حکومت میں ہوتے ہوئے میاں صاحب کو میثاق جمہوریت اور عمرانی معاہدہ یاد نہیں رہتا، نواز شریف نے اب فون کیا تو نہیں اٹھاﺅں گا: بلاول بھٹو

حکومت میں ہوتے ہوئے میاں صاحب کو میثاق جمہوریت اور عمرانی معاہدہ یاد نہیں ...
حکومت میں ہوتے ہوئے میاں صاحب کو میثاق جمہوریت اور عمرانی معاہدہ یاد نہیں رہتا، نواز شریف نے اب فون کیا تو نہیں اٹھاﺅں گا: بلاول بھٹو

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نوازشریف جب اقتدار سے باہر ہوتے ہیں تو انہیں جمہوریت یاد آجاتی ہے اور جب اقتدار میں ہوتے ہیں تو میثاق جمہوریت اور عمرانی معاہدہ بھول جاتے ہیں،تاحال سابق وزیر اعظم کی جانب سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اب اگر میاں صاحب نے مجھے ٹیلی فون کیا تو میں نہیں اٹھاﺅں گا اور نہ ہی ان سے کوئی رابطہ کروں گا، پیپلز پارٹی نے اس سے قبل پاکستان مسلم لیگ (ن) یا نواز شریف کا نہیں بلکہ جمہوریت کا ساتھ دیا، لیکن ہمارے خیال میں اب جمہوری نظام کو نہیں بلکہ نواز شریف کو خطرہ ہوسکتا ہے۔جمہوریت کو جب بھی خطرہ لاحق ہواتو سب سے پہلے اس کی خاطر میں نکلوں گا۔

سابق وزیر اعظم پہلوانوں کے شہر میں، ، مقوی خوراک تیار ، حویلی دلہن کی طرح سجا دی گئی

بلاول ہاوس اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پانامہ پیپرز کا انکشاف بین الاقوامی انکشاف ہے اس میں نوازشریف کے خلاف سازش ہے اور نہ ہی اس میں ملٹری اور عدلیہ کا کوئی کردار ہے۔ پاکستان میں سب سے پہلے پاناما کا معاملہ پیپلزپارٹی نے اٹھایا ہم نے ہمیشہ جمہوریت کی مدد کی اور کبھی بھی مسلم لیگ (ن) کی مدد نہیں کی اس وقت جمہوریت اور سسٹم کو کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن نواز شریف کی ذات کو ضرور خطرہ ہے۔ نواز شریف کا کوئی نظریہ ہے اور نا ہی ان کی ذات کا جمہوریت سے کوئی تعلق ہے، وہ جب بھی حکومت سے باہر ہوتے ہیں تو انہیں جمہوریت یاد آجاتی ہے، حکومت میں رہتے ہوئے انہیں میثاق جمہوریت اور معاہدہ عمرانی یاد نہیں رہتی وہ صرف خود کو بچانا چاہتے ہیں۔ ہم کوئی آئینی تصادم نہیں چاہتے لیکن پارلیمنٹ میں عدلیہ اور فوج کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے پارلیمنٹ میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے لیکن ہم (ن) لیگ جیسی سیاست نہیں کریں گے۔

عوام نے نواز شریف کا مظلومیت کارڈ مستردکر دیا،سابق وزیر اعظم ملزم سے مجرم بننے جارہے ہیں:عمران خان

چئیرمین پی پی پی نے کہا کہ کیا پاناما کا معاملہ ہماری عدلیہ اور فوج نے نکالا تھا۔ میں نہیں سمجھتا کہ پاناما کیس نواز شریف کو نشانہ بنانے کے لیے معاملہ لایا گیا، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نوازشریف نے غلط راہ اختیار کی اور اپنے حق میں خود ہی ریلی نکال لی جس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا وہ اس ریلی میں حکومتی وسائل استعمال کررہے ہیں، لگتا ہے نوازشریف حکومت میں رہ کر بھی اپوزیشن کا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم ان کو ایسا کرنے نہیں دیں گے۔ میاں صاحب کی کوئی آئیڈیولاجی نہیں، جب انہیں ہٹایا جاتا ہے توانہیں سب کچھ یاد آجاتا ہے، جب وہ حکومت میں ہوتے ہیں تو میثاق جمہوریت بھول جاتے ہیں۔ نواز شریف نے تاحال ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا، اوراگر وہ رابطہ بھی کریں گے تو وہ ان سے بات نہیں کریں گے۔ نواز شریف عدالت سے سزا پانے کے بعد پیپلز پارٹی کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو تسلیم کرکے ذوالفقار علی بھٹو کی مظلومیت کے پیچھے چھپنا چاہتے ہیں، مگر وہ یہ نہیں ہونے دیں گے۔ہم گالم گلوچ کی سیاست نہیں کریں گے، ہم الیکشن کے لئے تیار ہیں، گزشتہ انتخابات میں صورتحال مختلف تھی ہمیں الیکشن مہم کی بھی اجازت نہیں دی گئی لیکن اب میں اور میرے والد میدان میں ہیں اور آئندہ حکومت آصف علی زرداری کی ہوگی۔

لاپتہ افراد کے حوالے سے بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ سندھ میں آئے روزلوگ لاپتہ ہو رہے ہیں جس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہوں اورصوبائی حکومت سے سوال پوچھتا ہوں جب کہ سینیٹ میں انسانی حقوق کمیٹی کو بھی کہا ہے کہ لاپتا افراد کا معاملہ اٹھائے۔ سندھ میں احتساب کا قانون بنے گا تونیب سے زیادہ کامیاب ہوگا جب خیبرپختونخوا نے احتساب کا بل پاس کیا ہے تو کیا سندھ کا حق نہیں ہے۔

مزید : قومی /اہم خبریں