نیب لوگوں کو دوران تحقیقات کیوں اٹھالیتا ہے جسے پکڑنا ہوتا اسے چھوڑ دیا جاتا : چیف جسٹس

نیب لوگوں کو دوران تحقیقات کیوں اٹھالیتا ہے جسے پکڑنا ہوتا اسے چھوڑ دیا جاتا ...

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سپریم کورٹ نے این آئی سی ایل سکینڈل کیس میں نیب کو ایاز خان نیازی کی گرفتاری سے روک دیا،چیف جسٹس نے کہا کہ نیب لوگوں کو دوران تحقیقات کیوں اٹھا کر لے جاتا ہے جسے پکڑنا ہوتاہے اسے چھوڑ دیا جاتا ہے۔جو پاکستان میں ہوتا ہے اسے گرفتار کرلیا جاتا ہے ،سب معلومات ہیں جسے پکڑنا تھا وہ تو ملک سے باہر بھاگ گیا ،پتہ ہے کیسے سیاسی طور پر لوگوں کو باہر بھیج دیا جاتا ہے ۔نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ایاز خان نیازی کے خلاف دو انکوائریاں چل رہی ہیں۔ سپریم کورٹ نے پمز ہسپتال میں غیر قانونی تعیناتی کیس کی سماعت اگست کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی‘ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ بہت سے مسائل پمز ہسپتال میں حل ہوگئے ہیں‘ پمز کے کچھ ایشوز ہیں جو نئی حکومت کے آنے کے بعد دیکھیں گے۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں پمز ہسپتال میں غیر قانونی تعیناتی کیس کی سماعت ہوئی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ ہم نے جواب جمع کرایا ہے چیف جسٹس نے کہا کہ تعیناتیاں ٹھیک نہیں ہوئی تھیں ڈاکٹر وقار آفتاب نے اسلام آباد کی خدمت کی ہے ڈاکٹر وقار آفتاب نے بتایا کہ پمز ہسپتال میں تین پراجیکٹ مکمل کئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم ہفتہ یا اتوار کو پمز کے دورے پر جاسکتے ہیں اسلام آباد کے شہریوں کو اب طبی سہولتیں بہتر مل رہی ہیں پولی کلینک میں ابھی تک مسائل ہیں۔ ہم ڈاکٹر وقار کو پولی کلینک کا بھی پراجیکٹ دے دیتے ہیں ہسپتالوں کی حالت اب بہتر ہورہی ہے۔ سپریم کورٹ نے پمز ہسپتال میں غیر قانونی تعیناتی کیس کی سماعت اگست کے آخری ہفتے تک ملتوی کردی۔

سپریم کورٹ

مزید : صفحہ اول