکر آگیا کہ قتیل شفائی کو خفیہ فنڈ سے بیس ہزار روپے ادا کیے گئے۔

دراصل یہ وہی بیس ہزار روپے تھے جو الطاف گوہر صاحب نے فلم کے سلسلے میں ایک اور محکمے کو درمیان میں لا کر مجھے ایڈوانس کے طور پر چیک کے ذریعے دئیے تھے لیکن یہ پیسے اتنے کم تھے کہ ڈاکومنٹری فلم بنا کر بھی مجھے کوئی بچت نہ ہوئی۔ میں نے بمشکل اپنا خرچ پور ا کیا اور میری محنت اکارت گئی۔ یہ پیسے کسی کا نفیڈ نشل اکاؤنٹ سے نہیں تھے بلکہ فلم کے سلسلے میں مجھے دیئے گئے تھے۔

میرے بہت ہی عزیز اور محترم دوست مختار مسعود ہیں جنہوں نے ’’آواز دوست ‘‘ کتاب لکھی ہے ۔ جب انہوں نے یہ خبرپڑھی تو انہیں حیرت ہوئی کہ قتیل شفائی نے یہ کام کیونکر کیا۔ تو انہوں نے تحقیق کی تو انہیں پتہ چل گیا کہ اصل بات کیا ہے ۔ بہر حال یہ بات اخبارات میں آگئی ۔ میں نے اس کی تردید بھی بھجوائی لیکن جو سرخیاں جمی تھیں وہ بڑی تھیں اور اس کے مقابلے میں تردید بہت چھوٹی اور ایک کالمی تھی اور کسی نے دیکھی اور کسی نے نہ دیکھی۔

جب الطاف گوہر صاحب اس مقدمے سے فارغ ہوئے تو ان سے میری ملاقات ہوئی ۔ وہ مجھے کہنے لگے کہ مجھ پر مقدمے کی تو کچھ وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن آپ تو خواہ مخواہ ہی رگڑے گئے ۔ میں نے کہا کہ آپ ہی کے ہاتھ سے یہ ہوا تھا ۔ وہ کہنے لگے کہ آپ کو کیس میں داخل ہو جانا چاہیے تھا۔ میں نے کہا مجھے اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

روس میں کچھ ایام

صدر ایوب ہی کے دور حکومت میں ایک ادبی و ثقافتی وفد مرتب کیا گیا جس میں مغربی پاکستان سے میں تھا اور مشرقی پاکستان سے دو بنگالی سکالر تھے جن کے نام پروفیسر سرور مرشد اور پروفیسر شوکت عثمان تھے۔ مؤخر الذ کر مغربی پاکستان میں آتے جاتے رہتے تھے اور ہم سے واقف تھے۔ وہ بڑے اچھے افسانہ نگار بھی تھے۔ ہم تینوں تین ہفتے کے دورے پر روس گئے۔ انڈیا کے علاوہ ملک سے باہر یہ میرا پہلا دورہ تھا۔

اس وقت گلڈ کے سیکرٹری جنرل جمیل الدین عالی تھے۔ میں اس وقت کوئی عہدیدار نہیں تھا البتہ سنٹرل ایگزیکٹو کارکن تھا۔ میرے دورہ ماسکو کا سن کر عالی صاحب پریشان ہوئے اور مجھے کہنے لگے کہ آپ کے خیالات و نظریات پہلے ہی بائیں بازو کے ہیں ‘ اب تو آپ وہاں سے پورے سرخے بن کر آئیں گے۔ میں نے کہا کہ عالی صاحب ! میں کوئی احمق نہیں ہوں بلکہ کچھ سوجھ بوجھ رکھتا ہوں۔ میرا تو طریقہ یہ ہے کہ جہاں سے کوئی اچھی چیز ملتی ہے لے لیتا ہوں لیکن جو پسند نہیں ہوتی‘ اسے میں قبول نہیں کرتا۔ بنیادی طور پر میں لبرل ہوں۔ آغاز میں مسلم لیگ سے وابستہ رہا ہوں لیکن ان کی دو چیزیں ناپسند ہوں گی انہیں بھی مسترد کر دوں گا۔ میری اب کسی سیاسی پارٹی سے Commitment نہیں ہے۔ میں اپنے ذہن سے سوچتا ہوں۔ اب میری ادب کے ساتھ اور اپنے ملک کے ساتھ ایک ہی کومٹمنٹ اور وہ یہ ہے کہ میں زندگی میں کسی استحصال کرنے والے کا ساتھ نہیں دوں گا او ر ملائیت کا ساتھ بھی نہیں دو ں گا اور بالکل انہی چیزوں پر چلوں گا جو علامہ اقبال سکھا گئے تھے ۔ اس کے علاوہ کسی تو ہم پرستی میں نہیں پڑوں گا۔ مزاروں پر جا کر دعائیں نہیں مانگوں گا اور اگر مانگوں گا تو اللہ تعالیٰ سے مانگو گا۔ اسی طرح غریبوں اور مزدوروں کا استحصال کرنے والوں کے ساتھ کبھی مفاہمت نہیں کروں گا۔ اب اگر روس بھی استحصالی رویہ اختیار کرے گا تو میں اس سے بھی انکار کروں گا۔ اگر روس کے بارے میں دور کے ڈھول سہانے والی آپ کی بات صحیح ہوئی تو میں وہاں سے جو خیالات لے کر آؤں گا وہ آپ کو مایوس نہیں کریں گے۔

ماسکو روانگی کیلئے میں اور دونوں بنگالی سکالرز کراچی میں جمع ہوئے اور وہاں سے ایک ساتھ ماسکو روانہ ہوئے۔ میرے ذہن میں یہ تھا کہ روس میں پہنچتے ہی ہمیں ایک دھچکا لگے گا اور ہماری برین واشنگ شروع ہو جائے گی ۔ دھچکایوں لگا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ آپ کی روس روانگی کی اطلاع آپ کے سفارت خانے کو دے دی گئی ہے اور آپ روس میں قیام کے دوران ان سے رابطہ رکھیں گے ۔ لیکن ہم نے ماسکو پہنچ کر ائیرپورٹ پر چاروں طرف دیکھا تو ہمیں دور دراز تک اپنے سفارت خانے کا کوئی آدمی نظر نہ آیا۔ البتہ سوویت رائٹرز یونین کے ایک دو عہدیدار وہاں موجود تھے جو ہمیں اپنے ساتھ لے گئے۔ (جاری ہے)

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 39 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے