انتخابی دھاندلی۔۔۔ پارلیمانی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ

انتخابی دھاندلی۔۔۔ پارلیمانی کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ

مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیشن بننا چاہئے، اُن کا کہنا تھا کہ ہم تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کو مبارکباد دینے کے لئے پارلیمینٹ نہیں جا رہے،بلکہ حلف اٹھانے کے فوراً بعد ہم یہ مطالبہ کریں گے کہ انتخابات میں دھاندلیوں کی تحقیقات کی جائیں، تمام اپوزیشن جماعتیں جنہوں نے انتخاب جیتنا یا ہارا، الیکشن کمیشن کے باہر جمع ہوئیں،احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ دھاندلیوں کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیشن بنایا جائے۔ اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے،جہاں وہ مسلم لیگ کے تاحیات قائد نواز شریف اور دوسرے اسیروں سے ملاقات کے لئے گئے تھے، انہوں نے کہا کہ الیکشن والے دن آر ٹی ایس کیوں بند ہوا، پولنگ ایجنٹوں کو کیوں نکالا گیا اُن کی غیر موجودگی میں کس طرح ووٹوں کی گنتی ہوئی، مشینیں کیوں بند کرائی گئیں، ووٹروں کی لائنیں سست روی کا شکار کیوں ہوئیں۔اُن کا کہنا تھا مُلک میں دھاندلی والا الیکشن ہوا ہے الیکشن سے پہلے بھی دھاندلی ہوئی، الیکشن کے دِن بھی ہوئی،آج صورتِ حال یہ ہے کہ الیکشن جیتنے اور ہارنے والے دونوں ہی سراپا احتجاج ہیں، ووٹ کے ساتھ ناانصافی ہوئی اس پر آواز اٹھانا ہم سب کا حق ہے، دھاندلی کا شور پاکستان میں ہی نہیں، بلکہ بیرونِ مُلک میڈیا میں بھی ہے۔ دھاندلی زدہ الیکشن کو قوم نے رد کیا ہے، لوگ کچھ بھی کہیں، لیکن حقیقت یہی ہے کہ یہ پہلا احتجاج نہیں تھا، آئندہ بھی ایسے احتجاج ہوں گے۔

اپوزیشن جماعتوں نے جمعرات کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر جو احتجاج کیا۔ اگرچہ شہباز شریف خود اس میں شریک نہیں ہوئے اور کئی دوسرے رہنما بھی شرکت نہ کر سکے،لیکن اس کے باوجود یہ ایک بھرپور احتجاج تھا اور متحدہ اپوزیشن کے بہت سے نامور سیاسی رہنما اس میں شریک تھے۔ یہ احتجاج موثر ثابت ہوا یا نہیں یہ تو آنے والے وقت میں پتہ چلے گا،لیکن بعض سیاست دانوں کا فوکس صرف اِس بات پر رہا چونکہ شہباز شریف خود اس میں شریک نہیں ہوئے اور انہوں نے نہ آنے کے لئے موسم کی خرابی کا بہانہ بنایا اِس لئے یہ احتجاج ناکام تصور ہو گا، یہ احتجاج جیسا بھی تھا شہباز شریف نے واضح کر دیا ہے کہ اسمبلی میں حلف اٹھاتے ہی ایوان کے اندر یہ معاملہ سب سے پہلے اٹھایا جائے گا۔انہوں نے پارلیمانی کمیشن کی تشکیل کا جو معاملہ اٹھایا ہے تحریک انصاف نے اس سے اختلاف نہیں کیا۔اگر اسمبلی کے اندر بھی وہ اپنے اس موقف پر قائم رہتی ہے تو پھر ایسے کمیشن کی تشکیل میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی اور اگر کمیشن بن جائے تو اس کے ٹی او آر بھی اِس انداز میں طے ہونے چاہئیں کہ الیکشن کے حوالے سے جو جو شکایات بھی ہیں اُن سب کی تحقیقات ہو سکے۔

