چینی ماڈل کیا ہے؟

چینی ماڈل کیا ہے؟
چینی ماڈل کیا ہے؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

عمران خان اپنی انتخابی تقریروں میں کئی بار ’’چینی ما ڈل‘‘ کا ذکر کرچکے ہیں۔ انتخابات میں کامیا بی کے بعدعمران خان نے قوم سے خطاب کے دوران بھی غربت کے خاتمے کے لئے ’’چینی ماڈل‘‘ کا ذکر کیا۔ صرف عمران خان ہی نہیں، بلکہ بھارتی وزیر اعظم مودی اور ترکی کے صدر طیب اردوان بھی غربت ختم کرنے کے لئے اس’’چینی ماڈل‘‘ کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ ’’چینی ماڈل‘‘ کا ذکر دنیا کے مختلف ممالک کے حکمران ہی نہیں کر رہے، بلکہ اب تو ’’چینی ماڈل‘‘ پر مغرب میں بھی علمی اور فکری تحقیق شروع ہوگئی ہے۔ اس کا ایک ثبوت ہمیں۔۔۔The Fourth Revolution ۔۔۔نام کی کتاب سے بھی ملتا ہے۔ برطانوی جریدے دی اکانومسٹ کے دوانتہائی معروف صحافیوں جان میکلیتھ ویٹ اور ایڈریان ولڈریج کی جانب سے 2014ء میں کتاب’’The Fourth Revolution ‘‘ کے نام سے منظر عام پر آئی جس میں ثابت کیا گیا کہ موجودہ دور میں مغربی ریاستیں استعداد کا ر پر مبنی گورننس فراہم کرنے میں نا کام ہوتی جا رہی ہیں۔ بجٹ خساروں اور جمہوریت کے نام پر اپنے حامیوں کو ریاستی ذرائع سے نواز نے جیسے عوامل مغربی ریاستوں کی اہلیت کو بُری طرح سے متاثر کرنا شروع ہوگئے ہیں، اس کتاب میں اس تاثر کی مکمل طور پر نفی کر دی گئی ہے کہ ا ب مستقبل قریب میں بھی مغربی سیاسی نظریات ہی ریاستوں اور حکومتوں کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں گئے، کیونکہ اب خود مشرق میں بھی ایسے سیاسی ماڈلز ابھر رہے ہیں جو نہ صرف مغربی جمہوریت سے مختلف ہیں، بلکہ ان ایشیائی ماڈلز کی استعدادکار پر مبنی حکومتی نظاموں سے مغرب کو بھی بہت کچھ سیکھنا پڑے گا۔ ’’The Fourth

Revolution‘‘کتاب کے مطابق اس وقت چین میں جس طرح لیڈر شپ اور سول بیورکریسی کو تربیت فراہم کی جاتی ہے، اس کی کوئی مثال اس وقت مغرب کے کسی بڑے ملک میں موجود نہیں۔ استعداد کار پر مبنی حکومت کے حوالے سے چین وہ سب کچھ تیزی سے حاصل کر رہا ہے جس کو حاصل کرنے میں مغرب کو کئی صدیاں لگی ہیں۔ کتاب کے مصنفین کے مطابق چین کی حیران کن ترقی کی بڑی وجوہات میں ریاستی ہدایات کے مطابق کی جانے ولی سرمایہ کاری اور انفراسٹرکچر کی ترقی ہے۔ چین کا ابھار اور اس کی سماجی ترقی ہی وہ بڑے عوامل ہیں جو ’’چینی ماڈل‘‘ میں کشش پیدا کر رہے ہیں۔ چین میں لیڈر شپ کو باقاعدہ تربیت دینے کے بعد حکومت کرنے کا ایسا طویل عرصہ دیا جاتا ہے جس میں سیاسی عدم استحکام کی گنجائش انتہائی کم ہوتی ہے۔ یوں چین کی لیڈر شپ معاشی اور سماجی ترقی کے اہداف حاصل کر نے پر ہی اپنی توجہ مرکوز رکھتی ہے۔

یہاں پر یہ بنیادی سوال ابھرتا ہے کہ آخر چین کی ترقی کے پیچھے حقیقی وجوہات کیا ہیں۔ چین میں ماوزے تنگ کی قیادت میں کئی سالوں پر محیط لانگ مارچ کے نتیجے میں 1949ء میں انقلاب برپا کیا گیا، اس انقلاب نے جاگیرداری نظام کو مکمل طور پر ختم کردیا۔ صنعتی اداروں کو ریاستی تحویل میں لے لیا گیا، 1949ء سے 1978ء تک چینی معیشت کی اوسط شرح نمو 9.2 فیصد رہی، جو دنیا میں سرفہرست تھی۔ معیشت میں ترقی کے ساتھ ساتھ بیوروکریٹک گرفت بھی مضبوط ہونے لگی ایسے میں حکمران کمیونسٹ پارٹی کے اندر ایک دھڑے نے منڈی کھولنے اور معیشت کو آزادکرنے کی حمایت کرنا شروع کر دی۔’’ڈینگ ژاوئپنگ‘‘ اس دھڑے کی نمائندگی کر رہا تھا۔ ما وزے تنگ اور چو این لائی نے ڈینگ ژاوئپنگ کے اس دھڑے کو کامیاب نہیں ہونے دیا اور معیشت پر ریاست کی گرفت کو مضبوط رکھا، تاہم ماو اور چو این لائی کی وفات کے بعد 1978ء میں ’’ڈینگ ژاوئپنگ‘‘ کا دھڑا اقتدار میں آگیا اور معیشت پر سے ریاست کی شدیدگرفت کو کم کیا جانے لگا۔ یوں چین میں آج حکمران کمیونسٹ پارٹی کی شدید سیاسی گرفت کے ساتھ منڈی کی معیشت اپنے تقاضوں کے ساتھ چل رہی ہے۔ پورے ملک میں کمیونسٹ پارٹی کی آمریت اور اس کے تحت چلنے والی آزاد منڈی کی معیشت ’’چینی ما ڈل‘‘ کی اہم خصوصیات ہیں۔

