دل کی تنہائی اور پاسبان عقل!

دل کی تنہائی اور پاسبان عقل!
دل کی تنہائی اور پاسبان عقل!

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دل کو تنہا چھوڑنے کے لئے کبھی کبھی کا استعمال ہوا، ورنہ بات دراصل پاسبان عقل کی ہے کہ اس کا دل کے پاس رہنا ہی اچھا ہوتا ہے، اب یہی محسوس ہوا کہ پاسبان عقل والی بات زیادہ بہتر ہے کہ عام انتخابات کے بعد پاسبان عقل نے دل کو تنہا چھوڑ دیا تھا اگرچہ یہ ایک جگہ موجود رہا، دل نے جوش مارا اور بہت زور دار نعرہ لگا، ہم نہیں مانتے، ہم نہیں جانتے، انتخابات ٹھیک نہیں ہوئے، بہت بڑی دھاندلی ہوئی، اس کے خلاف تحریک چلائیں گے اور تحریک بھی 1977ء جیسی بھٹو مخالف تحریک جیسی، ہم نے تب بھی عرض کیا تھا کہ جوش پر ہوش کو غالب رہنا چاہئے مطالبات، تحفظات اور احتجاج اپنی جگہ یہ حق ہے اور اسے استعمال کرنا غلط نہیں لیکن اس سے ایسے حالات پیدا نہیں ہونا چاہئیں جو عدم استحکام کو مزید بدتر کردیں کہ خود تمام راہنما اور ہماری سیاسی جماعتیں تسلیم کرتی ہیں کہ ابتر معاشی اور اقتصادی صورت حال کی درستی کے لئے استحکام لازم ہے اور سیاسی انتشار کے نتائج کبھی بہتر نہیں ہوتے، شکر ہے کہ اب پاسبان عقل ہی کو دل کے پاس آنے دیا گیا ہے اور متحدہ اپوزیشن نے انتخابی دھاندلی کی تحقیق کے لئے پارلیمانی کمیٹی بنانے کا مطالبہ کردیا، احتجاج تو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر جاری رہے گا لیکن مطالبہ ایک سطح پر ایسا کیا گیا ہے جو سب کے لئے ہے کہ ہر طرف سے ’’مداخلت‘‘ ہی کی پکار ہے ہارنے والے تو احتجاج کرہی رہے ہیں جیتنے والے بھی مطمئن نہیں ہیں۔

بہرحال جذبات اور تحفظات اپنی جگہ اب بات آگے بڑھ گئی، نوٹیفکیشن ہوگیا اور قومی اسمبلی کا اجلاس بھی بلالیا گیا، اس کے ساتھ ہی خیبرپختونخوا اسمبلی بھی ملے گی اور ان دونوں کے اجلاس 13اگست کو ہوں گے، توقع ہے کہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان اسمبلی کے اجلاس بھی 13۔اگست ہی کو ہو جائیں گے اور اراکین کے حلف کے بعد سپیکر، ڈپٹی سپیکر اور پھر وزیر اعظم اور وزرا اعلیٰ کے انتخابات بھی ہوں گے اور یہ سلسلہ 17۔اگست کو مکمل ہوگا اور پھر حلف ہوں گے پہلے مرحلے میں وزیر اعظم پھر وزراء اعلیٰ حلف اٹھائیں گے اور کابینہ سازی ہوگی، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور سندھ اسمبلی کے لئے قائد ایوان نامزد ہوچکے، صرف پنجاب کا نام باقی ہے، توقع ہے کہ ان سطور کے شائع ہونے تک یہ فیصلہ بھی ہو جائے گا، مسلم لیگ (ن) کی طرف سے تو حمزہ شہباز نامزد ہوچکے، تحریک انصاف کی طرف سے فیصلہ عمران خان نے کرنا ہے۔

اس سارے سلسلے میں کئی مراحل آئے اور اب جو مرحلہ ہے اس میں آسانی کے ساتھ یہ تصور کیا جاسکتاہے کہ تحریک انصاف اپنی کوشش میں کامیاب، وفاق میں عمران خان قائد ایوان منتخب ہوجائیں گے کہ گنتی پوری کرنے اور سمجھنے کے لئے خصوصی نشستوں(خواتین+اقلیت) کی نامزدگی اور کامیاب ہونے والے افراد کے نوٹیفکیشن جاری ہونے کا انتظار ہی بہتر ہوگا، ویسے فواد چودھری کی بات پر اسی زاویے سے غور کرنا چاہئے کہ وہ کل گنتی کا ذکر کرتے ہیں، عمران خان کی خواہش 14۔اگست یا اس سے پہلے حلف کی تھی لیکن تکنیکی بنیادوں پر ایسا نہیں ہوا، اب تحریک انصاف جشن آزادی سیاسی جماعت کے طور پر منائے گی۔

