تحریک پاکستان،محمد شفیع ملک اور یادِ ایام

تحریک پاکستان،محمد شفیع ملک اور یادِ ایام
تحریک پاکستان،محمد شفیع ملک اور یادِ ایام

  

اگست کا مہینہ آتے ہی تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کی یادوں اور باتوں کی خوشبو ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ میڈیا کی مہربانی سے بچوں میں بھی یوم پاکستان کو یادگار انداز میں منانے کا جوش و خروش بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان میں شاعر مشرق علامہ اقبالؒ اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ ان لاکھوں آزادی کے پروانوں کی یادیں بھی تازہ ہو جاتی ہیں، جنہوں نے دامے، درمے اور سخنے اپنا اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا۔ لاکھوں خاندانوں کو ہر قسم کی قربانیاں دینا پڑیں، تاریخ میں ایسے واقعات کم ہی کسی آزادی کی تحریک میں ہوئے ہوں گے، جیسے قیام پاکستان کے وقت سامنے آئے۔ ہجرت کے اس سفر میں خالی ہاتھ آنے والے لٹے پٹے قافلوں نے صرف اللہ کے نام پر بننے والی سرزمین پر نئے سرے سے تعمیر و ترقی کا سفر شروع کیا اور نامساعد حالات اور بے شمار رکاوٹوں کے باوجود ہندوؤں کے اس نظریے کو غلط ثابت کرکے دکھا دیا کہ بے وسائل پاکستان زیادہ عرصے تک اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے قابل نہیں رہے گا اور بالآخر پھر انڈیا کے ساتھ آملے گا۔۔۔ لیکن قائد اعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت اور آزاد ملک کی برکت سے یقین محکم، عمل پیہم سے پاکستان کو ایک خودمختار اور باوقار ملک بنانے کا عمل کامیابی سے شروع ہوا، جس کی وجہ سے اس وقت اقوام عالم میں پاکستان ایک الگ مقام رکھتا ہے۔

مضبوط اور مستحکم پاکستان بنانے میں محمد شفیع ملک جیسے لاکھوں عام پاکستانیوں نے صبح شام محنت کرکے لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار دیا اور ثابت کردیا کہ اگر پاکستان نہ بنتا تو آج آزاد پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں کی حالت وہی ہونی تھی، جو اس وقت انڈیا میں رہنے والے مسلمانوں کی ہے۔محمد شفیع ملک نے اپنی خود نوشت ’’یادِ ایام‘‘ کے نام سے لکھی ہے، جس کے تیرہ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعہ سے جہاں ایک فیملی کی جدوجہد سامنے آتی ہے وہاں دوسری طرف تحریک پاکستان کی کامیابی کے بعد ایک خوبصورت تصویر بھی نظر آتی ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کیوں ناگزیر تھا؟ بہت کم افراد کو معلوم ہوگا کہ محمد علی جناحؒ کو قائد اعظمؒ کا لقب کس نے دیا؟ اس ضمن میں یہ بتانا ضروری ہے کہ ملک محمد شفیع کے ہم زلف میاں فیروز الدین کا یہ کارنامہ ہے، جس کا بہت دلچسپ تذکرہ ’’یادِ ایام‘‘ میں ملتا ہے، جہاں قائد اعظمؒ سے بالمثافہ اتفاقیہ ملاقات بھی ہوئی ہے،انہوں نے لکھا میری ملازمت ان دنوں شملہ میں تھی اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ ان دنوں ایک کانفرنس کے سلسلے میں شملہ آئے ہوئے تھے۔ ان دنوں ہاتھ سے رکشے کھینچے جاتے تھے، بارش ہوئی تھی۔ قائد اعظمؒ ایک رکشے میں جارہے تھے اور میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑا قائد اعظمؒ کا استقبال کرتے ہوئے انہیں ہاتھ ہلا کر خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ اتفاقاً رکشا کھینچنے والے کا پاؤں پھیلا تو میں بے اختیار آگے بڑھا، تاکہ رکشا الٹ نہ جائے، لیکن خیریت گزری کہ کچھ نہیں ہوا، لیکن قائد اعظمؒ رک گئے اور مسکراتے ہوئے سب کا شکریہ ادا کیا ‘‘۔

