وزیر اعظم نے اسحاق ڈار کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹادیا

وزیر اعظم نے اسحاق ڈار کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹادیا
وزیر اعظم نے اسحاق ڈار کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کی چیئرمین شپ سے ہٹادیا

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کابینہ کے سب سے طاقتور ترین وزیر اسحاق ڈار کو اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی ) کی چیئرمین شپ سے ہٹادیا ہے جس کے بعد ان کی حیثیت ایک علامتی وزیر خزانہ کی ہو کر رہ گئی ہے۔

نجی ٹی وی 92 نیوز کے مطابق نیب کیسز کی وجہ سے اسحاق ڈار سے ای سی سی کی چیئرمین شپ واپس لی گئی ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اسحاق ڈار کو ای سی سی کی سربراہی سے ہٹانے کے بعد یہ اہم ترین عہدہ بھی اپنے پاس ہی رکھ لیا ہے، اس سے قبل وزارت پٹرولیم بھی وزیر اعظم نے اپنے پاس ہی رکھی ہوئی تھی۔

وزارت خزانہ کے تمام بڑے فیصلے اقتصادی رابطہ کمیٹی میںہی کیے جاتے ہیں اور اس کی چیئرمین شپ سے فارغ ہونے کے بعد اسحاق ڈار کی حیثیت صرف علامتی وزیر خزانہ کی رہ گئی ہے۔ وہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں میں شریک تو ہو سکتے ہیں لیکن نہ ہی سفارشات کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی فیصلہ کر سکتے ہیں۔

نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق ای سی سی کی چیئرمین شپ وزیر اعظم کے پاس ہی ہوتی ہے تاہم سابق وزیر اعظم نواز شریف نے یہ اہم ترین عہدہ اسحاق ڈار کو دے دیا تھا۔ نجی ٹی وی 92 نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف کی کابینہ میں جب شاہد خاقان عباسی وزیر پٹرولیم تھے تو اسحاق ڈار نے ایل این جی معاہدے کا فیصلہ کیا تھا جس پر شاہد خاقان عباسی خاصے برہم تھے۔ اب یہ پرانی رقابت ہے یا نیب کیسز کی وجہ سے ہی اسحاق ڈار کو عہدے سے ہٹایا گیا ہے اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔

مزید : قومی /اہم خبریں