اداروں کی ساکھ

اداروں کی ساکھ
اداروں کی ساکھ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان آفس کے باہر اپوزیشن کے مشترکہ احتجاج سے مولانا فضل الرحمٰن کے خطاب سے اس طوفان سے علیحدہ طوفان برپا ہوگیا ہے، جو عام انتخابات میں پری پول اور پوسٹ پول رگنگ کے سبب برپا تھا۔ اداروں کے حوالے سے تقاریر اور اجتماع میں لگائے جانے والے انتہائی قابلِ اعتراض نعروں نے ماحول کو مکدر کردیا ہے ، ہر کوئی پوچھ رہا ہے کہ یہ کیا ہورہا ہے ؟ لیکن واضح رہے کہ اس سے قبل نون لیگ کے قائد نواز شریف اور بعد میں انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر فرحت اللہ بابر نے بھی ایسے ہی الزامات عائد کئے تھے۔ 2013ء کے عام انتخابات کے بعد خود تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان فوج کے ایک بریگیڈیئر پر دھاندلی کے حوالے سے ایسے ہی الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ ادھر بلوچستان میں جب ثناء اللہ زہری حکومت کا تختہ اُلٹا گیا تو بھی فوج کے بعض ایک حاضر سروس افسروں پر ایسے ہی الزامات سننے کو ملے تھے۔

جنرل مشرف کے دور میں وزیر اطلاعات اور قومی معاملات پر ان کے مشیر جاوید جبار نے ایک مضمون کے ذریعے تجویز کیا تھا کہ فوج کو سیاسی فورس کے طور پر تسلیم کرلیا جائے اور اسے حکومت میں پارٹنر بنالینا چاہئے۔ دوسرے الفاظ میں انہوں نے فوج کے آئینی کردار کے تعین کی تجویز پیش کی تھی، جس پر تنقید ہوئی تھی اور کہا گیا تھا کہ ایسی کوئی بھی تجویز انتہائی خطرناک بات ہے۔

دیکھا جائے تو فوج کے آئینی کردار کی بحث پرانی ہے۔ ماضی میں جرنیل بغیر کسی وجہ کے اقتدار پر قابض ہوتے رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہتے رہے ہیں کہ فوج کا حکومتی معاملات میں عمل دخل ایک غلط فعل ہے۔ یہ بات اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے کہ آئے روز کی فوجی مداخلت سے ملک بے حد کمزور ہو چکا ہے۔ اس سے بین الاقوامی سطح پر پاکستانیوں کا تعارف بطور ایک مہذب اور پختہ قوم کے مجروح ہوا ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ میڈیا کے بعض ایک حصے فوجی مداخلتوں کے جواز گھڑنے میں پیش پیش رہے ہیں اور بعض صحافیوں پر انٹیلی جنس ایجنسیوں سے تعلقات کا الزام بھی لگتا رہا ہے جووہی بولی بولتے نظر آئے ہیں جو ان کے آقاؤں کی خواہش رہی ہے۔ اس کے باوجود ہر فوجی حکمران اپنے اقتدار کے آخری دن تک سیاسی طور پر دفاعی پوزیشن اختیارکئے رہا ہے اور کوئی بھی اقتدار پر دہائیوں کے قبضے کے باوجود عوام کی نظر میں قدرو منزلت نہیں پاسکا ہے ۔

میدان سیاست میں کردار ادا کرنے سے خود فوج کے اندر بھی تقسیم کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ ایسا پہلے بھی ہوچکا ہے اور ایک سے زیادہ مرتبہ ہو چکا ہے اور ایک ڈکٹیٹر کی جگہ دوسرا ڈکٹیٹر لیتا رہا ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے استعفے پر دستخط کئے تو جنرل یحییٰ خان اپنے کمرے میں بھنگڑا ڈالتے پائے گئے تھے۔ پھر جنرل یحییٰ خان کو بھی ایک اعتبار سے دھکے دے کر نکالا گیا۔ جنرل گل حسن اور جنرل رحیم خان نے 1971ء کے مخصوص حالات کے سبب اقتدار پر قبضہ تو نہیں کیا، مگر انہوں نے جنرل یحییٰ کو اقتدار سے باہر کردیا۔اسی طرح جنرل ضیاء الحق نے اپنے اقتدار کو طول دیا اور اس عالم میں دار فانی سے کوچ کرگئے کہ اصل اختیار اگلے آرمی چیف کے پاس جا چکا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کے طیارے کے حادثے کے ضمن میں غفلت یا کسی قسم کا کردار ادا کرنے پر یونیفارم یا بغیر یونیفارم والے کسی سرکاری افسر کو سزا نہیں ہوئی تھی، یہاں تک کہ کسی کو معطل تک نہیں کیا گیا ، مقدمہ قائم کرنے کی بات توبہت دورکی ہے۔

فیلڈ مارشل ایوب خان اور جنرل یحییٰ پر پاکستان توڑنے کا الزام لگتا ہے، جبکہ جنرل ضیاء الحق پر ملک میں کلاشنکوف کلچراور خطے میں مستقل جنگ کا الزام لگتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے اندر سیاسی طور پر لوگ بری طرح تقسیم ہوئے اور نسل ، رنگ، زبان اور فرقے کی بنیاد پر قتل و غارت گری کا بازار گرم رہا۔ ادھر جنرل مشرف پر افغان جنگ پاکستان میں لے آنے کا الزام ہے۔ انہیں بھی جنرل کیانی سے گلہ تھا کہ وہ ان کی توقعات پر پورا نہیں اترے۔

اب جبکہ فوج جیسے ادارے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کے حوالے سے بھی سابق وزیراعظم نواز شریف کھل کر بات کرتے رہے ہیں ، وقت آگیا ہے ایک انکوائری کمیشن قائم کیا جائے جو انتخابات میں ان دو اداروں کے حوالے سے لگائے گئے الزامات کی تحقیق کرے اور اگر کوئی انفرادی طورپر انتخابات میں دھاندلی میں ملوث رہا ہے تو ذمہ داری کا تعین کیا جائے اور باقی کے ادارے کو کلیئرنس سرٹیفکیٹ دیا جائے، کیونکہ پاکستان ان اداروں کی ساکھ کی تباہی برداشت نہیں کرسکتا ہے۔

مزید : رائے /کالم