عمران خان اقتدار کی اڑان بھرنے کے لئے تیار

عمران خان اقتدار کی اڑان بھرنے کے لئے تیار
عمران خان اقتدار کی اڑان بھرنے کے لئے تیار

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جس طرح رن وے پر کھڑے جہاز کے پر گھومنے لگیں، انجن چل پڑے، سیڑھی ہٹ جائے، دروازے بند ہو جائیں تو یقین ہو جاتا ہے کہ اب جہاز اُڑان بھرنے لگا ہے، اسی طرح عمران خان بھی اقتدار کی اڑان بھرنے کے لئے بالکل تیار ہو چکے ہیں۔اسمبلیوں کے اجلاس بُلا لئے گئے ہیں، حلف اٹھانے کے لئے ممبرانِ اسمبلی کو بُلا لیا گیا ہے، اگلے مراحل بھی شیڈول کے مطابق طے ہو جائیں گے اور پھر عمران خان کے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے کا مرحلہ آ جائے گا۔ پہلے بھی انتقالِ اقتدار ہوتا رہا ہے،مگر ایسا انتظار تو کبھی دیکھنے میں نہیں آیا، جیسا قوم عمران خان کے وزیراعظم بننے کا کر رہی ہے۔ مخالفین تو نہیں مانتے،لیکن یہ حقیقت ہے کہ عمران خان کا انتظار امید اور بھرپور توقعات سے کیا جا رہا ہے،حتیٰ کہ اب اپوزیشن بھی یہ کہنے لگی ہے کہ دیکھتے ہیں عمران خان اپنے وعدے کیسے پورے کرتے ہیں؟ گویا اُس کی نظریں بھی عمران خان کی پرفارمنس پر لگی ہوئی ہیں۔یوں تو اپوزیشن نے ہر آئینی عہدے کے لئے مشترکہ امیدوار لانے کی بہت باتیں کی ہیں تاہم یہ بات ڈھکی چھپی نہیں کہ یہ سب گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے والی باتیں ہیں۔

بے دلی سے کئے گئے فیصلے صاف نظر آ جاتے ہیں، کوئی بعید نہیں کہ جس روز وزیراعظم کا انتخاب ہو بلاول بھٹو زرداری اسمبلی میں ہی نہ جائیں تاکہ اُن پر جو شدید تنقید ہو رہی ہے کہ وہ ایسے شخص کو ووٹ دیں گے، جس نے اُن کے والد کو سڑکوں پر گھسیٹنے کی باتیں کیں اور اس جماعت کے صدر کو اپنا وزیراعظم مانیں گے، جس نے1988ء کی الیکشن مہم میں کردار کشی کے لئے گھٹیا حربے استعمال کئے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عین موقع پر پیپلزپارٹی کے کچھ اور ارکان بھی اسمبلی سے غائب ہو جائیں یا آئیں ہی ناں،یوں شہباز شریف وزارتِ عظمیٰ کے مقابلے میں بُری طرح شکست کھا جائیں۔ ہوتا تو یہ رہا ہے کہ جب ہارنے کے واضح امکانات ہوں تو بڑی قیادت انتخاب میں حصہ نہیں لیتی اور دوسرے درجے ہی سے کسی کو وزیراعظم کے لئے نامزد کر دیتی ہے،مگر یہاں شہباز شریف کو نامزد کیا گیا ہے، نہ جانے کیوں وہ خود پر ہارے ہوئے امیدوار کا ٹھپہ لگوانا چاہتے ہیں؟

