مسلم لیگ(ن) اور ناکامی کی وجوہ

مسلم لیگ(ن) اور ناکامی کی وجوہ
مسلم لیگ(ن) اور ناکامی کی وجوہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

2013ء کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے خیرہ کن کامیابی حاصل کی۔ٹیم سیلیکٹ ہوئی تو پرویز رشید صاحب کو وزارت اطلاعات کا قلمدان سونپا گیا۔ ناچیزکی پرانی شناسائی تھی،ایک روز فون آیا اور اسلام آباد آنے کی دعوت دی۔منسٹر آفس میں آدھا گھنٹہ ملاقات ہوئی۔ چند صفحات پر مشتمل مستقبل کا سیاسی خاکہ ان کے سامنے رکھا۔ وہ دھیان سے پڑھتے رہے۔ متن کا لب لباب بنیادی تبدیلیوں کا آغاز،پولیس، جیل خانہ جات، عدالتی ریفارمز، سرکاری ٹیلی وژن سمیت دیگر اداروں کی مکمل خودمختاری اور جواب دہی کا میکنزم تھا۔ بعدازاں بھی وہ کئی دفعہ رابطے میں رہے، لیکن تبدیلیوں کی شروعات نظر نہ آسکیں۔آج جبکہ عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) شکست سے دوچار ہوچکی، وہیں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے ایسی کیا وجوہ تھیں جن کی بناء پر قوت کے مراکز سے محروم ہونا پڑا۔ کیا اس شکست کی وجہ حد سے بڑھی ہوئی خودمختاری، سیاسی قوت کا زعم یا عوامی خواہشات کی نبض شناسی میں کوتاہی تھی؟ بے پناہ عوامی طاقت، پنجاب بھر کے گلی محلوں، یونین کونسلوں میں جال کی مانند پھیلا تنظیمی نیٹ ورک، الیکٹ ایبلز کی لمبی قطار، پانامہ کے بطن سے پھوٹتی عدالتی جنگ اور المیاتی ہیرو کی مانند جیل کی سلاخیں۔۔۔لیکن فتح پھر بھی میسر نہ آ سکی۔ عام شخص مسلم لیگ (ن)سے کیوں متنفر ہوا،مسلم لیگی قائدین نے انتخابی مہم کے دوران عام شہریوں کی بجائے اپنے ووٹروں کو ہی کیوں بار بار مخاطب کیا، جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کا نعرہ کیوں نہ متعارف کروایا، دوسری بنیادی غلطی آزادی کے اس تصور کو نہ بھانپنا تھا جس کی دستک دنیا کے ہر سماج کا دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی۔ آزاد ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا کی صورت میں یہ دستک پاکستان کے گلی کوچوں میں بھی سنائی دی اور پاکستانی عوام نے حیران کن طور پر بہت ہی قلیل عرصے میں نہ صرف دل و دماغ کو کھولا، بلکہ طرز فکر میں بھی تبدیلیاں کیں۔ بحیثیت ریاست یہ بڑی شاندار فتح تھی۔

انسانی شعوری ارتقاء یا ایولیوشن کے صدیوں پر محیط ،کیڑی کی سی رفتار سے بدلاؤ کے عمل کو، پاکستانی عوام نے بائی پاس کیا اور غالب اکثریت مثبت تبدیلیوں کی خاطر ان نعروں کی طرف متوجہ ہوئی جو عمران خان بلند کر رہے تھے۔ یہیں یہ سوال ابھرتا ہے کہ مسلم لیگ (ن)کی ٹاپ لیڈر شپ ارتقائی بدلاؤ کی اس سماجی خواہش کو کیونکر نہ بھانپ سکی؟ وزرائے کرام، مشیران اور تھنک ٹینک ماہرین نے کن بھول بھلیوں میں اقتدار کے لمحات کو گنوا دیا؟ آخر کیونکر اداروں کی آزادی اور جوابدہی کا میکنزم متعارف نہ کروا کر عوامی تنقید کی لہر کو اداروں کے سربراہوں کی طرف نہ موڑا گیا؟ میاں محمد نواز شریف کی حکومت یہ کام بہت بہتر طریقے سے سر انجام دے سکتی تھی۔ ایسا پروگرام بن بھی چکا تھا، لیکن قوم کے سامنے ان افراد کے نام آنے چاہئیں جنہوں نے کہا اگر پولیس، ڈی ایم جی ، نیب، ایف آئی اے، سی بی آر سمیت کلیدی محکمے آزاد کر دیئے گئے تو حلقوں میں سیاسی اثرو رسوخ ماند پڑ جائے گا۔وہ اثرو رسوخ تو آج بھی ماند پڑ گیا؟اگر میاں محمد نواز شریف ادارے آزاد کر جاتے تو عمران خان کی زنبیل میں بیچنے کو کچھ نہ بچتا۔ موجودہ انتخابات جیتنے سے قبل عمران خان فقط خواب بیچ رہے تھے، جبکہ میاں محمد نوازشریف کی ہتھیلی میں حقیقی تعبیر کی ریکھائیں موجود تھیں۔ ان ریکھاؤں میں منحوسیت کی خراشیں لگانے والے وہ افراد تھے جنہوں نے جھوٹے سچے اعدادوشمار بتا کر میاں محمد نواز شریف کی بنیادی پالیسیوں کو ڈی ٹریک کیا۔ میاں صاحب نے حکومت سنبھالی تو یہی خراشیں لگانے والے سائے کی مانند ساتھ چمٹ گئے۔ ایسا ہی ایک سایہ پاکستان ٹیلی وژن کا ’’مالک‘‘ بن گیا۔

