اربوں کی لاگت کے باوجود پنجاب میں جیلوں کا سکیورٹی منصوبہ نامکمل

اربوں کی لاگت کے باوجود پنجاب میں جیلوں کا سکیورٹی منصوبہ نامکمل

لا ہور(رپورٹ: یو نس با ٹھ) نگران حکومت نے پنجاب کی جیلوں میں سی سی ٹی وی کیمر ے لگانے،ویڈیو کا نفرنس روم تعمیر کر نے اورہیڈآفس میں کنٹرول روم بنانے کے منصوبہ کے لیے 1ارب روپے کی خطیر رقم لینے اور جیلوں میں یہ منصوبہ دو سال تک مکمل نہ ہو نے کا نو ٹس لے لیا ہے ۔منصوبہ تاخیر کا شکا ر ہو نے پر نگران وزیر اعلی پنجاب نے ہوم سیکرٹری سے تحریر ی وضاحت طلب کر لی ہے ۔جبکہ آئی جی جیل خانہ جات مرزاشاہدسلیم بیگ نے بھی زمہ دار انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ ان منصوبوں کو ہرحال میں فوری مکمل کیا جائے۔ ورنہ غفلت کے مر تکب افسران واہلکاروں کیخلاف سخت کا رروائی عمل میں لا ئی جا ئے گی ۔ سابقہ حکومت پنجاب نے قیدیوں کی نقل و حرکت کو بیرکوں کے اندر مانیٹر کرنے، منشیات کی روک تھام اور کرپٹ ملازمین کو پکڑنے کے لئے سنٹرل اور ڈسٹرکٹ جیلوں میں 200 ہر قسم کے کیمر ے لگا نے اور خطر نا ک قیدیوں کے ویڈ یو ٹرائل کے لیے جیلوں میں ویڈیو کا نفرنس روم بنا نے کا تقریباً دوسال قبل حکم دیا تھا جبکہ ٹھیکہ حاصل کر نے والی کمپنی این آر ٹی سی اور بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ نے اس سارے منصوبے کی تکمیل کے لیے صرف 6ماہ کا وقت ما نگا تھا ۔ ٹھیکہ حاصل کر نے والی کمپنی این آر ٹی سی کی انتظامیہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ کام آخری مراحل میں ہے ۔جلد ہی کیمپ جیل سے یہ منصو بہ شروع ہو کر پنجا ب کی تما م جیلو ں میں کمپنی سی سی ٹی وی کیمرے لگا دے گی ۔ وا ضح رہے محکمہ جیل خا نہ جا ت نے پنجا ب بھر کی جیلو ں میں سیکو رٹی کے پیش نظر قیدیوں کی نقل و حرکت کو بیرکوں کے اندر مانیٹر کرنے اور منشیات کی روک تھام اور کرپٹ ملازمین کو پکڑنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمر ے لگا نے اور خطر نا ک ملزموں کے لیے سابق پنجا ب حکو مت سے دوسا ل قبل مجموعی طور پر ایک ارب روپے کے فنڈز جاری کر وائے تھے ۔ اعلیٰ جیل انتظامیہ نے جیلوں کے نظام کو بہتر بنانے کے لئے مانیٹرنگ روم بنانے کا کام پچھلے سا ل ہی شروع کر دیا تھا۔ اس مقصد کے لئے صوبہ کی ہر سنٹرل جیل میں 200 سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جا نے تھے ، ان کیمروں کے متعلقہ سپرنٹنڈنٹ، ڈی آئی جی جیل خانہ جات اور آئی جی جیل خانہ جات کے دفاتر میں کنٹرول روم بنانے کا منصو بہ طے پا یا ۔ سی سی ٹی وی کیمرے حساس قیدیوں کی بیرکوں، جیل کے ہسپتال، قیدیوں کے کچن اور جیل کے اندر کی گزرگاہوں پر لگائے جانے تھے۔

رپورٹ

مزید : صفحہ آخر