تحریک انصاف نے جس تیزی اور مہارت سے مرکز اور صوبے میں اپنے نمبرز پورے کئے ہیں، وہ حیران کن ہے۔اس کی بڑی وجہ ہے کہ عمران خان کا وزیراعظم بننا25جولائی کے نتائج آتے ہی یقینی ہو گیا تھا،جو لوگ دھاندلی کا رونا رو رہے ہیں وہ کیوں نہیں دیکھتے کہ مُلک میں وزارتِ عظمیٰ پر عمران خان کو دیکھنے کی ایک لہر موجود تھی، جتنے بھی آزاد ارکان تحریک انصاف میں شامل ہوئے، وہ اسی امید کے سہارے آئے کہ تحریک انصاف کے سوا وفاق اور صوبے میں کسی اور نے حکومت نہیں بنانی۔ عوامی لہر اتنی واضح تھی کہ آزاد ارکان یہ سوچ کر تحریک انصاف کی طرف کھنچے چلے آئے کہ مرکز اور صوبے میں انہیں دو حکومتیں بنتی نظر آ رہی تھیں۔ مسلم لیگ(ن) میں شامل ہونے کا مطلب یہ تھا کہ وہ پنجاب حکومت بننے کا رسک لیں، جبکہ تحریک انصاف میں شامل ہو کر انہیں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا حصہ بننے کا پختہ یقین تھا، سو عمران خان کو25 جولائی کے انتخابات نے وزیراعظم بنا دیا تھا، جو سیانے عالمی لیڈر تھے انہوں نے اِسی لئے دوسرے ہی دن انہیں مبارکباد دینا شروع کر دی، مگر بعض میڈیا چینلز اور اُن کے اینکرز طرح طرح کے شوشے چھوڑ کر یہاں تک کہہ رہے تھے کہ عمران خان کی جگہ پارٹی کو کسی دوسرے رہنما کو پارلیمانی لیڈر بنانا پڑے گا، تب انتقالِ اقتدار کی راہ ہموار ہو گی۔عمران خان جس دن وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھائیں گے،پوری دُنیا کا میڈیا اسے ہیڈ لائن کے طور پر نشر کرے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان ایک عالمی شہرت یافتہ شخصیت ہیں۔ جب ان کی جمائمہ سے شادی ہوئی تھی تو دُنیا کے میڈیا نے اسے وہی کوریج دی تھی جو برطانیہ کے شاہی خاندان کی شادیوں کو دی جاتی ہے۔

اُس زمانے میں وہ بہت بڑی بریکنگ نیوز تھی، جس طرح ہمارے ہاں ویوین رچرڈ، کلائیو لائیڈ، للی، تھامسن، چیپل، گواسکر ،کالی چرن اور ڈیوڈ بون کرکٹ ہیروز کے طور پر آج بھی جانے جاتے ہیں، اُسی طرح عمران خان کا نام بھی ایک کرکٹر کی حیثیت سے دُنیا کے ہر کونے میں جانا جاتا ہے۔ دُنیا کے لئے بڑی خبر یہ ہے کہ ماضی کا عظیم کرکٹر دُنیا کی ساتویں بڑی ریاست کا وزیراعظم بننے جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ انسان کی فیس ویلیو ہو تو وہ آدھی فتح ویسے ہی حاصل کر لیتا ہے۔ یہ شائد دُنیا کی تاریخ میں پہلا موقع ہو کہ ایک کھلاڑی سیاست میں آیا اور اس کے بعد اس نے مُلک کا سب سے بڑا منصب حاصل کر لیا۔

مجھے جس بات کی وجہ سے یقین ہے کہ عمران خان ضرور کچھ کر جائے گا، وہ یہی اس کا ہیرو پن ہے۔ وہ ایک پیدائشی ہیرو ہے، وہ وزیراعظم بن رہا ہے تو یہ کہا جا رہا ہے کہ دُنیائے کرکٹ کا عظیم کھلاڑی وزیراعظم بن گیا۔ گویا وہ پہلے بھی بہت کچھ تھا اور اب وزیراعظم بن کر مزید چمکنے لگے گا۔ وزیراعظم کی حیثیت سے عمران خان کے ذہن میں صرف یہی بات ہی کچوکے نہیں لگائے گی کہ انہوں نے عوام سے نئے پاکستان کا وعدہ کر رکھا ہے، وہ روائتی طرزِ حکمرانی پر نہیں چل سکتے،بلکہ انہیں یہ خیال بھی ہمیشہ ستائے گا کہ وہ ایک ہیرو ہیں، انہوں نے زندگی میں بہت نام کمایا ہے۔ کبھی شکست کو حاوی نہیں ہونے دیا۔ اب اگر وہ مُلک کا وزیراعظم بن کر شکست کھا گئے، عوام کے لئے کچھ نہ کر سکے، وعدے پورے نہ کئے تو عمر بھر کی کمائی داؤ پر لگ جائے گی، وہ جان لڑا دیں گے، اسی طرح جیسے میچ کھیلتے ہوئے لڑا دیا کرتے تھے۔ میری اس رجائیت کا بڑا سبب یہ ہے کہ عمران خان کے اندر ایک فائٹر موجود ہے۔

