فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 177

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 177
فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 177

  

یہ فیصلہ ہم نے بہت سوچ سمجھ کر کیا تھا۔ اس وقت ہمیں صحافت سے وابستہ ہوئے لگ بھگ آٹھ سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور اس دوران میں ہم نے محسوس کیا تھا کہ شوق اپنی جگہ مگر حالات صحافت کا پیشہ اختیار کرنے کے لئے سازگار نہیں ہیں۔ اس زمانے میں صحافیوں کی تنخواہیں بہت کم تھیں۔ پروفیسر سرور جیسے دانشور اور لائق و فائق ایڈیٹر کو پانچ سو روپے ماہوار تنخواہ دی جاتی تھی۔ دوسروں کا بھی درجہ بدرجہ ایسا ہی حال تھا۔ ہمارے علم کے مطابق سب سے زیادہ تنخواہ جو اردو اخبار کے کسی ایڈیٹر کو دی جاتی تھی وہ ایک ہزار روپے ماہوار سے زیادہ نہ تھی اور ان بزرگوں میں مولانا غلام رسول مہر اور مولانا چراغ حسن حسرت جیسے جیّد ایڈیٹر بھی شامل تھے۔

ہمیں دولت کمانے کا کبھی شوق نہیں رہا مگر عزت اور آسائش کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی تمنا تھی جو ان حالات میں پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 176 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

دوسرا مسئلہ یہ تھا کہ اردو اخبارات کی تعداد بہت محدود تھی۔ نوائے وقت‘ امروز‘ احسان‘ زمیندار اور مغربی پاکستان‘ لاہور کے ممتاز اخبارات تھے۔ لیکن ان سب کا ماحول‘ حالات اور پس منظر مختلف تھا۔ ’’امروز‘‘ میں بائیں بازو کے ترقی پسندوں ہی کو داخلہ مل سکتا تھا۔ ’’زمیندار‘‘ کا دقیانوسی ماحول ہمارے لئے ناسازگار تھا۔ احسان اور مغربی پاکستان اپنے مالی حالات کی وجہ سے نامساعد حالات سے دوچار تھے۔ لے دے کر صرف ’’نوائے وقت‘‘ ہی ایک ایسا روزنامہ تھا جس میں ہمارا گزارا ہو سکتا تھا لیکن ضروری نہ تھا کہ جس وقت ہمیں نوکری کی ضرورت ہو تو وہاں گنجائش بھی موجود ہو۔ اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ ہم روزنامہ آفاق میں اسسٹنٹ ایڈیٹر اور روزنامہ ’’آثار‘‘ میں جوائنٹ ایڈیٹر کے طور پر فرائض سرانجام دے چکے تھے اور اس کے بعد کسی جونیئر حیثیت میں کام کرنا ہمارے لئے دشوار تھا۔ گویا روزنامہ ’’آفاق‘‘ ہی بظاہر ہماری جائے پناہ تھا مگر اس کے مالکوں سے بھی ہم ناخوش ہو چکے تھے۔ یہ مسئلہ بھی درپیش تھا کہ ہم بذات خود کہیں نوکری تلاش کرنے کے لئے نہیں جا سکتے تھے۔ گویا کسی روزنامے میں ہماری گنجائش ہی نہ تھی۔ اس پر ستم یہ کہ مارشل لاء نافذ ہو گیا اور اس نے ہمیں صحافت کے مستقبل سے مزید بددل کر دیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا بجا ہو گا کہ ہمیں صحافت میں اپنے لئے روشن مستقبل نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس کے باوجود ہم نے اپنی عادت کے مطابق جوش میں آ کر روزنامہ ’’آفاق‘‘ کو خیرباد کہہ دیا اور گھر بیٹھ گئے۔

صحافت کے سوا ہمیں کچھ نہیں آتا تھا لیکن چند سال سے فلمی صنعت میں ہماری آمدروفت تھی اور یہ بھی ہمارا پسندیدہ کام تھا۔ گزشتہ دو تین سالوں میں نہ صرف ہماری فلمی صنعت کے ہر بلند و پست فرد سے واقفیت اور بے تکلفی ہو چکی تھی بلکہ ہم نے کہانی نویسی بھی سیکھ لی تھی۔ ہماری تصنیف کردہ پہلی فلم ’’ٹھنڈی سڑک‘‘ 1956ء میں شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد ہم نے فلم ساز ہدایت کار لقمان کے ساتھ کافی وقت گزارا تھا۔ فلمی کہانی کے سلسلے میں بحثوں میں حصہ لیا تھا۔ فلم سازی کے مختلف مراحل ہماری نظروں سے گزر چکے تھے۔ پہلے تو ہم اعزازی حیثیت سے سکرپٹ کی تیاری میں حصہ لیتے رہے مگر پھر ظہور الحسن ڈار صاحب کی تجویز پر لقمان صاحب نے ہمیں باقاعدہ کہانی کے شعبے میں شامل کر لیا۔ مرزا ادیب اور ظہور الحسن ڈار ان کے ریگولر مصنف تھے۔ مگر فلم ’’ایاز‘‘ میں انہوں نے پہلی بار ہم سے باقاعدہ کچھ مکالمے لکھوائے۔ سکرین پلے کی تیاری میں بھی ہم نے سرگرمی سے حصہ لیا تھا۔ اس کارکردگی کے پیش نظر انہوں نے ہمیں پروموٹ کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کی آئندہ فلم ’’آدمی‘‘ کے سکرپٹ کی تیاری میں ہمیں باقاعدہ شریک کر لیا گیا۔ اس فلم کے لکھنے والوں میں بھی میرزا ادیب اور ظہور الحسن ڈار صاحبان شامل تھے لیکن کچھ وقت کے بعد وہ دونوں حضرات کنارہ کش ہو گئے اور کہانی نویسی کا تمام بوجھ ہمارے ناتواں کاندھوں پر آ گیا۔