خواب اس نے یہ دکھایا کہ وہ پی ٹی وی کو بی بی سی کی طرز پر ڈھال دے گا۔ ابتدائی اڑھائی سال اس نے جی بھر کر فوائد اٹھائے ، رمضان المبارک کی ٹرانسمیشن کے لئے ایک کروڑ روپے کا سیٹ من پسند شخص کو نوازا اور جاتی دفعہ سیٹ بھی دان کر دیا، اپنے نجی کاروبار کے لئے سرکاری ملازمین کو استعمال کیا، ہیڈ آفس کے شعبہ نیوز پر عرصہ دراز سے کپکپاتے ہاتھوں ، پیلے دانتوں والے اس شخص کو مزید ایکسٹینشن دے ڈالی ۔

وقت گزر گیا، بی بی سی جیسی تبدیلی کا دعوے دار کنٹریکٹ پورا کرکے سائیڈ پر ہوگیا اور آج نجی چینل پر بحیثیت اینکر میاں صاحبان کی کارکردگی پر ٹھٹھے لگا رہا ہوتا ہے۔ تو کیا کلیدی عہدوں پر نااہل افراد کی تعیناتی موجودہ زوال کی وجوہات میں سے ایک نہیں تھی؟ اگر ادارے آزاد کر دیئے جاتے تو حکومت پر لوٹ مار کا الزام کبھی نہ لگتا، اگر ڈیپارٹمنٹل جوابدہی کا نیا سسٹم متعارف کروادیا جاتا تو لوگوں نے حاکموں کی بجائے سرکاری افسروں سے وضاحت طلب کرنا تھی۔الٹااداروں کو ڈیفنڈ کرنے کا نقصان یہ ہوا کہ عمران خان نے رائے عامہ میں یہ بات عام کروادی کہ مسلم لیگ نے اداروں کے ذریعے سماج کو یرغمال بنایا ہوا ہے۔ رہی سہی کسر اس سیکنڈ کلاس لیڈر شپ نے نکال دی جس نے عمران خان کی اینٹ کا جواب پتھر سے دینا شروع کر دیا۔ جماعت وہ جس کا سلسلہ قائداعظمؒ سے جا ملتا ہو اور ترجمان ایسے جنہیں سن کر اظہار افسوس ہی کیا جا سکتا ہو۔یہ سارے صاحبان تو آج گھروں کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہیں اور قیادت پابند سلاسل۔

اگر جوشیلے بیانات کی بجائے کسی ٹھوس لائحہ عمل کی داغ بیل ہی ڈال دی جاتی تو لوگوں نے امید لگا کر بیٹھ جانا تھا، وہی اُمید جو اب لوگ عمران خان سے لگائے بیٹھے ہیں۔ عمران خان نے نبض شناسی میں تو مہارت دکھائی، لیکن اب انہیں عملی اقدامات کی ضرورت ہوگی۔ مزاج ان کا ڈو اینڈ ڈائی والا ہے، مودی، ٹرمپ جیسے سنکی کے بعد پاکستان کو بھی ایسا شخص میسر آچکا ہے جو غیر معمولی اقدامات کر سکتا ہے۔ وہ خود بھی کہہ چکا ہے، اگر ایسا نہ کیا تو حشر ایم ایم اے اور اے این پی جیسا ہوگا۔

مزید : رائے /کالم