نواز شریف کی سزاؤں اور ریفرنسزکی کارروائیاں روکنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور متفرق درخواست دائر

نواز شریف کی سزاؤں اور ریفرنسزکی کارروائیاں روکنے کیلئے لاہور ہائیکورٹ میں ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی)میاں محمدنواز شریف کی سزاؤں اور ریفرینسز کی کارروائیاں روکنے کے لئے لاہور ہائیکورٹ میں ایک اور متفرق درخواست دائر کر دی گئی ہے ،درخواست میں قانونی نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ نیب آرڈیننس 1999 ء مردہ قانون ہے ،اس قانون کے تحت میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف انکوائری غیر قانونی ہے ۔آئینی درخواست شاہد چوہان نے عامر ظہیر ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی ہے ،درخواست میں احتساب عدالت کے جج محمد بشیر، چیئرمین نیب اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ،درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد نیب آرڈیننس 1999 ء کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ ایک مردہ قانون ہے ،اس قانون کے تحت نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف نیب انکوائریاں روکی جائیں درخواست میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے 12اکتوبر 1999 ء میں منتخب حکومت ختم کر کے اقتدار پر قبضہ کیا اور آرڈیننس کے تحت احتساب کے لئے نیب کا ادارہ قائم کیا گیا،درخواست میں اعتراض اٹھایا کہ جنرل پرویز مشرف نے اپنے دور حکومت میں آئین کو معطل کر کے پی سی او کے تحت نظام حکومت چلائی مگر 18 ویں ترمیم کی منظوری کے بعد جنرل مشرف کے اقدامات کو ملنے والا قانونی تحفظ ختم ہوگیا،درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ نیب آرڈیننس قانونی افادیت کھو چکا ہے ،اس قانون کو مردہ قانون قرار دے کرنیب آرڈیننس کے تحت نواز شریف کی سزا کو کالعدم جبکہ سابق وزیراعظم کے خلاف دیگر ریفرینسز پر کارروائی روکی جائے ۔

درخواست دائر

مزید : صفحہ آخر