اس آزادی پر اک سوال پرانا

اس آزادی پر اک سوال پرانا
اس آزادی پر اک سوال پرانا

  

14اگست ہماری قومی تاریخ کا ایک تابناک دن۔۔۔ اور اگر ہم ہجری اعتبار سے دیکھیں تو 27رمضان المبارک ، ہمارے لئے قداستوں کا امین ، برکتوں کا پیامبراور نزولِ رحمت کا پیش خیمہ ۔ اس لحاظ سے اس روز حاصل ہونے والے ملک کو تو مہبطِ انوارِ الٰہیہ بن جانا چاہیے تھا ۔ آسمان سے اس پر نعمتوں کی برکھا برستی رہنا چاہیے تھی ۔ اس کے باسیوں پر انعام واکرام کی پھوار پڑتی رہنی چاہیے تھی۔ یہاں ہر سُو سکون واطمینان کا دور دورہ ہونا چاہیے تھا ۔ شادمانی و کامرانی ہر طرف لہلہاتی دکھلائی دی جانی چاہیے تھی ۔ اخوت و محبت کے زمزمے ہر جانب بہتے نظر آنے چاہئیں تھے۔ ترقی و خوش حالی کے ثمرات سے ہر ہر دامن لبریز ہونا چاہیے تھا۔ عدل وانصاف کی حکم رانی سے ظلم وجبر کی زنجیریں پاش پاش ہوتی محسوس ہونی چاہئیں تھیں۔ ہر جابر کی گردن شکنجے میں کسی جانی چاہیے تھی اور ہر ظالم کو پابند سلاسل کیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن ستر برسوں میں تو ہم سے کچھ بھی نہ ہوسکا۔ ہم نے 27رمضان المبارک کی قُداستوں سے منہ موڑا تو سبھی رحمتیں اور برکتیں ہم سے روٹھ گئیں ۔ ہم ہر حوالے سے تنزل کا شکار ہوتے چلے گئے ۔ عروج و سربلندی کی بجائے پستی کی اتھاہ گہرائیاں ہمارا مقدر بنتی چلتی گئیں۔

27رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں کے پیغام کو ہم نے فراموش کیا تو مقصد و منزلِ آزادی دونوں ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم نے آدھا ملک بھی گنوا دیا اور ہم ایک قوم بننے کی صلاحیت سے بھی عاری ہوگئے۔ ہم نے ایک قوم کی بجائے کئی ایک قومیتوں کا راگ الاپا ، اسلام کی بنیاد پر اخوت و محبت کی تخم ریزی کے بجائے ہم نے لسانیت ، علاقائیت اور صوبائیت کو فروغ دیا۔ ہم مذہبی فرقہ واریت کے ساتھ ساتھ بدترین قسم کی سیاسی فرقہ واریت کا شکار ہوگئے ۔ ہم نے محبتوں کی بجائے نفرتوں کو پالا پوسا اور جوان کیا ۔ ہم صداقت و دیانت کی بجائے کذب و افتراء اور الزام تراشی کو اپنا وطیرہ بنایا ، ہم نے اقتدار کو خدمتِ خلق کی بجائے اقرباء پروری ، بدعنوانی اور عیاشی کا ذریعہ بنا لیا۔ ہم اسلام کی روشن و تابندہ تعلیمات اور اقبال وجناح علیہما الرحمہ کی تابندہ روشن مثالوں کی پیروی کہاں کرتے ، ہم نے تو ہر سطح پر لوٹ مار اور حرام خوری کو اپنا روز مرہ بنا لیا، اور اس سب کچھ کا نتیجہ وہی ہے جو آج ہم قدم قدم پر بھگت رہے ہیں ۔ ہمارا پورا اجتماعی ڈھانچہ ہماری بدعنوانیوں ، ہماری بد اعمالیوں ، ہماری خباثتوں اور ہماری غلط پالیسیوں کے باعث بد ترین کھوکھلے پن کا شکار ہے۔

آزادی کے گونجتے نعروں ، لہلہاتے پرچموں ، سماں باندھتی جھنڈیوں اور دل کے تار چھیڑتے نغموں سے معمور فضا میں اپنی آزادی کے ستر برسوں کا گوشوارہ مرتب کرتے ہوئے ضرور سوچئے گا کہ ہم نے اتنی طویل مدت میں کیا کھویا اور کیا پایا؟

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