حضور یہ بھی سوچئے

حضور یہ بھی سوچئے
حضور یہ بھی سوچئے

  

سابق وزیر اعظم نواز شریف کا جی ٹی روڈ پر راولپنڈی تا لاہور سفر یا مارچ شروع ہو چکا ہے ۔ پہلے دن کی صورتحال یہ رہی کہ وہ راولپنڈی سے ہی باہر نہیں نکل سکے۔ اس لحاظ سے انہیں لاہور پہنچے میں تین دن سے زیادہ وقت بھی لگ سکتا ہے۔ ان سطور کے شائع ہونے تک وہ لاہور تو ابھی نہیں پہنچے ہوں گے‘ لیکن یہ واضح ہو چکا ہو گا کہ لوگ ان کا کس قدر استقبال کرتے ہیں اور ان کی ہر دلعزیزی قائم ہے یا نہیں۔ ہمیشہ کی طرح اور ہر معاملے کی طرح اس مارچ کے بارے میں کئی آرا پیش کی جا رہی ہیں‘ کئی طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں۔جیسے یہ کہ ساڑھے چار سال تک تو نواز شریف کو عوام کا خیال نہیں آیا اور اب جبکہ عدالت نے انہیں نااہل قرار دے دیا ہے تو انہیں اچانک عوام کی یاد آ گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ باتیں بھی گردش میں ہیں کہ جس وزیر اعظم کی جماعت کے وزیر اور ایم این اے اس بات پر مستعفی ہوتے رہے کہ وزیر اعظم انہیں شرفِ ملاقات نہیں بخشتے‘ جیسے ریاض پیرزادہ‘ جیسے عبدالحکیم بلوچ‘ اسے نااہلی یا معزولی کے بعد لوگوں کی یاد کیسے آ گئی؟ایک صاحب نے بڑا دل چسپ کمنٹ لکھا ہے۔ فرماتے ہیں’’ جو لوگ 2009میں لاہور سے اسلام آبادد براستہ جی ٹی روڈ عدلیہ بحال کرانے آئے تھے‘ عدلیہ انہیں معطل کرکے اسی راستے سے واپس لاہور بھیج رہی ہے‘‘ ایک اور صاحب نے اپنے تاثرات اس طرح دئیے’’ جب ملک کا حکمران تھا تو ان کے لئے سڑکیں بند ہوتی تھیں‘ لوگوں کا جینا حرام کر رکھا تھا۔ وی آئی پی پروٹوکول سے عوام کی زندگی عذاب کر رکھی تھی‘ لیکن جب کرسی چلی گئی تو عوام سے منتیں کرتا ہے اور شاباش دینی پڑے گی پاکستانی عوام کو جو ان کا استقبال کرتے ہیں‘ جیسے عوام ویسے حکمران۔کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس مارچ کا مقصد فوج اور عدلیہ پر دباؤ ڈالنا ہے تاکہ کئے گئے فیصلے پر نظر ثانی کی جا سکے۔ بہرحال ایک بات طے ہے کہ اس مارچ کا مقصد شو آف پاور کے سوا کچھ نہیں۔ یہ دکھانا مقصود ہے کہ نااہلی کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد ان کی حامی ہے اور یہ کہ وہ اب بھی لوگوں میں مقبول اور ہردلعزیز ہیں۔ تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا ہے کہ نواز شریف کا جی ٹی روڈ مارچ انتہائی نقصان دہ ہو گا‘ وہ سرکاری ملازمین اور ریاستی وسائل کو اپنی سیاست کاایندھن نہ بنائیں۔

