لاہورچیمبرکامعاشی ترقی کیلئے غیرروایتی حکمت عملی وضع کرنے پر زور

لاہورچیمبرکامعاشی ترقی کیلئے غیرروایتی حکمت عملی وضع کرنے پر زور

لاہور (کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ملک طاہر جاوید، سینئر نائب صدر خواجہ خاور رشید اور نائب صدر ذیشان خلیل نے عالمی تجارتی میدان میں بہترین مقام بنانے اور بین الاقوامی تجارتی جنگ جیتنے کے لیے پاکستان کے بین الاقوامی معاشی اتحادوں کا حصہ بننے اور اس کے لیے غیر روایتی حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر ملک طاہر جاوید نے کہا کہ پاکستان کے پاس بے شمار وسائل ہونے کے باوجود مایوس کن برآمدات تشویشناک ہیں۔ تجارتی اعداد و شمار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جولائی تا جون 2017-18ء کے دوران پاکستان کی برآمدات اور درآمدات بالترتیب 23.2ارب ڈالر اور 60.86ارب ڈالر رہیں جو سال 2016-17ء کے اسی عرصہ میں 20.42ارب ڈالر اور 52.91ارب ڈالر تھیں۔ انہوں نے کہا کہ جولائی تا جون 2016-17ء کے مقابلے میں 2017-18ء میں برآمدات میں اضافے کا رحجان دیکھا گیا ۔

مگر یہ تسلی بخش نہیں کیونکہ اسی عرصہ میں تجارتی خسارہ 32.48ارب ڈالر سے بڑھ کر 37.64ارب ڈالر ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ساٹھ کی دہائی میں جن ممالک نے پاکستان کو معاشی رول ماڈل بنارکھا تھا آج ان کی برآمدات ہم سے کہیں زیادہ ہیں۔

انہوں نے ویلیوایڈیشن کے فقدان، کمزور مارکیٹنگ، نئی مارکیٹوں کی تلاش میں عدم دلچسپی ، زیادہ کاروباری لاگت اور بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم برآمدات کی وجہ قرار دیتے ہوئے درستگی کے لیے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بالخصوص زیادہ تر معدنی برآمدات خام حالت میں ہی کردی جاتی ہیں حالانکہ اگر ان کی ویلیوایڈیشن کی جائے تو زیادہ فائدہ ہوسکتا ہے، یہ ہدف ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی اور ہنرمندی کے شعبوں پر توجہ دیکر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ سینئر نائب صدر خواجہ خاور رشید اور نائب صدر ذیشان خلیل نے مضبوط مارکیٹنگ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی مصنوعات معیار کے حوالے سے بہترین ہیں مگر مارکیٹنگ کے فقدان کی وجہ سے عالمی منڈی میں اپنا صحیح مقام حاصل نہیں کرسکیں۔ انہوں نے بیرون ملک پاکستانی سفارتخانوں پر زور دیا کہ وہ پاکستانی مصنوعات کے لیے ڈسپلے سنٹرز قائم کریں۔

مزید : کامرس