پولیس کی زیادتی، فیصل آباد میں طالب علم قتل کردیئے

پولیس کی زیادتی، فیصل آباد میں طالب علم قتل کردیئے

پنجاب پولیس کے خلاف شکایات دیرینہ ہیں اور اب تک ازالہ نہیں ہوسکا کہ اس پولیس کا رویہ اب بھی انگریز دور والا ہے کہ ان کے نزدیک شہریوں کی کوئی اہمیت نہیں، شاید تربیتی نظام میں کوئی ایسی تبدیلی نہیں ہوئی جس کی وجہ سے ان کو یہ سمجھ آئے کہ یہ حضرات سرکاری ملازم ہیں اور ان کو تنخواہ اور مراعات سرکاری خزانے سے ملتی ہیں اور ان کا کام عوام کے جان و مال کی حفاظت ہے، دکھ کا مقام ہے کہ ایسا عملی طور پر نہیں ہوتا، حکومتوں کی طرف سے خصوصاً سابقہ حکومت نے نہ صرف پولیس ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں بیش بہا اضافہ کیا بلکہ کئی نئے یونٹ تشکیل دیئے، یہ سب کچھ ہونے کے باوجود پولیس کے عمومی رویے میں فرق نہیں آیا اور پولیس والے اب بھی خود ہی کو سب کچھ جانتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ جرائم پیشہ افراد سے ان کا گٹھ جوڑ ہوتا ہے اور وہ لوگ ان کی پشت پناہی کے باعث کھیل کھیلتے ہیں، یہ شکائت اپنی جگہ، لیکن یہ تو ظلم کے مترادف ہے کہ ان پولیس ملازمین کو قتل کا بھی کھلا لائسنس مل گیا اور نام نہاد پولیس مقابلے کا ذکر کر کے کسی بھی شہری کو جان سے مار دیتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ جو افراد جرائم میں ملوث ہوتے ہیں وہ بھی کوئی نیکی کا کام نہیں کرتے عوام کو پریشان کرتے، ڈاکے مارتے اور قتل تک کرتے ہیں، راہزنوں اور ایسے ڈاکوؤں کا قلع قمع کرنا بھی پولیس کے فرائض میں شامل ہے، ہم یہ بھی تسلیم کرلیتے ہیں کہ پولیس ملازمین نے جرائم اور دہشت گردی کے خلاف بہادری دکھائی اور جام شہادت بھی نوش کیا، کیا ان بہادر لوگوں کی جرأت کی بنا پر نکمے پولیس ملازمین کو یہ اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ بے گناہوں کو گولی کا نشانہ بنا کر اسے پولیس مقابلہ کہہ دیں؟

فیصل آباد میں پولیس والوں کی ایک ٹولی نے جو بزعم خود ناکہ لگائے ہوئے تھی، دو نوجوان اور ذہین طالب علموں ارسلان اور عثمان کو اپنی نااہلی اور نالائقی سے قتل کردیا اور اسے پولیس مقابلہ قرار دیا جارہا ہے، دونوں نوجوانوں نے میٹرک کے امتحان پاس کئے اور پوزیشن ہولڈر تھے اور اب فرسٹ ائیر کے طالب علم تھے، ان کے قتل کے بعد ان سے کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا، بتایا گیا کہ یہ دونوں موٹر سائیکل پر برگر کھانے نکلے تھے کہ قتل کردیئے گئے، پولیس والوں نے اپنا جرم چھپانے کے لئے ان کو ڈاکو قرار دیا اور کہا پولیس مقابلہ ہوا ہے، پھر ان کے خلاف ایف، آئی، آر بھی کاٹ دی گئی جس کے مطابق مقتولین کو ناکے والوں نے موٹر سائیکل روکنے کو کہا تو انہوں نے موٹر سائیکل بھگا دی ان کو روکنے کے لئے فائرنگ کی گئی، مقتولین کے لواحقین اور شہریوں کے زبردست احتجاج کے بعد ان ملازمین کے خلاف بھی ایف، آئی، آر درج ہوگئی ان کو معطل کیا گیا لیکن گرفتار نہیں ہوئے، پولیس نے اپنی ایک سہ رکنی تحقیقاتی کمیٹی بناکر تفتیش کا اعلان کر دیا ہے۔اب اگر پولیس کی بات بھی تسلیم کی جائے تو یہ جرم اور بھی سنگین بن جاتا اور اس کے لئے ان کے اعلیٰ افسر بھی جواب دہ ہیں کہ ان پولیس والوں نے اگر شبہ ہونے کے بعد مبینہ طور پر گولی چلائی تو پھر یہ ارادتاً ان کو قتل کرنے کے لئے تھی ورنہ تربیت اور ہدایات کا تقاضہ ہے کہ بھاگنے والوں کی ٹانگوں کو نشانہ بنایا جائے کہ وہ زخمی ہوں اور ان کو گرفتار کرکے تفتیش کی جاسکے، اس معاملے میں ایسا بھی نہیں ہوا، اس لئے بادی النظر میں یہ ملازمین ذمہ دار اور قتل عمد کے مرتکب ہوئے اس لئے ان کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلنا چاہئے تاکہ عبرت ہو اور دوسرے ملازمین قواعد کا بھی دھیان رکھیں، ان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔

مزید : رائے /اداریہ