بہر حال ایسے تاثرات تو بیان کئے ہی جاتے رہیں گے فی الحال ایک دلچسپ بات آپ سے شیئر کرنا چاہوں گا۔ یہ کہ دنیا بھر میں اب تک صرف تین مواقع ایسے آئے ہیں جب کسی سربراہ حکومت کو عدالت نے کسی الزام کے ثابت ہونے پر عہدے سے فارغ کیا ہو اور اس کی جگہ اسی پارٹی کے کسی اور شخص نے وہ عہدہ سنبھالا ہو۔ ہے ناں عجیب بات کہ ایسا عالمی تاریخ میں صرف تین بار ہوا اور یہ تینوں ماضی قریب کے قصے ہیں۔پہلا واقعہ 2008میں پیش آیا جب ستمبر 2008میں تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے اس وقت کے وزیر اعظم سماک سندراوج کو عہدہ چھوڑنے کا حکم دیا تھا۔ ان پر الزام تھا کہ انہوں نے ایک ٹی وی کوکنگ شو کی میزبانی کی اور وہاں سے معاوضہ حاصل کیا۔ڈپٹی وزیر اعظم سومچائی وونگ ساوت ‘ جن کا تعلق برطرف کردہ وزیر اعظم کی پارٹی یعنی پیپلز پاور پارٹی سے تھا‘ کو ملک کا قائم مقام چیف ایگزیکٹو کا عہدہ دے دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ اسی سال دسمبر میں سومچائی وونگ کی پیپلز پاور پارٹی کو تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے تحلیل کر دیا اور ووٹ خریدنے کے الزام میں پارٹی کے ایگزیکٹو ارکان‘ بشمول سومچائی‘ پر پانچ سال تک سیاست میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی۔ باقی دومثالوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ جون 2012میں پاکستان کی سپریم کورٹ نے اسا وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کے الزام میں نااہل قرار دے دیا ‘ جس کے بعد اسی پارٹی (پاکستان پیپلز پارٹی)کے راجہ پرویز اشرف کو ملک کا 25واں وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ اور اب وزیر اعظم نواز شریف کو عدالت کی طرف سے نااہل قرار دئیے جانے کے بعد مسلم لیگ ن کے ہی شاہد خاقان عباسی کو پاکستان کا وزیر اعظم بنا دیا گیا ہے۔ یہ بھی بڑا عجب اتفاق ہے کہ یوسف رضا گیلانی کی جگہ وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے والے راجہ پرویز اشرف کو اعتماد کے 221ووٹ ملے تھے اور اب اس کے تقریباً پانچ سال بعد نواز شریف کی جگہ وزیر اعظم بننے والے شاہد خاقان عباسی کو بھی 221ووٹ ہی حاصل ہوئے ہیں۔ تو کیا آج پانچ سال بعد وہی کہانی لکھی جا رہی ہے؟

جی ٹی روڈ مارچ کا مسلم لیگ ن کو کیا فائدہ ہو گا یہ تو اس حکمران پارٹی کے کرتا دھرتا ہی بتا سکتے ہیں‘ لیکن ایک بات واضح ہے کہ نواز شریف کو کوئی فائدہ نہیں ہونے وال‘ کیونکہ نہ عدالت اپنا فیصلہ واپس لے گی اور نہ ہی ان کی نااہلی ختم ہو گی۔ اگر ان کی نااہلی تاحیات ہے تو پھر ان کے اگلا الیکشن لڑنے کے امکانات بھی محدود بلکہ معدوم ہیں ۔ہاں یہ فائدہ ضرور ہو سکتا ہے کہ اس طرح وہ عوام میں اپنی پارٹی کی مقبولیت قائم رکھ سکیں اور پس پردہ رہ کر بادشاہ گرکا کردار ادا کرتے رہیں‘ کیونکہ صادق اور امین نہ ہونے کی وجہ سے وہ پارٹی کی صدارت کا عہدہ بھی اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔ شنید ہے کہ ان کی جگہ شہباز شریف کو مسلم لیگ ن کا سربراہ بنانے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

نواز شریف روڈ مارچ ضرور کریں کہ یہ ان کا حق ہے‘ لیکن ساتھ ہی ساتھ انہیں ان سوالات کا جواب دینے کی بھی کوشش کرنا چاہئیں‘ جو سوشل میڈیا پر ایک ہنگامہ برپا کئے ہوئے ہیں۔اس بارے میں بھی سوچنا چاہئے کہ ان کی کابینہ کے وزرا ان سے وقت نہ ملنے پر کیوں احتجاج کرنے پر مجبور ہوتے رہے؟جب تک عوام کو ان سوالوں کے جوابات نہیں ملتے‘ یہ مارچ بے فائدہ رہیں گے۔ جب کوئی بندہ ماضی میں کی گئی غلطیوں سے سبق سیکھنے پر راضی ہی نہ ہو تو اس کے آگے بڑھنے کے راستے کیسے کھل سکتے ہیں؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ ملک کی ستر سالہ تاریخ میں کوئی ایک بھی وزیر اعظم کیوں اپنی آئینی مدت بھی پوری نہیں کر سکا؟ ملک کے سیاسی مستقبل کا انحصار ان سوالوں پر گور کرنے سے بھی ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