عدالتی فیصلہ آنے تک اس سال میڈیکل کالجوں میں داخلے نہیں کیے جائینگے

عدالتی فیصلہ آنے تک اس سال میڈیکل کالجوں میں داخلے نہیں کیے جائینگے

اسلام آباد(آ ئی این پی) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت میں سٹنٹ کی قیمت کو ڈالر کی قیمت کیساتھ منسلک، ہر تین ماہ بعد نظر ثانی کرنے کا انکشاف کیا گیا،کمیٹی کو وزارت صحت کی جانب سے بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈالر کی قیمت کم ہو تو سٹنٹ کی قیمت بھی کم ہو جائے گی، پاکستان کی ایم بی بی ایس کی ڈگری بھارت، بنگلہ دیش کی ڈگری سے بہت بہتر تصور کی جاتی ہے، پی ایم ڈی سی کے قوانین واضح نہیں ہیں جس کے باعث قانون کی تشریح میں مشکلات پیش آتی ہیں، کونسل کے اندر ای گورننس لانے کیلئے ٹینڈر طلب کیے ہیں جس پر 2کروڑ سے زائد رقم خرچ ہوگی، میڈیکل کالجز میں داخلوں کیلئے یکساں ایڈمشن پالیسی بنائی جارہی ہے، عدالت کا فیصلہ آنے تک اس سال میڈیکل کالجز میں داخلے نہیں کیے جائیں گے، کمیٹی ارکان نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز بھارتی ڈاکٹرز کے مقابلے میں زیادہ پروفیشنل ہیں لیکن ان کو تنخواہیں کم دی جاتی ہیں، سرکاری دفاتر کے اندر فائلز پڑی رہتی ہیں، اس حوالے سے قانون ایوان میں لا رہے ہیں کہ کوئی فائل ایک ٹیبل پر 24گھنٹے سے زیادہ نہیں رہے گی ،یکساں ایڈمشن پالیسی کے حوالے سے کمیٹی کی سفارشات اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ تک بھی پہنچائیں گے،کمیٹی نے بیرون ملک کام کرنے والے ڈاکٹرز کو درپیش مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے دفتر خارجہ کے حکام سے تفصیلات طلب کر لیں۔جمعہ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قومی صحت کا اجلاس سینیٹر شیخ عتیق کی زیر صدارت ہوا۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ میڈیکل کالجز میں داخلوں کیلئے سینٹرلائزڈ ایڈمشن پالیسی بنائی جارہی ہے اور یہ معاملہ سپریم کورٹ کے اندر چل رہا ہے۔عدالت کا فیصلہ آنے تک میڈیکل کالجز میں داخلے نہیں کیے جائیں گے۔اس پر کمیٹی چیئرمین سینیٹر شیخ عتیق نے کہا کہ اس پالیسی کے حوالے سے کمیٹی کی سفارشات اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ تک بھی پہنچائیں گے۔اگر فیصلہ وقت پر نہ آیا تو طالب علموں کا ایک سال ضائع ہوجائی گا جو نہیں ہونا چاہیے۔پی ایم ڈی سی میں نئے آرڈیننس لانے کا معاملہ بھی کمیٹی نے اٹھایا جس پر پی ایم ڈی سی کے نمائندے نے کمیٹی کو بتایا کہ آرڈیننس لایا جا رہا ہے جس کی منضوری پہلے وزارت قانون سے لی جائے گی۔ کمیٹی ارکان نے استفسار کیا پی ایم ڈی سی کے افسران منتخب نمائندے نہیں ہیں تو پھر وہ آرڈیننس کیسے لا سکتے ہیں؟ کمیٹی نے آرڈیننس سے متعلق تفصیلات بھی طلب کر لیں۔سینیٹر اشوک کمار نے معالہ اٹھایا کہ جنیوا میں تمباکو کے حوالے سے قانون سازی ہونی ہے آئندہ دنوں میں جس میں وزارت صحت نے اپنے ادارے کے افسران کی بجائی این جی او کے دو نمائندوں کو بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے جو وہاں جا کر پاکستان کی طرف سے معائدے پر دستخط کریں گے۔ کمیٹی ارکان نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ اب پاکستان کی جانب سے این جی اوز کے نمائندے بین الاقوامی معاہدے کرنے جایا کریں گے۔سینیٹر شیخ عتیق نے اس پر کہا کہ کسی این جی او کا نمائندہ پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی معائدہ سائن نہیں کر سکتا۔ سٹنٹ کی قیمتوں کے تعین کرنے کے معاملے پر کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ایک کمیٹی قائم کی گئی تھی جس میں ملک بھر سے ڈاکٹرز اور سپیشلسٹ افراد نے شرکت کی تھی۔ مشاورت کے بعد سٹنٹ کی ایک قیمت کا تعین کر دیا گیا ہے جس کی منظوری سپریم کورٹ نے دے دی ہے۔ سٹنٹ کی قیمت کو ڈالر کی قیمت کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے اور ہر تین ماہ بعد اس کی قیمت پر نظر ثانی کی جائے گی ۔ اگر ڈالر کی قیمت کم ہوئی تو سٹنٹ کی قیمت بھی کم کر دی جائے گی۔عوامی آگاہی کیلئے سٹنٹ کی قیمتوں کی مقررہ قیمت کا اخباروں میں اشتہار بھی دیا گیا ہے اور سٹنٹ کے اوپر بھی اس کی قیمت درج کی گئی ہے تاکہ عام عوام سٹنٹ خریدتے وقت اس کی اصل قیمت ہی ادا کریں ۔

پاکستان میڈیکل کونسل

مزید : صفحہ آخر