اب ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں 1947ء سے کیا صورت حال رہی۔ 1947ء میں آزادی کے وقت موجودہ پاکستان کا 59 فیصد علاقہ براہ راست جاگیرداری نظام کے زیر نگیں تھا اور چونکہ ان علاقوں میں مسلم لیگ کے بہت سے اراکین کا تعلق ماضی میں یونینسٹ پارٹی سے رہا تھا، جو سراسر جاگیرداروں کے مفادات کی نگھبان جماعت تھی اس لئے قیام پاکستان کے بعد اس نظام کو ختم کرنے کی کوئی عملی کوشش نہیں کی گئی، جاگیردار سیاستدانوں کی اکثریت کسی بھی طرح کے سیاسی اصول یا نظریہ سے بالاتر ہوکر ہر حکمران کے ہاتھ پر بیعت کرتی رہی، چاہے وہ فوجی حکمران ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں کسی بھی فوجی حکمران نے شعوری طور پر سرمایہ داری نظام لانے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اپنی حکمرانی کے لئے جاگیرداروں پر ہی انحصار کیا، اگر 1959ء میں ملک میں عام انتخابات ہو جاتے تو ممکن تھا کہ اس کے نتیجہ میں وجود میں آنے والی حکومت سرمایہ داری انقلاب کی راہ ہموار کرتی، لیکن اس سے پہلے ہی مارشل لاء نافذ کر دیا گیا، 1965ء کے انتخابات میں بھی جاگیرداروں کی واضح اکثریت نے ایوبی آمریت کی چھتری تلے پناہ لی۔ جنرل ضیاء کا دور تو اس حوالے سے یادگار رہے گا کہ انہوں نے جاگیر داری نظام کو بھی ایک طرح سے’’اسلامک‘‘بنا دیا اور 1981ء میں شریعت کورٹ نے فیصلہ دیا کہ ’’جاگیرداری خدا کی عطا کر دہ ہے کسی حکمران کے شایان شان نہیں کہ وہ خدائی کام میں مداخلت کرے‘‘۔

اس لئے زمین کے اصلاحات 1977ء کے قانون کو کا لعدم قرار دے دیا گیا۔ 12 اکتوبر 1999ء کو جنرل مشرف کی آمد کے بعد کئی سادہ لوح دانشوروں نے جاگیرداری نظام کے خاتمے کا مطالبہ کیا یہ وہ دانشور تھے جو اس حقیقت سے ناواقف تھے کہ اسی نظام کے باعث فوجی آمروں کو منتخب حکومتوں پر شب خون مارنے کا موقع ملتا رہا ہے؟خود عمران خان اور ان کی جماعت تحریک انصاف سے بڑھ کر اس حقیقت کو کون جان سکتا ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام کا ڈھانچہ ہی اس طرح کا ہے کہ یہاں پر انتخابات میں کامیابی حاصل کر نے کے لئے جاگیرداروں، وڈیروں، برادریوں کے سرداروں کی مدد لینا پڑتی ہے۔ تحریک انصاف نے 1996ء سے اپنا سیاسی سفر شروع کیا۔ مسلسل نا کامیوں کے بعد تحریک انصاف کو اس وقت اکثریت ملی جب اس جماعت میں جاگیرداروں، پیروں اور ارب پتی افراد کو شامل کیا گیا۔ اب یہاں پر بنیادی سوال یہی ہے کہ پاکستان کے سیاسی نظام کے ’’تقاضوں‘‘ کو پورا کرنے کے بعد اگر کوئی فرد حکمران بنے گا، تو وہ پاکستان میں ’’چینی ماڈل‘‘ کیسے متعارف کروا سکتا ہے؟ ہمارا سیاسی نظام قطعی طور پر کسی انقلاب کی پیداوار نہیں ہے، بلکہ برطانوی سامراج کی وراثت میں حاصل کیا گیا نظام ہے، دوسرا تحریک انصاف بھی کوئی خالص انقلابی پارٹی نہیں ہے جو اقتدار ملنے کے بعد ایسی اصلاحات متعارف کروا پائے جس سے اس جماعت میں شامل اشرافیہ کے اپنے مفادات پر ضرب پڑنی شروع ہو جائے۔

مزید : رائے /کالم