نواز شریف ، مریم اور صفدر کی درخواستوں کی سماسعت نیا بینچ کرے گا ، جسٹس عامر فاروق کی چھٹی کے باعث پرانا بینچ ٹوٹ گیا

نواز شریف ، مریم اور صفدر کی درخواستوں کی سماسعت نیا بینچ کرے گا ، جسٹس عامر ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) سابق وزیراعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر کی ایون فیلڈ ریفرنس میں سزا کی معطلی کی درخواستوں پر سماعت کرنے والا اسلام آباد ہائیکورٹ کا بینچ تبدیل ہوگیا۔واضح رہے کہ جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل اسلام آباد ہائیکورٹ کا 2 رکنی بینچ شریف خاندان کے افراد کی اپیلوں پر سماعت کر رہا تھا۔تاہم جسٹس عامر فاروق کی تعطیلات کے باعث رخصت پر چلے گئے۔جس کے بعد رجسٹرار آفس نے نئے بینچ کی تشکیل کے لیے معاملہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو بھجوا دیا تھا۔درخواستوں پر سماعت کے لیے جسٹس اطہرمن اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگ زیب پر مشتمل نیا بینچ تشکیل دے دیا گیا۔اس سے قبل ان درخواستوں پر سماعت کرنے والے جسٹس محسن اختر کیانی بھی رخصت پر چلے گئے تھے۔یاد رہے کہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی کی درخواستوں پر سماعت کرنے والا یہ تیسرا بینچ ہے۔واضح رہیکہ اسلام آد کی احتساب عدالت نے 6 جولائی کو ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف کو مجموعی طور پر 11 سال قید اور جرمانے، مریم نواز کو مجموعی طور پر 8 سال قید اور جرمانے جبکہ ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کی سزا کے خلاف درخواست گزار ایڈووکیٹ اے کے ڈوگر کی جانب سے لاہور ہائیکورٹ میں بھی اپیل دائر کی گئی تھی، جس کی سماعت کے لیے جسٹس شمس محمود مرزا کی سربراہی میں جسٹس محمد ساجد محمود سیٹھی اور جسٹس مجاہد مستقیم احمد پر مشتمل بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔تاہم 8 اگست کو لاہور ہائیکورٹ کے فل بنچ کے سربراہ جسٹس شمس محمود مرزا نے درخواست کی سماعت سے معذرت کرلی تھی، جس کے باعث بنچ ٹوٹ گیا تھا، جو ابھی تک دوبارہ تشکیل نہیں دیا گیا۔دریں اثناسابق وزیر اعظم نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے ایون فیلڈر ریفرنس میں سزامعطلی کی درخواستوں میں ترمیم کیلئے متفرق درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں جمع کرادی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر متفرق درخواست میں سزا معطلی کے ساتھ احتساب عدالت اور نیب کو فریق بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیپٹن (ر) صفدر کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت کے دوران احتساب عدالت کو فریق نہ بنائے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا،جس پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویڑن بینچ نے وکیل صفائی امجد پرویز کی استدعا پر درخواست میں ترمیم کیلئے مہلت دی تھی۔گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) صفدر کی ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنس میں سزا معطلی کی درخواست میں احتساب عدالت کو فریق بنا کر ترمیم کے ساتھ دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔کیپٹن (ریٹائرڈ) محمد صفدر کے وکیل نیعدالت کو بتایا کہ ایک سو چوہتر صفحات کے عدالتی فیصلے میں ان کے موکل کے خلاف صرف ایک لائن لکھی گئی جس میں سزا سنائی گئی ہے۔امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے موجود ہیں جن کے مطابق پانچ سال سے کم سزا پر معطلی کی درخواست منظور کی جاسکتی ہے۔ اس پر جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اسی بنیاد پر اس درخواست کو الگ کیا ہے۔امجد پرویز ایڈووکیٹ نے کہا کہ احتساب عدالت نے فرانزک ایکسپرٹ رابرٹ ریڈلے کی گواہی پر جعلی ٹرسٹ ڈیڈ پر دستخط کرنے کے الزام پر سنائی حالانکہ فرانزک ایکسپرٹ نے خود تسلیم کیا کہ 2005 میں کیلبری فونٹ موجود تھا اور وہ بھی ڈاون لوڈ کر کے استعمال کر چکا ہے۔ جیرمی فری مین نے جے آئی ٹی کے کوئسٹ سالسٹر کو ٹرسٹ ڈیڈ کی تصدیق کی۔

مزید : صفحہ اول