’’آدمی‘‘ کی تکمیل کے زمانے میں ہمارے اعتماد میں مزید اضافہ ہو گیا۔ سعادت حسن منٹو اور ڈبلیو زیڈ احمد جیسے ہنرمندوں سے بھی ہم نے سکرپٹ لکھنے کے سلسلے میں کچھ نہ کچھ حاصل کیا تھا۔ لقمان صاحب کی صحبت میں عملی طور پر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور ہم سنجیدگی سے کہانی نویسی کا پیشہ اختیار کرنے کے بارے میں سوچنے لگے۔ مگر اخبار کی مصروفیات راہ میں حائل تھیں۔ معمول یہ تھا کہ ہم ’’آفاق‘‘ کے کاموں سے فراغت پا کر سیدھے فلم سٹوڈیو کا رخ کرتے تھے اور رات گئے تک فلمی مصروفیات میں مشغول رہتے تھے۔ ہماری جان پہچان اور بے تکلفی قریب قریب سبھی کے ساتھ ہو چکی تھی اور ہم نے سبھی سے کچھ نہ کچھ فیض بھی حاصل کیا تھا۔ یہ وہ پس منظر تھا جب ہم ’’آفاق‘‘ کی ملازمت چھوڑ کر گھر بیٹھ گئے۔

ہر ایک نے ہمیں سمجھایا کہ بھائی کیوں بے کار ضد کرتے ہو۔ واپس آ جاؤ مگر ہم نے کافی غوروخوض کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ صحافت کا میدان اب ہمارے لئے تنگ ہو چکا ہے۔ اس لئے نئی جولان گاہوں کی طرف نکل جانا چاہئیے۔ فلم کا اعزاز ہمیں صحافت کا نعم البدل نظر آیا اور ہم نے فیصلہ کر لیا کہ اب فلمی صنعت میں قسمت آزمائی کریں گے۔

فلم کا پیشہ اختیار کرنا بھی اس زمانے میں کچھ آسان نہ تھا۔ فلم سازی بہت ہو رہی تھی۔ سرمائے اور وسائل کی کمی تھی۔ کہانی لکھنے والوں کو بہت کم معاوضے دئیے جاتے تھے بلکہ اکثر و بیشتر تو انہیں سرے سے معاوضہ ہی نہیں دیا جاتا تھا۔ جس فلم ساز کی جتنی توفیق تھی اور داؤ چلتا تھا وہ کہانی نویس کی اتنی ہی رقم ہضم کر لیا تھا اور وہ غریب منہ تکتا رہ جاتا تھا۔ دوسری پرابلم یہ تھی کہ اخبار کی ملازمت میں تو ہمیں ہر ماہ ایک مقررہ رقم مل جاتی تھی۔ کہانی نویس بننے کے بعد ماہ بہ ماہ باقاعدہ آمدنی کا حصول ممکن نہ تھا۔ پھر یہ کہ ہمیں معاوضہ طلب کرنے کی عادت نہ تھی۔ تقاضا تو دور کی بات ہے۔ مگر صحافت چھوڑنے کے بعد فلمی صنعت کے سوا ہمارے پاس سر چھپانے کی کوئی دوسری جگہ نہ تھی۔

