سیاستدان باہمی کشیدگی کو ختم کر دیں

سیاستدان باہمی کشیدگی کو ختم کر دیں

اخبارات پر نظر رکھنے والے قارئین کرام کی اکثریت اس امر کی شاہد ہے کہ ملک بھر میں انتخابی مہم کے دوران ایک سیاسی جماعت کے راہنما اور کارکن دیگر انتخابی امیدواروں اور سابق حکمرانوں کو چور، ڈاکو اور لٹیروں کے القابات سے بار بار پکارتے اور للکارتے رہے، یہ جارحانہ اندازِ خطابت بھی گزشتہ چار سال سے مسلسل بعض ٹی وی چینلوں، عوامی اجتماعات اور سیاسی رائے اظہار کے مقامات پر بلا روک ٹوک اختیار کر کے جاری رکھا گیا۔ نگران حکمران طبقے کے وزراء صاحبان کو ایسی تضحیک آمیز اور اشتعال انگیز بیان بازی کو روکنے کے لئے متعلقہ سیاست کاروں اور کارکنوں کو واضح اور غیر مبہم طور پر ایسا کرنے سے باز رہنے کی تلقین و ترغیب دینے کے بعد اس روش کو دہرانے پر ان کے خلاف تادیبی کارروائی کرنی چاہئے تھی، کیونکہ ایسی کارکردگی سے امن و امان کے مسائل پیدا ہوتے ہیں اگرچہ الیکن کمیشن کی جانب سے، ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانے اور سرزنش کے کئی اقدامات بھی کئے گئے، لیکن انتخابی امیدواروں کی بد زبانی اور زبان درازی پر قابو پانا نہ صرف آج بلکہ آئندہ بھی ایک ضروری اور لازمی تقاضا لگتا ہے۔ اس رجحان کو موجودہ اور نئی وفاقی و صوبائی حکومتوں کو بھی، درست کرنے پر کچھ توجہ ضرور دینا ہو گی۔ نگران حکومتوں کی جانب سے انتخابات کا مطلوبہ معیار کے مطابق آزادنہ اور منصفانہ منعقد کرانا، گزشتہ ادوار کی طرح اس بار بھی ایک بڑا چیلنج اور مشکل معاملہ رہا۔ انتخابات میں امیدواروں اور کارکنوں نے تو اپنے سیاسی راہنماؤں کی بہتر قیادت اور صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرنا اور ان کی حتی المقدور، زیادہ تعریف و توصیف کے لئے تشہیر کرنا ترجیحی عمل ہوتا ہے، تاکہ عوام اور ووٹروں کو راغب اور متاثر کیا جا سکے ،لیکن بعض امیدواروں کی بد کلامی کی روش پر آئندہ پابندیاں لگانے کے احکام پر عمل درآمد کرانا بطور خاص یاد رکھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس مادر پدر آزادی کے رجحان سے تو یہاں مزید تلخ نوائی کی وبا عوام کی عادات و حرکات سے جرائم کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتی ہے۔

یہاں چونکہ شرح خواندگی ابھی محض 50 فیصد انسانی آبادی تک ہی محدود ہے، اس لئے عوام سے خطابات کے دوران مختلف شعبہ ہائے زندگی کے قائدین کرام کو عوام کی صحیح تعلیم و تربیت کو کسی وقت اور موقع پر کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ یاد رہے کہ باہمی کشیدگی اور لڑائی جھگڑوں سے، طویل رقابتیں اور کدورتیں پیدا ہونے سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے خدشات اور خطرات تقویت پذیر ہوتے ہیں۔وطن عزیز میں گزشتہ چار سال سے اسلام آباد میں دھرنا دینے کے وقت سے سابقہ منتخب اراکین کو چور، ڈاکو اور لٹیرے کہنے کا انداز مسلسل دہرایا جاتا رہا۔ اس قومی اسمبلی میں جانے اور بیٹھنے والوں پر چند بار، بلکہ 100 بار لعنت بھیجنے کی بازگشت بھی اسی ایوان کے چند اراکین کی جانب سے زور دار، جارحانہ اور تضحیک آمیز لب و لہجوں میں سنائی دی جاتی رہی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین، عمران خان اور شیخ رشید اب پھر اسی ایوان میں منتخب ہو کر اپنی نمائندگی کا کردار ادا کرنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

