کھٹملوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ انسانیت کےخلاف اعلان جنگ

کھٹملوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ انسانیت کےخلاف اعلان جنگ
کھٹملوں کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ انسانیت کےخلاف اعلان جنگ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

برلن (ڈیلی پاکستان آن لائن)فرض کیجیے آپ چھٹیاں منانے کہیں گئے ہیں اور واپسی پر اپنے سامان کے ساتھ کھٹمل بھی لے آئے ہیں۔ ایک بار یہ آپ کے گھر پہنچ گئے، تو پھر سمجھیے آپ کا ان سے جان چھڑانا آسان نہیں۔

بیڈ بگز یا کھٹملوں کا سب سے خوف ناک اثر تو یہ ہے کہ ان سے جان چھڑانے کے برسوں بعد بھی وہ آپ سے بھلائے نہیں بھولتیں، خاص طور پر وہ راتیں، جو جسم کے مختلف حصوں پر ان کے کاٹنے پر کھجاتے ہوا ہوئیں۔ اِن کے ڈنک کی وجہ سے خارش اور نشان، مچھر کے کاٹنے سے ہونے والی خارش سے کہیں زیادہ شدید اور نشان کہیں زیادہ مختلف ہوتا ہے۔

آپ کی جلد پر دانے نما ابھار پیدا ہو گیا ہے، کہیں کٹھمل تو نہیں؟ کہیں خارش ہو رہی ہے، کہیں کھٹمل تو نہیں؟ زمین پر کچھ چلتا دکھائی دیا ہے، کہیں کھٹمل تو نہیں؟ کٹھملوں سے نجات پا لینے کے باوجود بھی ایک طویل عرصہ اس طرز کے واہمے کسی نفسیاتی مسئلے کی طرح آپ کا تعاقب کرتے ہیں۔

غیر ملکی نیوز ایجنسی کے مطابق رومانیہ میں گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے دوران ایسی ہی صورت حال کا شکار ہو جانے والی ایک خاتون سیاح کا کہنا ہے، ”میں اس پورے معاملے کو اس لیے سمجھتی ہوں، کیوں کہ میں اس میں سے گزری ہوں۔ رومانیہ میں چھٹیاں گزارتے ہوئے، اچانک میں نے اپنی جلد پر چھوٹے چھوٹے ابھار دیکھے، جن کی وجہ سے خارش ہو رہی تھی۔ میں ڈاکٹر کے پاس گئی، تو معلوم ہوا کہ یہ کٹھملوں کا کمال ہے۔“

یہ طفیلیے بیسیویں صدی میں بہت زیادہ تھے، پھر کئی دہائیوں تک غائب رہے۔ مگر 1990 کی دہائی سے یہ ایک بار پھر ہر جانب دکھائی دے رہے ہیں۔ اب یہ صرف گندے ہاسٹلز ہی میں نہیں، اچھے خاصے ہوٹلوں کے کمروں تک میں ہیں حتیٰ کہ آپ ای بے سے کوئی فرنیچر خریدیں یا جہاز میں سفر سے قبل اپنا سوٹ کیس کارگو کے حوالے کرنے لگیں۔ یہاں سے کوئی کھٹمل آپ کے ہم راہ ہو جائے گا اور پھر آپ کے پورے اپارٹمنٹ میں پھیل جائے گا۔

گلاسکو کی کیلوڈونین جامعہ کی سماجی بہبود کی خدمات کے شعبے کی پروفیسر ہیدر لینچ کے مطابق، ”ایسے بہت سے شواہد ہیں کہ گزشتہ ایک دہائی میں ان کی تعداد میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے۔ مجموعی طور پر یہ اضافہ چار سے پانچ ہزار فیصد کے قریب ہے۔“

لینچ کے مطابق اس کی کئی وجوہات ہے، جس میں سے ایک یہ ہے کہ سفر آسان ہو گیا ہے اور لوگ ہوٹلوں میں قیام کرنے کی وجہ سے ان کے پھیلاو کا سبب بنتے ہیں۔ مگر محققین کا کہنا ہے کہ حشرات کش ادویات کے خلاف کھٹملوں کی کئی اقسام غیرمعمولی مدافعت کی حامل ہو گئی ہیں۔ ’سپر بیڈ بگ‘ کی اصطلاح لینچ ایسی ہی اقسام کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کوئی دوا اثر کرتی نظر نہیں آتی۔

مزید : سائنس اور ٹیکنالوجی