شہباز شریف نے یہ بھی کہا ہے کہ انتخابات سے پہلے بھی دھاندلی ہوتی رہی،اِس ضمن میں تو بہت سی کہانیاں زبان زدِ عام ہیں۔ اگر لگے ہاتھوں یہ معاملہ بھی پارلیمانی کمیشن کے سامنے رکھ دیا جائے تو پتہ چل جائے گا ’’پری پول رِگنگ‘‘ کتنے منظم انداز میں چل رہی تھی۔ گنتی کے وقت پولنگ ایجنٹوں کو پولنگ سٹیشنوں سے باہر نکالنے کا الزام بھی سنگین ہے، بلکہ ایک پریذائیڈنگ افسر نے ایک اینکر کے پروگرام میں یہ تک کہہ دیا کہ گنتی اُن کی موجودگی میں نہیں ہوئی،جب پریذائیڈنگ افسر ایک ایسی بات کہتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے فرائضِ منصبی کماحقہ ٗ ادا نہیں کر رہا تھا، ووٹ ڈالنے سے لے کر گنتی تک سارے فرائض ہی پریذائیڈنگ افسر کی ذمہ داری ہے اور جب اُسے ہی گنتی کی نگرانی سے سبکدوش کر دیا گیا تو پھر اس سارے عمل کو کِس نے سپروائز کیا؟ اِسی طرح آر ٹی ایس کی خرابی کا معاملہ بھی ہے، میڈیا میں یہ بات رپورٹ ہو چکی ہے کہ جب الیکشن سے پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو بریفنگ دی گئی کہ پولنگ سٹیشنوں سے نتائج ریٹرننگ افسروں کے دفتر اور پی ٹی وی کو ارسال کرنے کے لئے یہ سسٹم بنایا گیا ہے تو انہوں نے استفسار کیا تھا کہ اگر اس میں کوئی خرابی ہو گئی تو کیا ہو گا؟ جس کا انہیں یہ جواب دیا گیا تھا کہ خرابی کا امکان نہیں، لیکن آرمی چیف کا خدشہ آج درست ثابت ہوا۔ الیکشن کی رات بارہ بجے کے قریب جب اس سسٹم پر نتائج آنا اچانک بند ہو گئے تو نتائج کے منتظر لوگوں کو تشویش ہوئی جنہیں طویل انتظار کے بعد بتایا گیا کہ آر ٹی ایس نے کام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ یہ اعلان الیکشن کمیشن کے سیکرٹری نے کیا تھا۔

اب سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ سسٹم بیٹھا نہیں تھا سست ہو گیا تھا، اِس کا مطلب تو یہ ہے کہ نتائج سست رفتاری سے جا رہے تھے،لیکن سیکرٹری الیکشن کمیشن نے تو اس وقت سسٹم بیٹھ جانے کی بات کی تھی اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا تھا کہ اب نتائج مینوئل طریقے سے حاصل کئے جائیں گے،مینوئل کا مطلب یہ ہے کہ پریذائیڈنگ افسر خود نتیجہ اور بیلٹ باکس لے کر آر اوز کے دفتر میں جائیں گے،لیکن پریذائیڈنگ افسر وہاں نہیں پہنچے،بلکہ آر اوز نے جب اُن سے رابطہ کیا تو اُن کے فون بھی بند ملے اور اطلاعات کے مطابق جن پریذائیڈنگ افسروں کو رات دس بجے نتیجہ لے کر آر اوز کے دفتروں میں آنا تھا وہ اگلے دن دس بجے آئے۔یہ بارہ گھنٹے کا وقت انہوں نے کہاں گزارا؟ کیا وہ نتیجہ لے کرگھروں کو چلے گئے اور اگلے دن اپنی سہولت سے آر اوز کے دفتر پہنچے،کیا ان سب کو کسی نے پوچھا کہ وہ وقت پر کیوں نہیںآئے اور اگر ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کیا جواب دیا۔۔۔ اور کیا ان کا جواب تسلی بخش تھا یا غیر تسلی بخش؟ بہتر تو یہ تھا کہ الیکشن کمیشن اس کا جواب حاصل کرکے قوم کے سامنے رکھتا تاکہ الیکشن کے عمل پر انگلیاں نہ اٹھتیں، لیکن یا تو الیکشن کمیشن نے اپنے اِن ماتحت افسروں سے کوئی باز پُرس ہی نہیں کی یا کی تو خفیہ رکھی اور کسی کو کچھ نہیں بتایا گیا۔خود چیف جسٹس نے فرمایا تھا کہ الیکشن والے دن سارا کام ٹھیک چل رہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے مہربانی فرما دی اور رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم ہی بیٹھ گیا، اِن تمام امور کی تحقیقات کے لئے اپوزیشن کے مطالبے پر اگر پارلیمانی کمیشن بنا دیا گیا تو امید کی جا سکتی ہے کہ ان سوالات کا جواب مل جائے گا اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو خدشہ ہے قومی اسمبلی کی کارروائی ہموار طریقے سے آگے نہیں بڑھ سکے گی اِس لئے پارلیمانی کمیشن کا مطالبہ مان کر آگے بڑھا جائے تو یہ قرینِ انصاف اور قرینِ مصلحت ہو گا۔

مزید : رائے /اداریہ