نیز دیگر کئی اراکین قومی اسمبلی بھی دوبارہ منتخب ہو کر یہاں عوامی مسائل سے نبرد آزما ہونے اور قانون سازی کی اہم ذمہ داریاں سنبھالنے والے ہیں۔ کیا اول الذکر حضرات اب بھی ان اراکین اسمبلی کو سابقہ منفی اور مجرمانہ حرکات کے حامل القابات سے یاد کرنے کے حوالے دے کر فخر و ناز محسوس کریں گے؟ یہ متضاد انداز خصوصی غور اور نظرثانی کا متقاضی ہے۔ خواجہ سعد رفیق، شاہد خاقان عباسی، مولانا فضل الرحمن، اسفند یار ولی، آفتاب شیر پاؤ، فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، آفاق احمد اور کراچی سے شہبازشریف کو بھی ان کے ووٹ چرا کر ہرایا گیا ہے۔ اس امر کی دہائی دیگر کئی امیدوار بھی دے رہے ہیں۔ سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کی قانونی گرفت کے لئے انہیں ذرائع ابلاغ میں بدنام کرنے کا رویہ اختیار کیا گیا، حالانکہ ان کا نام اس درآمد کردہ پانامہ لیکس کی طویل فہرست میں نہیں تھا، جن میں باقی 435 ناموں پر تا حال نیب اور دیگر تفتیشی اداروں کی جانب سے مسلسل چشم پوشی اور عدم توجہی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

چند روز قبل ایک چھوٹی خبر میں پانامہ لیکس کے دیگر 400 افراد کی غلط کاریوں کو بے نقاب کرنے کا اشارہ ظاہر کیا گیا ہے، لیکن ابھی تک وہ معاملہ صیغہ راز میں ہی رکھا گیا ہے کیا دیگر ملزمان کی شناخت ان کی مالی غلط کاریوں اور جرائم پر بھی جلد کوئی تادیبی کارروائی کئے جانے کا امکان ہے؟ اس بار ے میں بھی عوام کو آگاہ کیا جانا، متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہے، تاخیر سے ان کی غفلت ظاہر ہو رہی ہے۔میاں نوازشریف اور حنیف عباسی کو انتخابات سے قبل سزا دلوانا بھی بعض انصاف پسند طبقوں یا حلقوں کی ایک دیرینہ خواہش یا ترجیح تھی۔ انصاف کرنے اور قانون کی نظر میں سب لوگوں کے برابر ہونے کا تذکرہ آئے دن مختلف عوامی پلیٹ فارمز پر دیکھنے اور سننے میں آتا رہتا ہے لیکن میاں نوازشریف کے ساتھ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے جیل جانے کے بعد آئین توڑنے والے شخص جنرل (ر) پرویز مشرف پر اپنے جرائم کی عدالتی پیروی کا سلسلہ کچھ عرصے سے منقطع کیوں ہے؟

حالانکہ ان کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ قتل، کوئٹہ کی عدالت میں بھی زیر سماعت رہا ہے، مگر ان کے خلاف مذکورہ بالا مقدمات کی کارروائی ابھی ادھوری پڑی ہوئی ہے ،اگر کوئی شخص یہاں قانون سے بالا تر نہیں تو پھر پرویز مشرف کو بھی جلد یہاں لایا جائے۔ چند روز قبل سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی گرفتاری کے لئے ریڈ وارنٹ جاری ہونے کی خبر دیکھنے میں آئی تو پھر ایسا وارنٹ پرویز مشرف کے خلاف بھی جاری کر کے انہیں پاکستان لا کر متعلقہ عدالتوں میں پیش کر کے اور مقدمات کی سماعت مکمل کر کے حتمی فیصلے کرائے جائیں تاکہ آئین، قانون اور انصاف کے اصولوں پر عمل کرنے سے ملکی عزت و احترام میں اضافہ ہو۔

مزید : رائے /کالم