حالات پر نظر ڈالیں تو واضح ہو جائے گا کہ حکومتیں بننے اور ان کے چلنے میں اب کوئی رکاوٹ نہیں لیکن اس کے بعد بھی ماحول کی گرمی تو رہے گی اور حکومت (تحریک انصاف) کو بہت تحمل، بردباری اور مصالحت سے کام لینا ہوگا، یہ یقینی بات ہے کہ عمران خان وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھانے کے بعد مفاہمت اور مصالحت کی بات کریں گے اور مخالفین کے لئے بھی نیک اور اچھے جذبات کا اظہار کریں گے، وہ اب تک جو عندیہ دے چکے اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کو معروضی حالات کا احساس ہے اور وہ اب جلسوں والے طرز عمل میں بنیادی تبدیلی لائیں گے اور یہی امر استحکام کے لئے ضروری ہے، اس کا اندازہ فواد چودھری کی ایک ٹیلیویژن گفتگو سے بھی ہوتا ہے، اس میں انہوں نے انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کے لئے پارلیمانی کمیشن بننے پر کوئی اعتراض نہیں کیا، تحریک انصاف کے لئے اب یہی طرز عمل اپنانا جمہوریت کے لئے بہتر ہے۔

اب آئیے ذرا ان افواہوں اور خانہ ساز خبروں کا بھی ذکر کرلیں، خواہش پر مبنی اطلاع ہے کہ اپوزیشن اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف ہے اور یہ اتحاد زیادہ دیر نہیں چل سکے گا، اس پرمحترم حضرات نے غور ہی نہیں کیا کہ اب تک اختلافی امور کو آڑے نہیں آنے دیا گیا، پارلیمنٹ میں حزب اقتدار کے مقابلے کے لئے سپیکر، ڈپٹی سپیکر او وزیر اعظم کے امیدوار کا فیصلہ اتفاق رائے سے کرلیا گیا اور اب بلاول بھٹو کے ترجمان نواز کھوکھر نے بھی یہ ابہام دور کردیا کہ پیپلز پارٹی ووٹ کسے دے گی، قارئین! آپ غور فرمایئے گا کہ سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے انتخابات کے وقت ہی اعدادوشمار کی گٹھری کھل جائے گی اور معلوم ہو جائے گا کہ کتنے کدھر ہیں، یہ مقابلہ دلچسپی لئے ہوئے ہے کہ ذات کا بھی مسئلہ ہے۔

جہاں تک مفاہمت، چھپ کر مذاکرات کا تعلق ہے، مسلم لیگ (ن) کے مرکزی صدر محمد شہباز شریف نے بھی توواضح کردیا، انہوں نے این، آر، او کے حوالے سے تردید کرکے مذاکرات کی اہمیت تسلیم کرلی ہے اور حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے، اسی سے اندازہ ہوتا ہے کہ بات تو چل رہی ہے ابھی حتمی نتیجہ نہیں نکلا، اس سلسلے میں پیش نظر رہے کہ گزشتہ روز ترجمان مریم اورنگ زیب نے مختلف ذرائع سے شائع اورنشر ہونے والے سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے تمام تربیانات کی تردید کردی اور یہ اعلان کیا کہ صرف وہ (مریم اورنگ زیب) جو کہیں گی وہی درست ہوگا کہ قائد مسلم لیگ (ن) کے بیانات بھی وہی جاری کریں گی ان کے سوا کسی بھی اور ذریعے سے محمد نواز شریف سے منسوب بیان کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ضمانت ہوگی اور وہ لندن جائیں گے تو یہ کوئی ابہام والی بات نہیں، اپیل اور ضمانت پر رہائی بھی ان کا حق ہے اور یہ عدالت مجاز کا فیصلہ ہوگا کہ ان کی سزا معطل کرکے ضمانت لی جائے، یا ضمانت کی درخواست منظور کرکے ان کو رہا کیا جائے اگر ایسا ہو تو اسے کوئی ڈیل سمجھنا غلط ہوگا، رہ گیا ان کا لندن جانا تو ان کو یہ اجازت بھی ملنا چاہئے کہ وہ اہلیہ کی عیادت کرسکیں، اس سارے معاملے میں شکوک پیدانہ کریں اور کوشش کریں کہ آئندہ دور اچھا اور مثبت ثابت ہو کہ جمہوریت کو مستحکم ہونا چاہئے، خواہشات بھی اسی نظام کے تحت پوری ہوں، ہمیں توقع ہے کہ بات استحکام کی طرف بڑھے گی کہ کوئی اور حل نہیں، سب کو اصول کی سیاست کرناہوگی۔

مزید : رائے /کالم