ہمارے ’’آفاق‘‘ سے مستعٰفی ہونے کی خبر سب کو معلوم ہو چکی تھی۔ فلم سازوں‘ ہدایتکاروں اور اداکاروں کے ساتھ ہم پہلے بھی گھوما کرتے تھے۔ اب اس کے لئے زیادہ وقت اور فراغت میسر تھی۔ ہمارے صحافی دوست ہمیں جب بھی دیکھتے تھے ہم انہیں کسی کار سے برآمد ہوتے یا اس میں سوار ہوتے ہی نظر آتے تھے۔ یا پھر فلمی نگار خانوں‘ شاندار ریستورانوں اور اعلٰی پیمانے کے ہوٹلوں میں نظر آتے تھے۔ خوش لباسی ہماری عادت تھی اس پر یہ شان و شوکت‘ نتیجہ یہ کہ آغاز میں کچھ دن تو ہمارے صحافی دوست ہم سے اظہار ہمدردی کرتے رہے اور مشورہ دیتے رہے کہ واپس آ جاؤ مگر جب ہمارا ٹھاٹ باٹ دیکھا تو ہم پر رشک کرنے لگے۔ یار لوگوں نے ایک دوسرے سے کہنا شروع کر دیا کہ ’’بھائی آفاقی کے تو مزے ہی مزے ہیں۔ خوب پیسے کما رہا ہے۔‘‘ جب ان خیالات کا انہوں نے ہمارے سامنے اظہار کیا تو ہمارا یہ ارادہ عزم میں تبدیل ہو گیا کہ اب عزت کا سوال پیدا ہو گیا ہے اور ہمیں چاہئیے کہ فلموں کی دنیا میں قسمت آزمائی کریں۔ لیکن ہزاروں اندیشے ہمیں سہمانے کے لئے آن موجود ہوتے تھے۔ پھر بھی ہم مرتا کیا نہ کرتا کے مصداق اس فیصلے پر ڈٹ گئے اور تہیّہ کر لیا کہ چاہے کچھ ہو جائے۔ اب اس وقت تک صحافت کے کوچے کا رخ نہیں کریں گے جب تک فلمی دنیا میں کچھ کر کے نہ دکھا دیں۔

اُدھرمشکل یہ تھی کہ ہم فلم والوں کو اپنی زبان سے یہ نہیں بتا سکتے تھے کہ ہم نے صحافت ترک کر دی ہے اور آپ لوگ ہمیں کام دیں۔ گویا عجیب بے سروسامانی کا عالم تھا۔ بعض جریدوں میں مضامین لکھ کر جو تھوڑی بہت آمدنی ہو جاتی تھی وہ ہمارے ماہانہ اخراجات کے لئے ناکافی تھی۔ ہر مہینے ہم اماں کو ایک مقررہ رقم گھریلو اخراجات کے لئے باقاعدگی سے دیا کرتے تھے جس میں کبھی ناغہ نہیں ہوا تھا لیکن اب ہمیں یہ فکر پڑ گئی کہ اگر معقول اور باقاعدہ آمدنی نہیں ہوئی تو ہم اپنے ذمّے داری کس طرح پوری کریں گے؟ اسی دوران میں ہمیں کراچی اور لاہور کے بعد جرائد میں لکھنے کی پیش کی گئی۔ کچھ رقم ہم نے پس انداز کر رکھی تھی۔ اس طرح ہمیں کم از کم یہ اطمینان ہو گیا تھا کہ ہم دو تین ماہ تک اپنے ذمے داریاں پوری کر سکیں گے۔ مستقبل کے لئے مال و متاع جمع کرنے کا ہمیں کبھی شوق نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ جو بھی آمدنی ہوتی تھی اسے ہم بے دریغ خرچ کر دیتے تھے اور آئندہ کے لئے یہ سوچتے تھے کہ بھئی ہماری محدود سی تو ضرورتیں ہیں، اﷲ دے گا اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ اﷲ تعالی نے کبھی ہمیں مایوس نہیں کیا اور ہماری مطلوبہ ضروریات پوری ہوتی رہیں اور آج تک ہو رہی ہیں۔

کہانی نویسی کے سلسلے میں ہم کو کن مشکلات اور مسائل سے دوچار ہونا پڑا وہ ایک علیحدہ داستان ہے جس کا بیان پھر کبھی ہو گا۔ قصہ مختصر یہ کہ دو تین سال میں ہم باقاعدہ کہانیاں اور مکالمے لکھنے والوں کی صف میں شامل ہو ئے۔ معاوضہ وصول کرنے اور تقاضا کرنے کا ڈھنگ ہمیں کبھی نہیں آیا۔ یہی وجہ ہے کہ کہانی نویس اور بعد میں فلم ساز کی حیثیت سے بہت سے لوگوں نے حسب استطاعت ہمارے پیسے مار لئے۔ ہم وضع داری نبھاتے رہے اور آج تک نبھا رہے ہیں۔ ان لوگوں سے آج بھی ہمارا میل جول ہے۔ فلمی صنعت میں حالات خاصے دگرگوں تھے۔ فلمیں بننا تو شروع ہو گئی تھیں مگر بہت کم بجٹ میں بنائی جاتی تھیں اس لئے سپر سٹارز کے سوا دوسرے سبھی لوگوں کے معاوضے بہت کم تھے۔ خاص طور پر کہانی نویس کو اس معاملے میں سب سے کم اہمیت دی جاتی تھی۔ آج بھی کم و بیش یہی حال ہے۔ کہانی نویسوں کے لئے نہ پہلے کبھی معاوضے کا معیار مقرر تھا اور نہ ہی آج ہے۔ ہر کہانی لکھنے والا اپنی قابلیت ،ہمّت اور اہمیت کے لحاظ سے معاوضہ وصول کرتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ فلم ساز گفتگو کا آغاز یہاں سے کرتے ہیں کہ جی کہانی ہی فلم کی بنیاد ہوتی ہے۔

ہم بہت آہستہ روی سے اس میدان میں گامزن ہوئے تھے لیکن اتنے گرے پڑے بھی نہیں تھے کہ بہت کم معاوضہ قبول کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔(جاری ہے )

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 178 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