یہ فائٹر جب کھیل کے میدان میں تھا تو آخری بال تک میچ جیتنے کی تگ و دو کرنا نظر آیا۔ اب سیاست دان بنا ہے تو سیاست کی بازی پلٹ دی ہے،آگے اسے حکومت کرنی ہے۔ میچ جیتنے کے لئے بھی کپتان کو بہت سے داؤ پیچ آزمانے پڑے ہیں۔ فیلڈرز کی تبدیلی، باؤلرز کا وکٹ اور بیٹسمین کے مطابق استعمال، اچھی بیٹنگ، بوقتِ ضرورت بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی، مخالف ٹیم پر غالب آنے کے لئے نفسیاتی حربوں کا استعمال، عمران خان کی زندگی مشکل حالات میں میچ کھیلنے کے تجربات سے بھری پڑی ہے، یہ چیزحکومت کرتے ہوئے بھی ان کے کام آئے گی۔ چیلنج بہت بڑا ہے۔ آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے، جس محکمے کو دیکھو وہ استحصال کی بدترین علامت بن گیا ہے، مُلک بھر میں چھوٹی چھوٹی مملکتیں قائم ہو گئی ہیں، جہاں مافیاز کا سکہ چلتا ہے۔ ان مافیاز کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ حکومتوں کو پلٹا دیتے ہیں، لیکن میرا دِل کہتا ہے کہ اِس بار یہ مافیاز ہار جائیں گے۔ اُن کا واسطہ ایک ایسے شخص سے پڑ گیا ہے جو نہ کک بیکس پر یقین رکھتا ہے اور نہ ہی اسے بیرون مُلک جائیدادیں بنانے کا عارضہ لاحق ہے، وہ جرات مندانہ فیصلے کرنے کی صلاحیت سے مالامال ہے، جسے ارتکازِ اختیارات کا کوئی شوق نہیں، جو صرف یہ چاہتا ہے کہ ہر کوئی اپنا کام کرکے عوام کے مسائل حل کرے۔

کہا جاتا ہے کہ عمران خان جب پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے تو ٹیم کے ایک ایک کھلاڑی پر نظر رکھتے تھے۔ اس کی سرگرمیاں، دن رات کے معاملات اور کرکٹ میں پرفارمنس پر گہری نظر ہوتی تھی۔ یہ کام انہیں اب بھی کرنا ہو گا اور اپنی عادت سے مجبور ہو کر وہ ضرور کریں گے۔ انہیں صرف اپنی وفاقی حکومت کے وزراء پر ہی نظر نہیں رکھنی، بلکہ صوبوں کے چیف منسٹرز اور وزراء کو بھی شیر کی نگاہ سے دیکھنا ہے۔ انہوں نے تو کہہ بھی دیا ہے کہ تحریک انصاف کی اصل جنگ پنجاب میں لڑی جائے گی، جہاں استحصال کی بدترین شکلیں موجود ہیں،جہاں تبدیلی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اگر پنجاب کو بہتر کر لیا تو سمجھو کپتان کو فتح حاصل ہو گئی۔ یہ کپتان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں مرکز کے ساتھ ساتھ پنجاب کی حکمرانی بھی مل گئی ہے،اب کوئی عذر باقی نہیں رہا کہ جسے تبدیلی نہ آنے کا جواز بنایا جا سکے۔ پنجاب میں گزشتہ دس برسوں کے درمیان جو طرزِ حکمرانی رہا ہے، اسے کسی بھی طرح مثالی نہیں کہا جا سکتا۔

سب سے بنیادی تبدیلی تو یہ آنی چاہئے کہ صوبے کے چاروں اطراف ترقی کے ثمرات پہنچائے جائیں۔ شہباز شریف کی اصل ناکامی یہ ہے کہ انہوں نے پنجاب کو نظر انداز کیا اور صرف لاہور پر توجہ دی۔ جنوبی پنجاب میں خاص طور پر ان کی اس پالیسی کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) بُری طرح پٹ گئی۔ تحریک انصاف کی حکومت میں این ایف سی ایوارڈ سے ملنے والے حصے سے اگر پنجاب کو آبادی کے لحاظ سے فنڈز دیئے گئے تو ترقی کے ثمرات پورے صوبے تک پہنچ جائیں گے اور یہ گزشتہ حکومت کے برعکس ایک بڑا انقلابی قدم ہو گا۔باتیں تو اور بھی بہت ہیں، وہ کسی اور وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں، تاہم ایک بات یقینی ہے کہ عمران خان ایک ہفتے کے اندر وزیراعظم بننے جا رہے ہیں اور یہ بات بھی یقینی ہے کہ وہ پاکستان میں ایک نئی طرزِ حکمرانی کو متعارف کرانے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔

مزید : رائے /کالم