’’ قائد اعظمؒ نے مجھ سے پوچھا کہ میں کہاں کا رہنے والا ہوں تو میں نے کہا لاہور کا اور میاں فیروزالدین کا ہم زلف ہوں، جنہوں نے آپ کے لئے قائد اعظمؒ کا لقب تجویز کیا تو قائد اعظمؒ مسکرائے اور مجھے کہا کہ آپ مسلم لیگ کی میٹنگوں میں شریک ہوا کریں۔ اس اتفاقی ملاقات نے میرے اندر ایک نیا جوش و خروش پیدا کردیا۔ اس زمانے میں قائد اعظمؒ نے ایک انگریز اخبار نویس کو دو قومی نظریہ پر ایک یادگار انٹرویو دیا تھا، جس میں انگریز صحافی نے پوچھا تھا کہ دو قومی نظریہ کیا ہے اور آپ ہندوستان سے علیحدگی کیوں چاہتے ہیں؟ تو قائد اعظمؒ نے کہا تھا: ’’ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان ثقافت، سیاست اور عبادات سمیت ہر بات میں فرق ہے۔ پھر مثال دیتے ہوئے کہا، ہندو گائے کی پوجا کرتے ہیں اور اسے ’’گاؤ ماتا‘‘ کہتے ہیں، جبکہ مسلمان گائے کو حلال کرکے کھا جاتے ہیں، اس لئے ہم ہندوؤں کے ساتھ زندگی بسر نہیں کرسکتے‘‘۔۔۔دلچسپ بات ہے کہ اس زمانے میں اس مثال کی اپنی اہمیت تھی، لیکن اب اس مثال کی حیثیت پوری دنیا کی سمجھ میں آگئی ہے۔ جب انڈیا میں مسلمانوں کو صرف اس بات پر قتل کردیا جاتا ہے کہ ہمیں شک ہے کہ تم نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔ اب اس شک کا شکم تو کوئی نہیں بھرسکتا۔ صاف ظاہر ہے کہ اس سوچ کے نتیجے میں مسلمانوں میں ردِ عمل پیدا ہوگا اور اگر کوئی قائد اعظمؒ جیسا لیڈر پھرمل گیا تو ہندوستان میں ایک نیا پاکستان قائم ہو جائے گا۔

محمد شفیع ملک نے زندگی میں ستارۂ امتیاز لے کر جناح گولڈ میڈل، تحریک پاکستان گولڈ میڈل، ڈاکٹر عبدالقدیر گولڈمیڈل اور گرینڈ پری ٹرافی 86(سپین) کے علاوہ بھی بہت سے اعزازات حاصل کئے، لیکن سب سے بڑا کارنامہ ممتاز بختاور میموریل ہسپتال کا قیام ہے، جہاں غریبوں کا علاج فری کیا جاتا ہے۔ اس ہسپتال کا نام دو شخصیتوں کے ناموں پررکھا گیا ہے، بختاور کا نام اپنی والدہ سے لیا، جن کا اصلی نام محترمہ عائشہ بیگم تھا اور ممتاز میاں شفیع کی اہلیہ کا نام تھا، جنہوں نے گارڈ انڈسٹری کے قیام میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

ملکہ ترنم نور جہاں کی بہت خواہش تھی کہ قصور میں ایک ہسپتال تعمیر کیا جائے، لیکن وقت نہ ملا، ایک بار محمد شفیع ملک نے وعدہ یاد دلایا تو آٹھ لاکھ روپے دے کر کہا کہ اپنے ہسپتال میں ایک وارڈ میرے نام کا بنا دیں، چنانچہ پچیس لاکھ کی لاگت سے آنکھوں کا وارڈ بناکر اسے ’’عطیہ ملکہ ترنم نور جہاں ‘‘کا نام دیا گیا۔ اپنے بڑے بیٹے افتخار علی ملک پر خصوصی توجہ دی اور جرمنی سے اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ پھر بزنس کمیونٹی کی خدمت کے لئے خصوصی تربیت دے کر پہلا الیکشن پاسپیڈا کا لڑایا، جس میں مخالف پارٹی نے صرف پچیس ووٹ حاصل کئے، اس کے بعد مکمل حوصلہ افزائی کی اور باقی افتخار علی ملک کی اپنی جدوجہد اور کوششیں ہیں، جس کی وجہ سے آج وہ دنیا بھر میں اپنی ایک الگ شہرت رکھتے ہیں اور بزنس کمیونٹی کے لیڈر کے طور پر پاکستان اور بیرونِ پاکستان ہر کوئی عزت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس مقبولیت کا راز صرف یہ ہے کہ انہوں نے ہمیشہ بے لوث بزنس کمیونٹی کی خدمت کی ہے اور ہمہ وقت خدمت اور مسائل حل کروانے کے لئے سرگرم رہتے ہیں۔ افتخار ملک کو دیکھ کر محمد شفیع ملک ایک ہی شعر پڑھا کرتے تھے:

سبق پھر پڑھ صدافت کا،عدالت کا، شجاعت کا

مزید : رائے /کالم