اغوا کر کے زبردستی جنسی غلام بنا دیا گیا ،معصوم طالبہ پر کئی ماہ تک ڈھائے جانیوالے شرمناک مظالم کا انکشاف

اغوا کر کے زبردستی جنسی غلام بنا دیا گیا ،معصوم طالبہ پر کئی ماہ تک ڈھائے ...
 اغوا کر کے زبردستی جنسی غلام بنا دیا گیا ،معصوم طالبہ پر کئی ماہ تک ڈھائے جانیوالے شرمناک مظالم کا انکشاف

  

لندن (ڈیلی پاکستان آن لائن)اینا رومانیہ سے لندن پڑھائی کی نیت سے پہنچیں لیکن اس سے پہلے انھیں کچھ رقم جمع کرنی تھی۔ تو اس کے لیے اینا نے عارضی نوکری شروع کر دی جس میں صفائی، ویٹرس اور ریاضی کی ٹیوشن دینا وغیرہ شامل تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق اینا اپنے گھر کے بالکل قریب تھیں اور ان کے پاس اتنا وقت تھا کہ گھر جا کر دوپہر کا کھانا پکا سکیں اور پھر وہاں سے صفائی کرنے اپنی نوکری پر چلی جائیں۔ اینا نے ہیڈ فونز پہن رکھے تھے اور بیونسے کا نغمہ سن رہی تھیں کہ اور اس وقت شمالی لندن کے علاقے وڈ گرین میں واقع اپنے مکان کے بالکل قریب تھیں۔

اسی دوران انھوں نے اپنی بیگ کو کھولا تاکہ گھر کی تالے کی چابیاں نکال سکیں کہ اچانک عقب سے کسی نے انھیں گردن سے دبوچ لیا اور ان کے منہ کو ڈھانپ دیا اور گھیسٹتے ہوئے سرخ کار میں لے گئے جہاں دو مرد اور ایک عورت موجود تھی اور انھوں نے تھپڑ مارنے شروع کر دیے اور رومانیہ کی زبان میں دھمکیاں دینی شروع کر دیں۔ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی خاتون نے ان سے بیگ چھین لیا اور اپنے چہرے سے عینک ہٹاتے ہوئے کہا کہ’ اگر وہ اسے جو بتاتے ہیں وہ نہیں کرتی تو رومانیہ میں اس کے خاندان کو گولی مار دی جائے‘۔

اینا کے مطابق وہ بالکل نہیں جانتی تھی کہ کیا ہو رہا ہے اور انھیں کہاں لے جایا جا رہا ہے۔ میں ہر ممکن چیز کے بارے میں سوچ رہی تھی جس میں انسانی اعضا اور جسم فروشی، مار دینا شامل تھا۔۔۔ خدا بہتر جانتا ہے۔

’اس خاتون نے میرے بیگ کی تلاشی شروع کر دی تاکہ بٹوا لیا جا سکے۔ اس نے میرے موبائل فون پر تھوڑی دیر پہلے کی گئی فون کالز کو دیکھنا شروع کیا اور اس کے بعد فیس بک فرینڈز کی فہرست دیکھی۔ بیگ میں میرا پاسپورٹ بھی تھا۔‘

اینا دیکھ سکتی تھیں کہ کار سے نکل کر بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں لیکن جب وہ ایک ایئر پورٹ پہنچے تو کار میں صرف ایک آدمی رہا گیا اور انھوں نے سوچنا شروع کیا کہ یہ موقع ہے فرار ہونے کا۔۔ کیا وہ ایئر پورٹ سٹاف سے مدد کی درخواست کریں۔ جب آپ بہت زیادہ خوفزدہ ہوں تو آپ کے لیے چیخنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے پاس میرے پیپرز تھے اور وہ جانتے تھے کہ میری ماں کہاں ہیں۔ وہ میرے بارے میں ہر چیز جانتے تھے اور یہ خطرہ تھا جو وہ مول نہیں لینا چاہتی تھیں۔

چیکنگ کے کاو¿نٹر وہ رو رہی تھیں اور ان کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا لیکن کاو¿نٹر کے پیچھے بیٹھی خاتون نے اس کا نوٹس نہیں لیا، ’جب ایک شخص نے میرا پاسپورٹ اسے دکھایا اور اس نے صرف مسکرا کر بورڈنگ پاس تھما دیے۔‘

’اس شخص نے جوڑا ہونے کا دکھاوا کیا اور اس میں ہم سکیورٹی سے گزرتے ہوئے بورڈنگ گیٹ تک پہنچ گئے اور جہاز کے عقبی حصے میں اپنی نشستوں پر جا کر بیٹھ گئے۔ اس شخص نے کہا کہ رونے اور چیخنے کی کوشش نہ کرنا اور ایسا کرنے کی صورت میں جان سے مار دوں گا۔‘

اینا نے جہاز کے کپتان کا اعلان سنا کہ وہ آئرلینڈ کے ایک ایئر پورٹ پر جا رہے ہیں جس کے بارے میں انھوں نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا۔ لینڈ کرنے پر جہاز سے اترتے وقت آنسوو¿ں سے ان کا چہرہ تر ہو گیا تھا لیکن کاو¿نٹر پر بیٹھی خاتون کی طرح فضائی میزبانوں نے بھی اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا۔

