دوبارہ گنتی اعلٰی عدلیہ کی شہباز شریف کو الیکشن ٹربیونل ، سونیا علی الیکشن کمیشن جانے کی ہدایت

دوبارہ گنتی اعلٰی عدلیہ کی شہباز شریف کو الیکشن ٹربیونل ، سونیا علی الیکشن ...

کراچی ،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ،آئی این پی) سندھ ہائیکورٹ کی شہباز شریف کو این اے 249 کراچی میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کرنے کی ہدایت، سپریم کورٹ کی پی پی123 ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دوبارہ گنتی کیخلاف پی ٹی آئی امیدوارسونیاعلی کو الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت، الیکشن کمیشن نے پی کے 23 شانگلہ میں خواتین کے 10 فیصد سے کم ووٹ کاسٹہونے پر انتخابات کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ الیکشن کا حکم دے دیا۔تفصیلات کے مطابقسندھ ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کو این اے 249 کراچی میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے الیکشن ٹریبونل سے رجوع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے درخواست نمٹادی۔این اے 249 سے پی ٹی آئی کے فیصل واوڈا نے شہبازشریف کو شکست دی جس کے بعد حلقے میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کے لیے (ن) لیگ کے صدر نے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ووٹوں کی گنتی کے دوران بے ضابطگیاں ہوئی ہیں لہٰذا دوبارہ گنتی کی جائے اور فیصل واوڈا کی کامیابی کا نوٹیفکیشن روکا جائے۔عدالت نے اب فیصلے میں درخواست گزار کو الیکشن ٹریبونل سے رجوع کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے فیصل واوڈا کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ سپریم کورٹ میں پی پی123ٹوبہ ٹیک سنگھ میں دوبارہ گنتی کیخلاف درخواست پرسماعت ہوئی ۔ سونیا علی کے وکیل نے لاہورہائیکورٹ کافیصلہ چیلنج کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ سونیاعلی دوبارہ گنتی میں 17 ووٹوں سے ہارگئیں، دوبارہ گنتی کا حکم دینا ہائیکورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں، عمران خان کیس میں بھی یہی حکم دیاگیا۔جس پرسپریم کورٹ نے پی ٹی آئی امیدوارسونیاعلی کو الیکشن کمیشن سے رجوع کی ہدایت کر دی۔ علاوہ ازیں الیکشن کمیشن نے خیبرپختونخوا اسمبلی کے حلقے پی کے 23 شانگلہ میں خواتین کے 10 فیصد سے کم ووٹ کاسٹ کرنے پر انتخابات کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ الیکشن کا حکم دے دیا۔ پی کے 23 شانگلہ سے تحریک انصاف کے امیدوار شوکت علی یوسفزئی 17 ہزار 399 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے۔اس حلقے میں خواتین ووٹرز کی تعداد 86698 ہے لیکن 25 جولائی کو پولنگ کے دن صرف 3505 خواتین نے ووٹ ڈالے، جو کہ الیکشن کمیشن کے قوانین کے خلاف ہے۔چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار محمد رضا کی سربراہی میں 5 رکنی کمیشن نے آج پی کے 23 شانگلہ میں خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ کم ہونے کے معاملے پر سماعت کی۔ سماعت کے دوران شوکت یوسفزئی کے وکیل پیش ہوئے اور دلائل کے دوران کہا کہ پی کے 20 میں خواتین کا ٹرن آؤٹ 10 فیصد سے کم رہا۔ ہر پولنگ اسٹیشن پر بڑی تعداد میں سیکیورٹی اور پولنگ اہلکار تھے۔وکیل کے مطابق ولی خان کے سوا کسی نے خواتین کے کم ووٹ کاسٹ کیے جانے کی شکایت نہیں کی۔جس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ 'اگر کوئی بھی شکایت نہ کرتا تو ہم اپنے ریکارڈ سے از خود نوٹس لے سکتے ہیں'۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ 'آپ کے خیال میں ہم اپنی اس مہم میں کامیاب نہیں ہوئے کہ خواتین آکر ووٹ ڈالیں'۔چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ 'گزشتہ انتخابات میں دیر میں خواتین کے ووٹ پول نہ ہونے پر ضمنی انتخاب کروایا گیا تھا، آپ نے دیکھا اس بار دیر سے کتنا اچھا ٹرن آوٹ رہا اور اپر دیر میں خواتین کا ٹرن آؤٹ 30 فیصد ہے'۔سماعت کے بعد الیکشن کمیشن نے اس معاملے پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور بعدازاں فیصلہ سناتے ہوئے پی کے 23 کے انتخابی نتائج کو کالعدم قرار دے کر دوبارہ انتخابات کو حکم دے دیا۔

الیکشن ٹریبونل ،کمیشن

مزید : صفحہ اول