2017میں شام کی سرزمین پر کیا شرمناک واقعات پیش آئے ، ہزاروں کی تعداد میں اعداد وشما ر پر آپ سرپکڑ لیں گے

2017میں شام کی سرزمین پر کیا شرمناک واقعات پیش آئے ، ہزاروں کی تعداد میں اعداد ...
2017میں شام کی سرزمین پر کیا شرمناک واقعات پیش آئے ، ہزاروں کی تعداد میں اعداد وشما ر پر آپ سرپکڑ لیں گے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دمشق ( ڈیلی پاکستان آن لائن)شام میں بشارالاسد کی حکومت کے ایک سرکاری جریدے ’الوطن‘ کے مطابق اس جنگ زدہ ملک میں سن 2017 میں 68 ہزار افراد جب کہ رواں برس سال اب تک 32 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جریدے کے سربراہ احمد رحال نے غیر ملکی نیوز ایجنسی کو بتایا،” ہم نے گزشتہ برس 68 ہزار افراد اور اس سال 32 ہزار افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔“ رحال نے ہلاک ہونے والوں کے بارے میں یہ نہیں بتایا کہ وہ شام کے کس حصے میں ہلاک ہوئے تھے اور یہ بھی نہیں بتایا کہ کیا یہ افراد شام میں جاری جنگ کی وجہ سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے؟

شام میں کچھ سماجی کارکنان شامی حکومت پر جیل میں قیدیوں کی ہلاکت کو بھی جنگی حالات میں مر جانے والے افراد کی فہرست میں شامل کر دینے کا الزام عائد کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ شام کی جیلوں میں ہزاروں شامی شہری قید ہیں۔ ان قیدیوں کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ انہیں جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، انہیں منصفانہ عدالتی کارروائی کا حق بھی نہیں دیا جاتا اور نہ ہی اپنے اہل خانہ سے ملنے دیا جاتا ہے۔ رحال کا اس حوالے سے کہنا ہے،” جب بھی کسی سرکاری محکمے سے کوئی دستاویز آتا ہے جو کسی کی ہلاکت کی تصدیق کرتا ہے، اس میں یہ واضح نہیں کیا جاتا کہ آیا یہ شخص لا پتہ تو نہیں ہے۔“

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک نیٹ ورک نے حالیہ مہنیوں میں قریب 400 ایسے کیسز کے بارے میں تفصیلات لکھی ہیں جن کے اہل خانہ کو یہ بتایا گیا تھا کہ ان کا قیدی رشتہ دار جیل میں ہلاک ہو گیا ہے۔ ان چار سو افراد میں نو بچے بھی شامل ہیں۔ اس نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اسی ہزار افراد کو جبری طور پر اٹھایا جا چکا ہے یعنی انہیں کسی حد تک لاپتہ یا گمشدہ افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔

برطانیہ میں قائم ’سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ کے مطابق 2011میں شام میں خانہ جنگی کے شروع ہونے کے بعد سے اب ساتھ ساڑھے تین لاکھ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، گزشتہ برس 33 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ اس تنظیم کے مطابق ان میں دس ہزار افراد عام شہری جب کہ سات ہزار افراد حکومت کے فوجی تھے۔ اس سال میں اب تک چودہ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں قریب پانچ ہزار عام شہری تھے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /عرب دنیا