اسد قیصر سپیکر قومی اسمبلی ، چودھری سرور گورنر پنجاب نامزد، پرویز الٰہی سپیکر پنجاب اسمبلی شاہ فرمان کو گورنر کے پی کے بنانے کا فیصلہ

اسد قیصر سپیکر قومی اسمبلی ، چودھری سرور گورنر پنجاب نامزد، پرویز الٰہی ...

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں)پاکستان تحریک انصاف نے اسد قیصر کو سپیکر قومی اسمبلی اور چودھری محمد سرور کو گورنر پنجاب کے عہدوں کیلئے نامزد کرتے ہوئے کہاہے کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے امیدوار کا اعلان چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان خود کرینگے، ہمارے حلیف چودھری پرویز الٰہی پنجاب اسمبلی میں سپیکر کے امیدوار ہونگے، سابق وزیراعلی پرویز خٹک خیبرپختونخوا اور فاٹا ، ڈاکٹر عارف علوی سندھ ، سرور خان مغربی پنجاب، شاہ محمود قریشی جنوبی پنجاب ، عامر کیانی شمالی پنجاب کے اراکین قومی اسمبلی سے رابطے کرینگے، ۔جمعہ کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت بنی گالہ میں پارٹی کے مرکزی رہنماؤں کا اجلاس ہوا جس میں وفاق، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں حکومت سازی سے متعلق اہم فیصلے کئے گئے ۔ اجلاس کے دوران موجودہ سیاسی صورتحال ، مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور ہم خیال جماعتوں کی جانب سے مبینہ دھاندلی کے الزامات سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وفاق، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں مختلف عہدوں کے حوالوں سے کئی ناموں پر غور کیا گیا تاہم قومی اسمبلی کے سپیکر کے عہدے اور گورنر پنجاب کیلئے چیئرمین عمران خان نے رہنماؤں سے مشاورت کے بعد حتمی منظوری دی ۔ عمران خان نے پارٹی رہنما شاہ فرمان کو گورنر خیبر پختونخوا بنانے کا فیصلہ کرلیا۔ اجلاس کے بعد سینیٹر فیصل جاوید، بابر اعوان ، نعیم الحق ودیگر کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئر وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ سپیکر قومی اسمبلی کیلئے اسد قیصر اور گورنر پنجاب کے عہدے کیلئے چودھری محمد سرور ہمارے امیدوار ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ چودھری محمد سرور کو پارٹی نے گورنر پنجاب کیلئے نامزد کیا ہے، چودھری محمد سرور گورنر رہ چکے ہیں اور وہ گورنر کے آئینی کردار سے واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چودھری محمد سرور پنجاب کی صورتحال کو جانتے ہیں کیونکہ وہ پارلیمانی امور کا حصہ بھی تھے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی کیلئے اسد قیصر تحریک انصاف کے امیدوار ہونگے۔ انہوں نے بتایا کہ اسد قیصر خیبرپختونخوا اسمبلی میں سپیکر رہ چکے ہیں اور وہ تمام روایات سے واقف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسد قیصر نے تمام جماعتوں کیساتھ اچھے تعلقات بنائے، اسد قیصر کا رویہ دوسری جماعتوں کے لوگوں کیساتھ قابل تعریف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں لوگوں نے بلے پر مہر لگا کر کامیاب کیا ہے۔ تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہے اور ہم پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جو بھی پنجاب کا وزیراعلی ہوگا چودھری سرور اس کیساتھ تعاون کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اختر مینگل سے ملاقات ہوئی ہے جس میں انہوں نے سپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے ناموں پر ہماری حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ جی ڈی اے کی قیادت سے بھی مذاکرات ہوئے ہیں انہوں نے بھی ہماری حمایت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سے پیر پگاڑا کی قیادت میں مذاکرات مثبت رہے ہیں ، ایم کیو ایم پاکستان نے ہمارے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے جس پر ہم تمام جماعتوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمارے ساتھ تعاون کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ آزاد امیدواروں نے ہماری حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان مسلم لیگ (ق)، ایم کیو ایم اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے شکر گزار ہیں۔ کراچی کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ کراچی کی ترقی بنیادی مسئلہ ہے ۔ کراچی کے حوالے سے تمام جماعتوں کو مدعو کرینگے اور صورتحال بہتر کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ 13 تاریخ کو رات آٹھ بجے اجلاس ہوگا جس کی صدارت عمران خان کرینگے ۔ اجلاس میں ممبران قومی اسمبلی اور اتحادی جماعتیں شامل ہونگی۔ اجلاس کے فیصلوں کے حوالے سے میڈیا کو آگاہ کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ ہوا ہے کہ خیبرپختونخوا اور فاٹا کے ممبران قومی اسمبلی سے سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک رابطہ کرینگے ، سندھ میں عارف علوی اور بلوچستان میں قاسم سوری ممبران سے رابطے کرینگے ۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ پنجاب میں شفقت محمود ، سرور خان ، عامر کیانی اور شاہ محمود قریشی ایم این ایز سے رابطے کرینگے ۔ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ مغربی پنجاب کے ارکان قومی اسمبلی سے غلام سرور خان رابطے میں رہیں گے، جنوبی پنجاب کے ارکان قومی اسمبلی سے رابطے کی ذمہ داری میری ہے۔ عامر کیانی کو شمالی پنجاب کے ارکان قومی اسمبلی سے رابطے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کے سپیکر کیلئے ہمارے حلیف چودھری پرویز الٰہی امیدوا ہونگے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں وزیراعلیٰ کے امیدوار کا اعلان عمران خان خود کرینگے۔ ایک اور سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے سربراہ جام کمال سے ہماری اچھی بات چیت ہوئی ہے اوران کے اتحادیوں سے بھی مذاکرات ہوئے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ 13 اگست کو قومی اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا ہے لہذا ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسی روز تمام ساتھی و اتحادی ایک ساتھ بیٹھ کر آئند کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کریں گے ۔دوسری طرف بنی گالہ میں پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کا اہم اجلاس ہوا تاہم اجلاس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے ناموں پر اتفاق نہ ہو سکا۔ عمران خان نے پرویز خٹک اور عاطف خان کو اختلافات ختم کرنے کی ہدایت کر دی۔ اجلاس میں عاطف خان، شہرام تراکئی، شاہ فرمان سمیت سینیئر رہنماؤں نے شرکت کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخوا کے ناموں پر اتفاق نہ ہوسکا، آئندہ دو روز میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے ناموں پر اتفاق کا امکان ہے جبکہ کابینہ کے ناموں کا اعلان وزیراعلیٰ کے حلف اٹھانے کے بعد ہو گا۔اس موقع پر عمران خان نے پرویز خٹک اور عاطف خان کو اختلافات ختم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ صوبے اور پارٹی کے مفاد میں ذاتی اختلافات ختم کر دیں۔ دوسری جانب نامزد وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بحیثیت وزیر اعلیٰ عاطف خان سمیت تمام ارکان کو ساتھ کے کر چلوں گا۔بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاطف خان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں گزشتہ حکومت کو درپیش چیلنجز پر بات ہوئی، وزارت اعلیٰ سمیت اپنے کپتان کا ہر فیصلہ قبول ہے، عمران خان نے جس کو نامزد کیا ہے اس کے ساتھ کام کریں گے۔انکا یہ بھی کہنا تھا کہ مجھے سیاست کا کوئی شوق نہیں تھا، عمران خان مجھے سیاست میں لے کر آئے، میں عمران خان کی خواہش پر سیاست میں آیا، میں عہدوں کے لیے سیاست میں نہیں آیا، عمران خان جو ذمہ داری بہتر سمجھیں گے مجھے سونپ دیں گے۔دریں اثناپاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے نومنتخب رکن حسن مرتضیٰ کو پنجاب اسمبلی میں اپنا پارلیمانی لیڈر نامزد کر دیا ہے۔ حسن مرتضیٰ کی بطور پارلیمانی لیڈر کے نامزدگی سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کی رہائش گاہ پر واقعہ ماڈل ٹاؤن میں منعقدہ ایک اجلاس میں کی گئی۔ جس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نومنتخب ارکان پنجاب اسمبلی سمیت پیپلز پارٹ پنجاب اور لاہور کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

