میاں صاحب جو مرضی کر لیں اب کسی صورت وزیرا عظم نہیں بن سکتے ،عمران خان نے خود اپوزیشن کو توڑا، حقیقی جمہوریت کیلئے میدان میں اترآئے :پاکستان پیپلز پارٹی

میاں صاحب جو مرضی کر لیں اب کسی صورت وزیرا عظم نہیں بن سکتے ،عمران خان نے خود ...
میاں صاحب جو مرضی کر لیں اب کسی صورت وزیرا عظم نہیں بن سکتے ،عمران خان نے خود اپوزیشن کو توڑا، حقیقی جمہوریت کیلئے میدان میں اترآئے :پاکستان پیپلز پارٹی

  

چنیوٹ(ڈیلی پاکستان آن لائن )پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنماؤں قمرزمان کائرہ اور ندیم افضل چن نے کہا ہے کہ میاں صاحب اپنی چمڑی اور دمڑی بچانا چاہتے ہیں مگر ایسا نہیں ہوگا ،میاں صاحب جو مرضی کر لیں اب کسی بھی صورت وزیرا عظم نہیں بن سکتے ،پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی کرپشن اور سب سے بڑے جھوٹ کا پردہ فاش ہوگیا  ،جو لوگ یہ کہتے تھے کہ پاکستان سے پیپلز پارٹی ختم ہو گئی تو وہ سن لیں اب پاکستان پیپلز پارٹی ملک میں حقیقی جمہوریت کیلئے میدان میں اتری ہے ،بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے نظریے کو اسی انداز سے زندہ کرینگے ، بتایا جائے نا اہل کرپٹ اور غلط بیانی کرنیوالے سابق وزیر اعظم کا جلوس کس کیخلاف ہے؟عمران خان نے خود اپوزیشن کو توڑا ہے ، ان کیساتھ جو لوگ ہیں وہ نئے نہیں ، وہ دوسروں کیساتھ ہوں تو کرپٹ ان کیساتھ دودھ میں نہائے بن جاتے ہیں،این اے 120میں پیپلزپارٹی بھر پور الیکشن لڑیگی۔

مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی مضبوط ہو گی ،اب پنجاب کے ہر ضلع میں جلسے ہونگے اور پنجاب کے کونے کونے سے پیپلز پارٹی کا نام لینے والے اور حقوق کی بات کرنے والے منظر عام پر آئیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پی پی پی کل سے انتخابی مہم کا با قائدہ آغاز کر رہی ہے،  پاکستان کے لو گوں کے ساتھ مستقبل کا لائحہ عمل اور  بلاول اپنے مستقبل کا ایجنڈا بتائیں گے،  نا اہل وزیر اعظم اپنی بلا جواز سیاسی قوت کا مظا ہر کر رہے ہیں اور کہنے کو گھر جارہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہمیں بتائیں کہ نا اہل کرپٹ اور غلط بیانی کرنے والے سابق وزیر اعظم نواز شریف کا جلوس کس کے خلاف ہے؟  ریاستی وسائل کا کھلم کھلا استعمال کرتے ہوئے کس کے خلاف لانگ مارچ کیا جا رہا ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کی ساری باتیں عدلیہ اور فوج کے خلاف ہیں، آج میاں صاحب کو پارلیمان کیسے یاد آگیا ؟ یہ وہی لوگ ہیں جو شہید بی بی بے  نظیر بھٹو کو سیکیورٹی رسک کہتے تھے، ذوالفقار علی بھٹو کو برا بھلا کہنے والے کس منہ سے ان کو اچھا کہہ رہے ہیں ؟۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کہتے ہیں کس بات پر نکال دیا ہے، آپ کے بیٹے کی کمپنی میں کر ڑوں روپے کا لین دین ہو تا ہے،  اس پیسے کا جواب میاں صاحب نہیں دے سکے، آپ کو کرپشن کے پیسے چھپانے کی وجہ سے نا اہل کر دیا گیا،  آپ کو  جھو ٹ بولنے پر نکالا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب آپ کے خلاف 16 ریفرنس ہیں اور ذرا انتظار کریں والیم دس کھلنے دیں مزید ریفرنس بنیں گے ، آپ کے خلاف ایک  فیصلہ ہواہے ، ابھی بہت سارے فیصلے باقی ہیں ، آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کا سارا خاندان جھوٹ،  غلط بیانی اور کرپشن کی لپیٹ میں ہے ، میاں صاحب آپ پر جب عمران خان کی جانب سے کرپشن کا الزام آیا تو آپ نے بھی اس کے جواب میں عمران خان کے خلاف کیس کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کہہ رہے ہیں کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ نے کسی کے کہنے پر فیصلہ کیا ، یہ کھلی توہین عدالت ہے ، عمران خان صاحب نے خود اپوزیشن کو توڑا ہے،  ان کیساتھ جو لوگ ہیں وہ نئے تو نہیں ہیں دوسروں کیساتھ ہوں تو وہ کرپٹ ان کیساتھ ہوں تو دودھ میں نہائے بن جاتے ہیں ،اسے عمران خان کا نیا پاکستان کہتے ہیں، جب 18 ویں ترمیم ہوئی تھی تو اس وقت 103 شقوں کو ہم نے ٹھیک کیا، آئین62/63 کی کچھ شقوں پر اعتراض موجود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کرنے کیلئے نیک نیتی ہونا بہت ضروری ہے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ میرے شہر کا ایک بچہ ریلی کی بھینٹ چڑھ گیا ، آپ کے قافلے میں کسی ایمبولنس نے اس بچے کو طبی امدادنہیں دی اور یہ لوگ اسے سیاسی شہید کہہ رہے ہیں جوکہ شرمناک ہے جبکہ اس معصوم بچے کے اہل خانہ ان کے خلاف ماتم سرا ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ریلی نکالنے کا آپ کو کو ئی حق نہیں میاں صاحب آپ نا اہل ہو چلے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اب میاں صاحب کو دوبارہ باری نہیں ملنی ۔

مزید : قومی