پاکستانی فوج فیڈریشن کی علامت ، میں فیڈریشن کیساتھ اور اس کا حامی ہوں: پیر پگاڑا بھی میدان میں آ گئے

پاکستانی فوج فیڈریشن کی علامت ، میں فیڈریشن کیساتھ اور اس کا حامی ہوں: پیر ...
 پاکستانی فوج فیڈریشن کی علامت ، میں فیڈریشن کیساتھ اور اس کا حامی ہوں: پیر پگاڑا بھی میدان میں آ گئے

  

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)حروں کے روحانی پیشوا اور مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیر صبغت اللہ شاہ راشدی پیرصاحب پگارا نے کہا ہے کہ میں فیڈریشن کے ساتھ اور اس کا حامی ہوں ، پاکستانی فوج فیڈریشن کی علامت ہے، فیڈریشن کی بقا اور استحکام کے لئے ہر کسی کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں،دیرینہ خواہش ہے کہ مسلم لیگی تمام دھڑے متحد ہوجائیں ،پہلے ہم کسی کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے اب حالات تبدیل ہوگئے ہیں اور آنے والے دنوں میں کنگری ہاؤس ہماری بھر پور سرگرمیوں کا مرکز ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق کنگری ہاؤس کراچی میں مسلم لیگ فنکشنل سندھ کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے  پیر پگارا نے کہا کہ سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے وہ اب کنگری ہاؤس منتقل ہوگئے ہیں تاکہ سیاسی  اور پارٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ساتھ روابط کو بڑھایا جاسکے، پہلے ہم نے  اپنی سیاسی سرگرمیاں محدود اس لئے کررکھی تھیں کہ ہم کسی کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے لیکن اب حالات تبدیل ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ بڑاافسوسناک امر ہے کہ اس وقت فیڈریشن کی بات کرنے کو کوئی تیار نہیں ہے، ہم پاکستان سے اپنی محبت کے باعث ہمیشہ فیڈریشن کی بات کرتے ہیں ، اس کی سلامتی اور بقا کے لئے جس کسی کا بھی تعاون حاصل کرنا پڑا  کریں گے اور اس کام کے لئے میں لوگوں کے پاس خود چل کر جانے کو تیار ہوں۔انہوں نے کہا کہ ان کی ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ تمام مسلم لیگی کسی ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوجائیں ، مجھے ذاتی طور پر کسی عہدے کا لالچ نہیں اگر کوئی پنجاب سے بھی قیادت کے لئے سامنے آجائے تو وہ ہمیں قابل قبول ہوگااور اسے ہم خوش آمدید کہیں گے۔انہوں نے کہا کہ 2013ء کے الیکشن میں مسلم لیگ (ن) کی کامیابی کے بعد میں نے نواز شریف اور شہباز شریف سے کہا تھا کہ وہ مسلم لیگ کو متحد کرلیں لیکن انہوں نے اس معاملے میں کسی دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ میں مایوس ہونے والا اور ہمت ہارنے والا نہیں ہوں ہمیں ماضی کو چھوڑ کر مستقبل کی طرف دیکھنا چاہیئے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کی حکومت نے تو پھر بھی اپنے صوبے میں لوگوں کے لئے کام کیا ہے لیکن سندھ میں سوائے کرپشن کے کوئی کام نظر نہیں آتا،  آئندہ عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کا بھر پور مقابلہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میں نے گزشتہ عام انتخابات سے پہلے ہی یہ پیش گوئی کردی تھی کہ پیپلز پارٹی تین صوبوں سے آؤٹ ہوجائے گی ،سندھ میں بھی وہ صرف پیسے اور ڈندے کے بل بوتے پر جیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ  پنامہ کیس بیرون ملک سے سامنے آیا تھا ، اگر میاں نواز شریف اس معاملے کو پارلیمنٹ میں ہی رہنے دیتے اور اس سے باہر لیجانے کا موقع نہ دیتے تو انہیں یہ صورتحال نہ دیکھنا پڑتی اور ان کی عزت بھی بچی رہتی۔اس سوال کے جواب میں کہ وہ نواز حکومت کے اتحادی ہیں کیا موجودہ صورتحال میں وہ نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہوں گے ؟ ان کا کہنا تھا کہ میں فیڈریشن کے ساتھ ہوں ، اس کا حامی ہوں اور پاک فوج فیڈریشن کی سب سے بڑی علامت ہے۔ 

مزید : قومی