اس موقعے پر اینا نے طے کیا کہ وہ ایئر پورٹ کے اندر پہنچتے ہی وہاں سے بھاگ جائیں گی لیکن ایئر پورٹ کسی بس سٹینڈ سے بڑا نہیں تھا اور وہاں رومانیہ کے دو مزید افراد انھیں لینے کے لیے کھڑے تھے۔

ان میں سے ایک موٹے شخص نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا کہ’ بالآخر یہ زیادہ پرکشش لگتی ہے۔۔۔ اس وقت اسے اندازہ ہوا کہ اسے کس مقصد کے لیے اغوا کیا گیا ہے اور ’مجھے اس وقت معلوم ہو چکا تھا کہ مجھے فروخت کیا جانا ہے۔‘

’وہ آدمی مجھے ایک گندے سے فلیٹ میں لے گئے جہاں اندر پردے پوری طرح سے بند تھے اور شراب، سگریٹ اور پسینے کی کی بو آ رہی تھی۔‘

لیونگ روم میں وہ آدمی سگریٹ پیتے ہوئے لیپ ٹاپ پر کچھ دیکھ رہے تھے۔ ایک ٹیبل پر درجن کے قریب موبائل فون پڑے تھے جو کالز اور میسجز آنے کی وجہ سے مسلسل تھرتھرا رہے تھے۔ نیم برہنہ اور برہنہ لڑکیاں ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں آ جا رہی تھیں۔

ایک خاتون نے وہاں موجود دوسرے مردوں کی مدد سے اینا کے کپڑے پھاڑ پھینکے اور پھر یہاں سے اسے درندگی کا نشانہ شروع کیا گیا۔

دیوار کے ساتھ داغ دار سرخ چادر لگائی گئی اور زیر جامہ میں ان کی تصاویر لی گئیں تاکہ ان کی تصاویر کی انٹرنیٹ پر تشہیر کی جا سکے۔ انھیں مختلف نام دیے گئے جن میں سے کئی یاد بھی نہیں ہیں۔ وہ کبھی لارا، روبی اور ریچل تھیں اور ان کی عمر اور ملک تبدیل کر دیا جاتا تھا جس میں کبھی وہ 18 برس، کبھی 19 سے 20 برس کی ہوتی اور ان کا تعلق لیٹویا اور پولینڈ سے ہوتا۔

اس کے بعد ہزاروں مردوں کے ساتھ انھیں سیکس کرنے پر مجبور کیا گیا۔ انھوں نے مہینوں دن کی روشنی نہیں دیکھی۔ ان کو صرف اس وقت سونے کی اجازت ہوتی تھی جب کوئی گاہک نہیں ہوتا تھا۔ لیکن گاہک ہر وقت آتے رہتے تھے جس میں دن میں 20 تک بھی آتے تھے۔ بعض دنوں میں کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا اور دوسرے دنوں میں ہو سکتا ہے کہ ڈبل روٹی کا ایک ٹکڑا مل جائے یا کسی نے اگر کسی کا کوئی بچا ہوا ہے۔

نیند اور کھانے کی کمی اور مسلسل جنسی استحصال کی وجہ سے میرا وزن کم ہو گیا اور دماغ نے پوری طرح سے کام کرنا چھوڑ دیا۔

گاہک نصف گھنٹے کے لیے 80 سے 100 جبکہ گھنٹے کے لیے 160 سے 200 یورو ادا کرتے تھے۔ بعض گاہکوں کی وجہ سے اینا کو خون آنا شروع ہو جاتا جس کی وجہ سے وہ کھڑی بھی نہیں ہو پاتی تھیں یا اتنی زیادہ درد ہوتا کہ انھیں لگتا ہے کہ وہ مرنے والی ہیں۔

جولائی میں اینا کو یرغمال بنائے گئے چار ماہ گزر چکے تھے اور ایک دن پولیس نے ان کے فلیٹ پر چھاپہ مارا اور وہاں موجود تمام لڑکیوں کو گرفتار کر لیا۔ حیران کن طور پر اس فلیٹ کو چلانے والے تمام مرد اور عورت پہلے سے ہی غائب تھے اور وہ اپنے ساتھ لیپ ٹاپ اور زیادہ تر نقدی بھی لے گئے۔اینا کو حیرت تھی کہ ان لوگوں کو کیسے معلوم ہوا کہ پولیس آنے والی ہے۔

پولیس نے فلیٹ کی تصاویر لیں اور استمعال شدہ کونڈومز اور زیر جامہ کی بھی تصاویر لیں اور وہاں اینا اور دیگر تین اغوا کر کے لائی گئی خواتین سے کہا کہ وہ کپڑے پہن لیں۔ تو اینا نے پولیس اہلکاروں کو بتایا کہ ان کے پاس کپڑے نہیں ہیں اور انھیں یہاں اپنی مرضی کے بغیر رکھا گیا۔

’وہ واضح طور پر دیکھ سکتے تھے کہ ہمارے پاس یہاں کسی قسم کا اختیار نہیں تھا۔۔۔ نہ ملبوسات، نہ شناختی دستاویزات۔۔۔ میں نے انھیں بتانے کی کوشش کی لیکن کسی نے کچھ نہیں سنا۔‘

مزید : ڈیلی بائیٹس