نامزدگیاں

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک )چیئرمین تحریک انصاف عمران خان 18 اگست کو وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھائیں گے۔صدر مملکت ممنون حسین نے قومی اسمبلی کا اجلاس 13 اگست کو طلب کیا ہے جس میں نو منتخب اراکین اسمبلی کی حلف برداری ہوگی جس کے بعد اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا چناؤ کیا جائے گا جب کہ وزیراعظم کے انتخاب کے لیے اجلاس یوم آزادی کی تعطیل کے بعد طلب کیا جائے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان 18 اگست کو وزراتِ عظمیٰ کا حلف اٹھائیں گے۔پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے بھی عمران خان کے حلف اٹھانے کی 18 اگست تاریخ مقرر ہونے کی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب اپوزیشن کے گرینڈ الائنس نے عمران خان کے مد مقابل مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف کو وزراتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کیا ہے جب کہ پیپلز پارٹی نے خورشید شاہ کو اسپیکر قومی اسمبلی اور متحدہ مجلس عمل نے مولانا اسعد محمود کو ڈپٹی اسپیکر کا امیدوار نامزد کیاہے۔واضح رہیکہ عام انتخابات 2018 میں پاکستان تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں بھاری اکثریت حاصل کی جس کے بعد وفاق میں حکومت بنانے کے لیے اس کی اتحادی جماعتوں میں ایم کیوایم، بی این پی (مینگل)، بی اے پی اور مسلم لیگ (ق) شامل ہیں۔قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے ملازمین کی ہفتہ اور اتوار کی چھٹیاں 13اگست اجلاس کے باعث منسوخ کر دیں،اجلاسوں میں نو منتخب ارکان حلف اٹھائیں گے۔ جمعہ کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے ملازمین کی ہفتہ اور اتوار کی چھٹی منسوخ کر دیں ہیں اسمبلی سیکرٹری کے مطابق چھٹیاں 13اگست اجلاس کے باعث منسوخ کی گئیں۔13اگست کو ملک میں 3اسمبلیوں کے اجلاس بیک وقت ہوں گے، قومی، سندھ اور خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس 13اگست کو ہو گا۔ اجلاسوں میں نو منتخب ارکان حلف اٹھائیں گے۔دوسری طرف قومی اسمبلی کے 9 نومنتخب آزاد اراکین نے الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعتوں میں شمولیت کے حلف نامے جمع کرا دئیے،ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی کے 9 آزاد امیدواروں نے تحریک انصاف میں شمولیت کے حلف نامے جمع کروا دئیے جبکہ 4 ارکان نے آزاد حیثیت برقرار رکھی ہے ۔این اے 13 سے صالح محمد ،این اے 101 سے محمد عاصم نذیر،این اے 150 سے سید فخر امام،این اے 166 سے عبدالغفار نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی ہے جبکہ این اے 181 سے شبیر علی،این اے 190 سے امجد فاروق اور این اے 205 سے علی محمد ،این اے 97 ثنا ء4 اللہ مستی خیل اور این اے 185 مخدوم زادہ باسط سلطان بجاری نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت کے حلف نامے جمع کروا دیئے ہیں ۔پنجاب اسمبلی سے 26 آزاد امیدواروں نے سیاسی جماعتوں میں شمولیت کے حلف نامے جمع کرائے۔پنجاب اسمبلی کے 23 آزاد اراکین نے تحریک انصاف جبکہ 1 رکن نے مسلم لیگ ن اور 1 نے رائے حق پارٹی میں میں شمولیت اختیار کرلی ہے ۔پنجاب اسمبلی کے 3 امیدواروں نے آزاد حیثیت سے برقرار رکھا ہے ۔

مزید : صفحہ اول